نئی دہلی: بھارتی جمہوریت کی تاریخ میں 26 مئی ایک انتہائی اہم اور یادگار تاریخ کے طور پر درج ہے۔ سال 2014 میں اسی روز نریندر مودی نے ملک کے پندرہویں وزیر اعظم کے طور پر حلف لیا تھا اور اسی کے ساتھ بھارتی سیاست میں ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ نئی دہلی کے تاریخی راشٹرپتی بھون میں منعقدہ ایک شاندار تقریب میں انہوں نے وزیراعظم کے عہدے اور رازداری کا حلف اٹھایا۔ اس تقریب کو صرف اقتدار کی تبدیلی نہیں بلکہ ملکی سیاست اور حکمرانی کے نظام میں نئی سمت کے آغاز کے طور پر دیکھا گیا۔ لوک سبھا انتخابات 2014 میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے تاریخی کامیابی حاصل کرتے ہوئے واضح اکثریت حاصل کی تھی۔ طویل عرصے بعد کسی ایک جماعت کو مکمل اکثریت ملنے سے ملک میں سیاسی استحکام کی نئی امید پیدا ہوئی۔ انتخابی مہم کے دوران بھارتیہ جنتا پارٹی نے ترقی، بہتر حکمرانی اور مضبوط قیادت کو اپنا بنیادی نعرہ بنایا تھا، جس پر عوام نے بھرپور اعتماد کا اظہار کیا۔
حلف برداری کی تقریب میں ملک اور بیرون ملک سے کئی اہم شخصیات نے شرکت کی۔ سیاسی رہنماؤں، صنعت کاروں، ثقافتی شخصیات اور غیر ملکی نمائندوں کی موجودگی نے تقریب کو غیر معمولی اہمیت بخشی۔ صدرِ جمہوریہ نے نریندر مودی کو عہدے کا حلف دلایا، جس کے بعد انہوں نے ہندی زبان میں آئین سے وفاداری اور ملک کی خدمت کا عہد کیا۔ تقریب کے دوران شرکاء میں جوش و خروش کا ماحول نمایاں طور پر دیکھا گیا۔ وزیراعظم بننے کے بعد اپنے ابتدائی خطاب میں نریندر مودی نے ملک کی ترقی کو حکومت کی اولین ترجیح قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد سماج کے ہر طبقے تک ترقی کے ثمرات پہنچانا ہے۔ غربت، بے روزگاری، تعلیم اور صحت جیسے اہم مسائل سے نمٹنے کے لیے وسیع منصوبوں کا اعلان بھی کیا گیا۔ اس کے ساتھ انہوں نے عوام سے ملک کی تعمیر میں فعال کردار ادا کرنے کی اپیل کی۔
مودی حکومت کے پہلے دورِ اقتدار میں کئی بڑے فیصلے اور منصوبے سامنے آئے۔ اشیا و خدمات ٹیکس یعنی جی ایس ٹی نافذ کرکے ملک کے ٹیکس نظام میں بڑی تبدیلی لائی گئی۔ ’’میک اِن انڈیا‘‘ مہم کے ذریعے ملک میں صنعتی پیداوار اور مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے کی کوشش کی گئی، جبکہ ’’سوچھ بھارت مشن‘‘ کے ذریعے صفائی کو عوامی تحریک بنانے پر زور دیا گیا۔ اسی طرح ڈیجیٹل انڈیا، جن دھن یوجنا اور اجولا یوجنا جیسی اسکیموں نے بھی عوامی زندگی پر گہرا اثر ڈالا۔ قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے میدان میں بھی مودی حکومت نے سرگرم کردار ادا کیا۔ بھارت نے عالمی سطح پر اپنی موجودگی کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کی اور کئی ممالک کے ساتھ تعلقات کو نئی سمت دی۔ حکومت نے بنیادی ڈھانچے، ریلوے، سڑکوں اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تیزی سے ترقیاتی کاموں پر خصوصی توجہ دی۔
نریندر مودی کا سیاسی سفر بھی عوام کے لیے ایک مثال سمجھا جاتا ہے۔ ایک عام خاندان سے تعلق رکھنے والے مودی نے اپنی محنت اور جدوجہد کے ذریعے ملک کے اعلیٰ ترین جمہوری عہدے تک رسائی حاصل کی۔ گجرات کے وزیر اعلیٰ کے طور پر شناخت بنانے کے بعد انہوں نے قومی سیاست میں اپنی الگ جگہ قائم کی۔ ان کی کامیابی نے کروڑوں لوگوں کو یہ یقین دلایا کہ محنت، عزم اور مستقل مزاجی کے ذریعے کسی بھی منزل کو حاصل کیا جا سکتا ہے۔ 26 مئی 2014 کا دن اسی لیے بھارتی سیاست میں ایک نئے باب کے آغاز کے طور پر یاد کیا جاتا ہے، جس کے اثرات آج بھی ملک کی سیاست، پالیسیوں اور حکمرانی کے نظام میں واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
جھارکھنڈ ہائی کورٹ نے زمین سے متعلق منی لانڈرنگ کیس میں کارروائی روکنے کی درخواست…
ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی کی جانب سے نندی گرام میں کانگریس امیدوار کی…
جلیل اختر کو 19 جون کو پولیس نے حراست میں لیا تھا، عدالت نے سرکاری…
ٹرانسپورٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ قوانین پر عمل یقینی بنانا ضروری ہے، لیکن ضابطے…
مرکزی وزیر کرن رجیجو نے اردو صحافت کی شاندار روایت، بدلتے دور میں اس کے…
13 ستمبر کو بھارت نے پہلا میچ 7 وکٹ سے جیتا، جب کہ دوسرے مقابلے…