قومی

گیان واپی مسجد اورمتھرا شاہی عیدگاہ پرکیا ہے مولانا محمود مدنی کا موقف؟ سوشل میڈیا پر ٹرول ہونے کے بعد جاری کیا وضاحتی بیان

نئی دہلی: جمعیۃ علماء ہند کے صدرمولانا محمود مدنی نے نیوزایجنسی اے این آئی کودیئے گئے اپنے انٹرویومیں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آرایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت کے حالیہ بیانات کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ مسلم کمیونٹی اورآرایس ایس کے درمیان مکالمہ ہونا چاہئے۔ اس کے بعد مختلف نیوزچینل میں یہ خبربھی چلائی گئی کہ مولانا محمود مدنی نے کہا ہے کہ گیان واپی، متھرا اورکاشی جیسے معاملات پرآرایس ایس کی کوششوں کوسراہا جانا چاہئے۔ حالانکہ اب مولانا محمود مدنی کی طرف سے ایک وضاحتی بیان جاری کیا گیا ہے۔ یہ بیان جمعیۃ علماء ہند کے سکریٹری نیازاحمد فاروقی کی طرف سے جاری کیا گیا ہے۔

مولانا محمود مدنی نے نشرکی گئی خبروں کی تردید کی

جمعیۃ علماء ہند کے صدرمولانا محمود مدنی کی طرف سے جاری بیان میں لکھا گیا ہے کہ مختلف میڈیا چینلوں نے نیوزایجنسی اے این آئی کے حوالے سے بعض اخبارات میں یہ خبرشائع کی ہے کہ مولانا محمود اسعد مدنی نے اپنے انٹرویومیں کہا ہے کہ ’’گیان واپی مسجد یا متھرا شاہی جامع مسجد کے سلسلے میں دونوں کمیونٹی کے لوگ آپس میں بیٹھ کربات کریں۔‘‘ یہ خبرسراسربے بنیاد اورغلط ہے۔

مولانا محمود مدنی نے کیا یہ بڑا دعویٰ

 مولانا محمود مدنی نے اپنے پورے انٹرویومیں نہ توایسا کوئی بیان دیا ہے اورنہ ہی اس تعلق سے کوئی سوال یا جواب آیا ہے۔ مولانا مدنی نے دوران انٹرویو ایک سوال میں جواب میں آرایس ایس سربراہ موہن بھاگوت جی کی طرف سے دوکمیونیٹیوں کے مابین اچھے اورخوشگوار روابط اورباہمی رشتوں کواستوارکرنےکےلیے ڈائیلاگ سے متعلق کسی بھی پیش رفت کی تحسین کی ہے۔ انہوں نے اس تناظرمیں 2023 میں منعقد جمعیۃ علماء ہند کے 34ویں اجلاس عام کے خطبہ صدارت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہماری جماعت نے اس سے متعلق پہلے ہی تجویز منظوری کی تھی، جس میں باہمی گفت وشنید کو ہی تمام مسائل کا حل بتایا تھا اور آرایس ایس کے سرسنگھ چالک اوران کے متبعین کوگرم جوشی کے ساتھ دعوت دی گئی تھی کہ آئیے آپسی بھید بھاؤاوربغض وعناد کوبھول کر ایک دوسرے کو گلے لگائیں۔

گیان واپی مسجد اورمتھرا شاہی عید گاہ پربڑا دعویٰ

جمعیۃ علماء ہند کے صدر کی طرف سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ جہاں تک مسجدوں کا معاملہ ہے تواصل حقیقت یہ ہے کہ گیان واپی اورمتھرا وغیرہ جیسے معاملات میں فیصلہ کن اختیارمتعلقہ مسجد کمیٹیوں کا ہے، جوان مقدمات میں شرعی اورقانونی طورپرفریق ہیں اوروہ شرعی حد میں رہتے ہوئے کسی سے ڈائیلاگ کا حق رکھتے ہیں، جہاں تک متھرا کے معاملے کا تعلق ہے، وہاں 1968 میں باضابطہ طورپرعدالت کی نگرانی میں شاہی عیدگاہ کمیٹی اورشری کرشنا جنم استھان سیوا سنگھ کے درمیان تصفیہ پرمبنی معاہدہ ہوچکا ہے۔ اس لیے وہاں کوئی حقیقی تنازعہ نہیں ہےاورہونا بھی نہیں چاہئے۔

Nisar Ahmad

Recent Posts

Dhruv Rathi Detained by Delhi Police: دہلی پولیس کی بڑی کارروائی، سی جے پی کے احتجاج سے پہلے یوٹیوبر دھروو راٹھی حراست میں

کروڑوں فالوورز والے یوٹیوبر کو گروگرام میں ان کی رہائش گاہ سے حراست میں لیے…

21 minutes ago

Aligarh Muslim University: آٹھ سال بعد اے ایم یو طلبہ یونین کے انتخابات کا اعلان، وعدوں پر عمل اور یونیورسٹی کے مستقبل کا سوال

طلبہ یونین محض ایک انتخابی ادارہ نہیں، بلکہ طلبہ کی آواز، ان کی قیادت، سیاسی…

41 minutes ago

Mamata Accuses Delhi Police of Abduction: ممتا بنرجی کا دہلی پولیس پر ’اغوا‘ کرنے کا الزام، تھانے میں دھرنے پر بیٹھیں

ٹی ایم سی کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ ممتا بنرجی کو دہلی پولیس…

60 minutes ago

PM Modi’s Visit to Chennai: وزیر اعظم نریندر مودی کا چنئی دورہ، 13 ہزار کروڑ روپے سے زائد کے ترقیاتی منصوبوں کا دیں گے تحفہ

وزیر اعظم چنئی میٹرو ریل منصوبے کے دوسرے مرحلے میں پوناملّی-وڈاپالنی سیکشن کا افتتاح کریں…

1 hour ago