قومی

Maulana Jarjis Ansari: لنگر سے لے کر بھنڈارے تک سب سڑکوں پر، تو ہماری نماز کیوں نہیں؟ مولانا جرجیس انصاری کا حکومت سے سوال

اتر پردیش میں سڑکوں پر نماز ادا کرنے کی اجازت نہ ملنے کے معاملے پر مذہبی رہنما مولانا جرجیس انصاری سراجی نے ریاستی حکومت پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ایک جلسے سے خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ جب دیگر مذاہب کے تہوار اور تقریبات سڑکوں پر منعقد ہو سکتی ہیں تو مسلمانوں کو جمعہ کی نماز کے لیے چند منٹ کی اجازت کیوں نہیں دی جاتی۔ اس خطاب کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے۔

مولانا جرجیس انصاری سراجی نے اپنی تقریر میں کہا کہ ریاست میں مسلمانوں کے لیے ماحول سازگار نہیں رہا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ہندوؤں کے لنگر، بھنڈارے اور دیگر مذہبی پروگرام بڑی تعداد میں سڑکوں پر منعقد ہوتے ہیں۔ ہولی کے موقع پر رنگ سڑکوں پر پھیل جاتا ہے اور کانوڑیے بھی سڑکوں پر جلوس کی صورت میں گزرتے ہیں، لیکن مسلمانوں کو سڑک پر جمعہ کی نماز ادا کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں مسجد کے اندر ہی نماز پڑھنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ مولانا نے مزید کہا کہ اتر پردیش میں کانوڑیوں پر ہیلی کاپٹر سے پھولوں کی بارش کی جاتی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایسا خصوصی انتظام کیوں کیا جاتا ہے، جبکہ اگر کوئی اس پر اعتراض کرے تو اسے خاموش کرا دیا جاتا ہے۔ ان کے بیان کے مطابق ریاست میں مذہبی سرگرمیوں کے حوالے سے دوہرا معیار اپنایا جا رہا ہے۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ریاستی حکومت مدارس، لاؤڈ اسپیکر اور دیگر مذہبی امور پر سختی کر رہی ہے اور مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ ہندوؤں کو کھلی چھوٹ دی گئی ہے۔ مولانا جرجیس انصاری نے کہا کہ حکومت کا فرض ہے کہ وہ تمام شہریوں کے ساتھ یکساں سلوک کرے، لیکن موجودہ حالات میں ایسا نظر نہیں آتا۔ چند روز قبل مغربی بنگال میں بھی مولانا کا ایک بیان سامنے آیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اتر پردیش میں مسلمانوں کے حالات خراب ہیں اور مغربی بنگال کو زیادہ محفوظ قرار دیا تھا۔ اس بیان پر بھی سیاسی حلقوں میں بحث چھڑ گئی تھی۔

ادھر ریاستی حکومت کی جانب سے اس بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ تاہم حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ سڑکوں پر مذہبی اجتماعات کے حوالے سے انتظامیہ عوامی سہولت اور قانون و نظم کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کرتی ہے۔ مولانا کے بیان کے بعد سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں بحث تیز ہو گئی ہے۔ کچھ لوگ اسے اظہارِ رائے کی آزادی قرار دے رہے ہیں تو بعض حلقے اسے اشتعال انگیز بیان بھی کہہ رہے ہیں۔ معاملہ فی الحال سیاسی اور سماجی بحث کا موضوع بنا ہوا ہے اور دیکھنا ہوگا کہ حکومت اس پر کیا مؤقف اختیار کرتی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Sibghatullah

Recent Posts

Asian Games 2026: ایشین گیمز 2026 میں شاندار کارکردگی کے لیے تیار بھارتی شوٹنگ ٹیم، منو بھاکر پر رہیں گی نظریں

آئیچی-ناگویا ایشین گیمز میں بھارت کے 30 نشانے باز لیں گے حصہ، رائفل، پسٹل اور…

3 minutes ago

Asian Games: ایشین گیمز، سیمی فائنل میں بنگلہ دیش سے ٹکرائے گی بھارتی خواتین کرکٹ ٹیم، جانیں 20 ستمبر کا مکمل شیڈول

ایشین گیمز 2026 میں اتوار کو بھارت کے کئی اہم مقابلے، خواتین کرکٹ ٹیم کی…

41 minutes ago

IGI Airport Gold Smuggling: آئی جی آئی ایئرپورٹ پر 2.17 کلو سونا ضبط، دبئی سے آنے والے 2 مسافر حراست میں

کسٹمز کی ایئر انٹیلی جنس یونٹ نے خفیہ اطلاع اور مسافروں کی پروفائلنگ کی بنیاد…

1 hour ago

Samajwadi Party Poster War: ’کیو آر اسکین کریں، اپنی رائے بتائیں‘، یوپی میں سماج وادی پارٹی کا جین زی داؤ، دفتر کے باہر نیا پوسٹر

یوپی اسمبلی انتخابات 2027 سے پہلے سماج وادی پارٹی نے لکھنؤ میں اپنے دفتر کے…

1 hour ago

Telangana RPF Viral Video: تلنگانہ میں آر پی ایف اہلکار نے خاتون کو پیٹا، بال پکڑ کر گھسیٹا، ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ریلوے نے شروع کی جانچ

سکندرآباد میں جنوبی وسطی ریلوے کے حکام نے بتایا، متعلقہ اہلکار کی شناخت تلنگانہ ریاستی…

2 hours ago

Seva Sankalp Bike Yatra update: وزیر داخلہ امت شاہ گجرات کے وڈ نگر سے کاشی میں بائیک سواروں کا کریں  گے استقبال اور اختتامی تقریب میں کریں گے شرکت

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ جالھوپور میں واقع قومی فرانزک سائنس یونیورسٹی کا افتتاح بھی…

2 hours ago