آسام کے گولپارہ ضلع میں حکام نے ہفتے کے روز پیکان ریزرو جنگل میں 140 ہیکٹر اراضی کو صاف کیا، جس سے 1,080 خاندان بے گھر ہوئے، جن میں سے زیادہ تر بنگالی نژاد مسلمان ہیں۔ ضلع میں یہ دوسری بڑی بے دخلی مہم تھی۔ اس سے قبل 16 جون کو حکام نے گولپارہ قصبے کے قریب حاصلبیل میں 690 خاندانوں کے مکانات کو مسمار کر دیا۔
وہیں پچھلے مہینے آسام کے چار اضلاع میں کم از کم پانچ بے دخلی مہم چلائی گئی، جس سے تقریباً 3500 خاندان بے گھر ہوئے۔ گولپارہ کے ڈویژنل فارسٹ آفیسر نے بتایا کہ ہفتہ کو 2,700 ڈھانچوں کو منہدم کیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ زمین کرشنائی رینج کے پیکان ریزرو جنگل کا حصہ ہے۔
بے گھر لوگوں کے پاس رہنے کو نہیں ہے کوئی جگہ
بے دخلی مہم کے دوران بےگھر ہونے والے بیدیاپارہ ریونیو گاؤں کے رہائشی 28 سالہ میزان الرحمٰن نے کہا کہ اس کے اور اس کے خاندان کے آٹھ افراد کے پاس اب جانے کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ انھوں نے کہا ’’ہمارے پاس کہیں اور زمین نہیں ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’لوگ یہاں اس علاقے کو محفوظ جنگل قرار دینے سے پہلے سے ہی رہ رہے ہیں۔‘‘
آسام حکومت نے 1959 میں پیکان کو ایک ریزرو جنگل کے طور پر تشکیل دینے کی تجویز پیش کی تھی اور اسے 1982 میں ریزرو جنگل قرار دیا گیا تھا۔ 2022 میں گولپارہ لائرز ایسوسی ایشن نے ریاستی حکومت اور محکمہ جنگلات کو ایک میمورنڈم بھیجا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ اس علاقے میں زمین پر جنگلات کے حقوق اور متعدد افراد کے دعوؤں کا تصفیہ نہیں ہوا ہے۔
دریں اثنا ضلع وکلاء تنظیم کے صدر جیتن داس اور باڈی کے سکریٹری واجد علی نے کہا کہ گزشتہ 40 سالوں میں گولپارہ ضلع کے 472 گاؤں برہمپترا ندی کے کٹاؤ کی وجہ سے بہہ گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے نتیجے میں ہزاروں لوگ بے گھر اور بے زمین ہو گئے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا ’’ان میں سے بہت سے لوگوں نے، اپنی بقا کا کوئی متبادل نہ پا کر PRF کی زمین میں پناہ لی ہے۔‘‘ وہیں ضلعی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ علاقے میں رہنے والے لوگوں کی اکثریت نے بے دخلی مہم شروع ہونے سے پہلے ہی اپنے مکانات چھوڑ دیے تھے اور نقل مکانی کر چکے تھے۔ اس دوران 1000 سے زیادہ پولیس اہلکار تعینات تھے اور تقریباً 40 بلڈوزر استعمال کیے گئے۔
گزشتہ آٹھ سالوں میں 10 ہزار سے زیادہ لوگوں کو کیا گیا ہے بےدخل
اس سے قبل گزشتہ ہفتے ضلع دھوبری میں، جہاں سے بے دخلی کی مہم کے نتیجے میں 1,400 بنگالی نژاد مسلم خاندانوں کے گھر مسمار کیے گئے، تاہم حکام نے متاثرہ افراد کی بحالی کے لیے زمین مختص کی تھی۔ انتظامیہ نے رہائشیوں کو اپنا سامان پہنچانے کے لیے ایک وقتی ریلیف کے لیے 50,000 روپے بھی مختص کیے تھے۔ دریں اثنا ریاستی ریونیو اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق، 2016 اور اگست 2024 کے درمیان، 10,620 سے زیادہ خاندانوں کو ، جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی، سرکاری زمین سے بے دخل کیا گیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
نئی دہلی میں منعقدہ 11ویں سنت ایشور سمان میں خدمات انجام دینے والی شخصیات اور…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی ہندوستان کی بیٹیوں کو گولڈ میڈل جیتنے پر…
راجہ وڈنگ کے استعفے کے چند گھنٹے بعد کانگریس نے پرگٹ سنگھ کو پنجاب پردیش…
ارادھنا مشرا پرتاپ گڑھ کی رام پور خاص اسمبلی نشست سے کانگریس کی رکن اسمبلی…
نیرو ڈھانڈا کی کارکردگی کے اعتراف میں انہیں اختتامی تقریب میں ہندوستانی دستے کی قیادت…
گاندھی جینتی پر دہلی سمیت کئی شہروں میں SIR اور مبینہ ’ووٹ چوری‘ کے خلاف…