نئی دہلی: معروف بین الاقوامی سیکورٹی اور اربن وارفیئر کے ماہر جان اسپینسر نے کہا ہے کہ آپریشن سندور صرف پاکستان کے لیے نہیں بلکہ دنیا کے لیے ایک پیغام تھا کہ ہندوستان نہ صرف صلاحیت رکھتا ہے، بلکہ نپے تلے اور باہمت انداز میں ردعمل دینے کی قوت بھی رکھتا ہے۔ نیویارک میں واقع ماڈرن وار انسٹیٹیوٹ کے چیئر برائے اربن وارفیئر اسٹڈیز اسپینسر نے کہا کہ اس کارروائی کے دوران دنیا نے ہندوستانی مقامی دفاعی نظام کو چینی ساختہ پاکستانی نظام کے مقابلے میں براہ راست آزمائش میں دیکھا۔
چین پاکستان کو تجربہ گاہ کے طور پر استعمال کرتا ہے
اسپینسر نے کہا کہ پاکستان ایک چینی ہتھیاروں سے لیس فوج ہے، لہٰذا یہ جنگ دراصل چینی فوجی ٹیکنالوجی کا بھی امتحان تھا — نہ صرف دنیا کے لیے بلکہ چین کے لیے بھی۔ چین پاکستان کو اپنی ٹیکنالوجی کی تجربہ گاہ کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ترکی بھی پاکستان کو کچھ دفاعی صلاحیتیں فراہم کرتا ہے، اس لیے یہ تنازعہ ایک طرح کی پراکسی جنگ کا رنگ لیے ہوئے تھا۔
ثبوت سیٹلائٹ اور ویڈیو میں تھا، دعوؤں میں نہیں
اسپینسر نے چینی ہتھیاروں کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اصل ثبوت ویڈیوز اور سیٹلائٹ امیجری میں تھا — نہ کہ ان دعووں میں کہ چینی سسٹم کیسا چلا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا نے اس آپریشن کو بغور دیکھا اور اس سے کئی ممالک نے سبق حاصل کیا۔
آپریشن سندور: چار دن نہیں، ایک دہائی کی تیاری کا نتیجہ
جان اسپینسر کے مطابق، آپریشن سندور صرف چند دن کی کارروائی نہیں تھی، بلکہ اس کے پیچھے ہندوستانی فوج کی برسوں کی تیاری، جدید ٹیکنالوجی، چھوٹے کاروباری انوویشن اور دفاعی اصلاحات شامل تھیں۔ میں اس لیے آپریشن سندور کا مطالعہ کر رہا ہوں کیونکہ اس میں محض چار دن نہیں، بلکہ پانچ سال کی تیاری شامل تھی۔
ہندوستان مستقبل کی جنگوں کے لیے زیادہ تیار ہے
انھوں نے کہا کہ جنگ کا وقت کوئی پیشگوئی نہیں کر سکتا، مگر تیاری ہی وہ راستہ ہے جس سے آئندہ جنگوں کو روکا جا سکتا ہے۔ ہندوستان کی پالیسی اور کارروائیوں کا پیٹرن واضح ہے — سرحد پار دہشت گردی کا جواب لازمی دیا جاتا ہے۔ اسی سے ایک دفاعی نظریہ ابھرتا ہے، جو دشمنوں کے لیے باعثِ تشویش بنتا ہے۔
پاکستان، چینی اسلحے اور یوزر ایرر
چینی ہتھیاروں کی ناقص کارکردگی پر اسپینسر نے طنزیہ انداز میں کہا کہ جب جو چیز خریدی گئی وہ کام نہ کرے، تو یا تو بیچنے والے سے شکایت کی جاتی ہے، یا پھر یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ یوزر ایرر ہوا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان جیسے ممالک جو معاشی مشکلات کا شکار ہیں، وہ مستقبل میں دیگر ممالک سے سستے مگر جدید ہتھیاروں کی تلاش کریں گے، لیکن چین کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ابھرا ہے۔
واضح رہے کہ 7 مئی 2025 کو ہندوستان نے پہلگام دہشت گرد حملے کے جواب میں پاکستان اور پاکستانی زیرِ قبضہ کشمیر (POK) میں موجود دہشت گردی کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تھا۔ اس کے بعد پاکستان کی فوجی جوابی کارروائی کا بھی بھرپور جواب دیا گیا اور اس کے ایئربیسز کو نشانہ بنایا گیا۔ دونوں ممالک کے ڈی جی ایم اوز کے درمیان بات چیت کے بعد فائر بندی پر اتفاق ہوا۔
دنیا نے دیکھا، ہندوستان نے سیکھا اور ثابت کیا
جان اسپینسر کے مطابق، یہ کارروائی صرف جواب نہیں بلکہ مستقبل کی جنگی حکمت عملیوں کے لیے ایک عملی مظاہرہ بھی تھی، اور ہندوستان نے یہ ثابت کر دیا کہ وہ نہ صرف دفاع کر سکتا ہے، بلکہ جدید ترین اور مقامی نظاموں کے ساتھ مؤثر حملہ آور بھی بن چکا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
نئی دہلی میں منعقدہ 11ویں سنت ایشور سمان میں خدمات انجام دینے والی شخصیات اور…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی ہندوستان کی بیٹیوں کو گولڈ میڈل جیتنے پر…
راجہ وڈنگ کے استعفے کے چند گھنٹے بعد کانگریس نے پرگٹ سنگھ کو پنجاب پردیش…
ارادھنا مشرا پرتاپ گڑھ کی رام پور خاص اسمبلی نشست سے کانگریس کی رکن اسمبلی…
نیرو ڈھانڈا کی کارکردگی کے اعتراف میں انہیں اختتامی تقریب میں ہندوستانی دستے کی قیادت…
گاندھی جینتی پر دہلی سمیت کئی شہروں میں SIR اور مبینہ ’ووٹ چوری‘ کے خلاف…