قومی

اترکاشی میں بادل پھٹنے سے بھاری جانی ومالی نقصان پر مرکزی جمعیت اہلحدیث کے امیر مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی کا اظہاررنج وغم

نئی دہلی: مرکزی جمعیت اہل حدیث ہندکے امیرمولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی نے اتراکھنڈ کے شہراترکاشی میں بادل پھٹنے کی وجہ سے آئے تباہ کن سیلاب سے جوبھاری جانی ومالی نقصان ہوا ہے، اس پراپنے شدید رنج وغم کا اظہارکیا ہے اوراسے قومی سطح کا المیہ قراردیا ہے۔ اچانک آئے اس بھاری سیلاب سے جوتباہی آئی ہے اورجس سے دھرالی گاؤں میں بڑی تعداد میں مکانات، ہوٹلس اورپوری کی پوری بستیاں بہہ گئی ہیں۔ اس نے قیامت کا منظر پیش کیا ہے۔ تباہ شدہ بستیوں میں اب بھی کچھ لوگوں کے ملبے میں دبے ہونے کا خدشہ ظاہرکیا جا رہا ہے، جس کے لیے صوبائی ومرکزی حکومتوں کوراحت رسانی کے کاموں میں مزید تیزی لانے اورفوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ باتیں مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند سے ذرائع ابلاغ کے نام جاری ایک بیان میں کہی گئی ہیں۔

پریس ریلیزکے مطابق، جمعیت کے امیرمولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی نے اس قدرتی آفت کے متاثرین کے ساتھ ساتھ ملک میں دیگرآفات مثلاً لینڈ سلائڈنگ کے متاثرین اورسیلاب زدگان سے اظہارہمدردی کی ہے اورکہا ہے کہ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند اپنی دیرینہ روایت کے مطابق ہرطرح کے تعاون اور ریلیف کے لیے تیارہے اورمتاثرہ علاقوں کے باشندگان سے اپیل کی ہے کہ ان مشکل حالات میں وہ صبروتحمل کا مظاہرہ کریں اورآپسی بھائی چارہ اور باہمی تعاون کا خاص خیال رکھیں۔ علاوہ ازیں تمام ہمدردان قوم سے بلاتفریق مذہب وملت اپیل کی ہے کہ وہ مصیبت زدہ افراد سے اظہاریکجہتی کرتے ہوئے مصیبت کی اس گھڑی میں ان کی خاطر خواہ امداد کریں۔

ساتھ ہی صوبائی ومرکزی حکومتیں جو راحت رسانی کے کام میں کافی مستعد نظرآرہی ہیں اورانہوں نے فوج، این ڈی آرایف، ایس ڈی آرایف اوردیگر ایجنسیوں کی تعیناتی کردی ہے، جو ایک ضروری اورمستحسن اقدام ہے۔ علاوہ ازیں ان سے یہ بھی اپیل کی ہے کہ متاثرین کی راحت رسانی، بازآباد کاری اورنقصانات کے معاوضہ کے سلسلہ میں مزید مناسب اقدامات کریں۔ اس میں کسی قسم کی تساہلی نہ برتی جائے اور انتظامیہ کو پوری طرح چوکس کردیا جائے۔
اصغرعلی امام مہدی سلفی نے زور دے کرکہا کہ اتنے بڑے پیمانے پراس طرح کی آفات، بلیات، سانحات، لینڈ سلائیڈنگ، سیلاب وغیرہ قدرتی نظام کا حصہ ہیں اورنظام قدرت سے چھیڑچھاڑاورانسانوں کے بے جا تصرفات مثلاً درختوں کی کٹائی، زمینوں کی کھدائی، پہاڑوں کی صفائی، آلودگی وغیرہ بھی ان کے منجملہ سبب بنتے ہیں۔ نیزیہ کہ اس طرح کی آفات، زمین پرہم انسانوں کے ظلم اورگناہوں کے عام ہونے کی وجہ سے بھی آتی ہیں اوراوربسا اوقات عبرت وموعظت اورآئندہ ہوشیاررہنے کے لیے آتی ہیں۔ لہٰذا بندوں کوچاہئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہوں اوراپنے گناہوں سے توبہ و استغفارکریں۔

بھارت ایکسپریس اردو

Nisar Ahmad

Recent Posts

JNU Students on Indefinite Hunger Strike: جے این یو میں طلبہ کی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال، یہ ہیں اہم مطالبات

طلبہ کا الزام ہے کہ بھوک ہڑتال کے دوران JNU کے وائس چانسلر نے چیف…

1 hour ago

Jantar Mantar Protest: جنتر منتر پر اپوزیشن کے احتجاج کے پیش نظر سکیورٹی سخت، دفعہ 163نافذ

سکیورٹی انتظامات کے تحت جنتر منتر کے آس پاس کے حساس مقامات پر اضافی پولیس…

2 hours ago

Navi Mumbai Airport: نوی ممبئی ایئرپورٹ سے اب سفر ہوگا انتہائی آسان، اڈانی گروپ نے شروع کیں ای-شیوائی بسیں

موسم سرما کے شیڈول سے قبل نوی ممبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے لیے مناسب کرائے والی…

12 hours ago