قومی

Marathi Compulsory: ممبئی میں آٹو و ٹیکسی ڈرائیوروں کے لیے مراٹھی زبان لازمی، یکم مئی سے سختی سے نفاذ کا اعلان

ممبئی: مہاراشٹر حکومت نے دارالحکومت ممبئی میں آٹو رکشا اور ٹیکسی ڈرائیوروں کے لیے مراٹھی زبان کو لازمی قرار دیتے ہوئے یکم مئی سے اس قانون پر سختی سے عمل درآمد کا اعلان کیا ہے۔ اگرچہ یہ ضابطہ پہلے سے موجود تھا، تاہم اب اسے مؤثر طریقے سے نافذ کرنے کی تیاری مکمل کر لی گئی ہے، جس کے بعد غیر مراٹھی بولنے والے ڈرائیوروں کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ حکام کے مطابق ماضی میں بڑی تعداد میں رکشا بیج اور پرمٹ جاری کیے گئے، جس کے نتیجے میں ایسے افراد بھی اس پیشے میں شامل ہو گئے جنہیں مراٹھی زبان کا علم نہیں تھا۔ حکومت کا ماننا ہے کہ مقامی زبان کا استعمال نہ ہونے سے مسافروں کو دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اسی لیے اب اس اصول کو سختی سے نافذ کیا جا رہا ہے۔

اس فیصلے سے قبل ہی مہاراشٹر نونرمان سینا (ایم این ایس) نے اپنی سطح پر تیاری شروع کر دی ہے۔ پارٹی کارکنان نے ممبئی کے مختلف علاقوں میں آٹو ڈرائیوروں کو جمع کر کے ان کی گاڑیوں پر مراٹھی زبان کے حق میں اسٹیکرز چسپاں کیے ہیں۔ ان اسٹیکرز پر لکھا ہے، ”مجھے مراٹھی سمجھ آتی ہے، میں مراٹھی بولتا ہوں، میری آٹو میں بیٹھیں“، جس کا مقصد عوام میں اعتماد پیدا کرنا اور ڈرائیوروں کو زبان سیکھنے کی ترغیب دینا ہے۔ ممبئی کے گورےگاؤں، ملاڈ، بوریولی اور اندھیری جیسے علاقوں میں ایم این ایس کے کارکنان نے بڑی تعداد میں آٹو رکشاؤں پر یہ اسٹیکرز لگائے۔ اسی طرح مضافاتی علاقے ملنڈ میں بھی پارٹی کی ٹرانسپورٹ یونٹ نے مہم چلائی اور ڈرائیوروں کو آگاہ کیا کہ یکم مئی سے مراٹھی زبان لازمی ہوگی، لہٰذا وہ اس کے لیے خود کو تیار کریں۔

کئی آٹو ڈرائیوروں نے حکومت کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ طویل عرصے سے ممبئی میں خدمات انجام دینے والے کچھ ڈرائیوروں کا کہنا ہے کہ مقامی زبان کا علم ہونا ضروری ہے اور اس سے مسافروں کے ساتھ بہتر رابطہ قائم ہوتا ہے۔ تاہم دوسری جانب بعض حلقوں نے اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام ہندی بولنے والی ریاستوں سے روزگار کی تلاش میں آنے والے افراد کے لیے ناانصافی کے مترادف ہے۔ ادھر آٹو اور ٹیکسی یونینز نے بھی اس فیصلے پر سوال اٹھائے ہیں۔ یونین رہنما ششانک راؤ نے کہا ہے کہ ریاست میں پہلے ہی مراٹھی زبان سے متعلق قانون موجود تھا، اس کے باوجود حکومت نے غیر مراٹھی بولنے والوں کو پرمٹ جاری کیے۔ انہوں نے سوال کیا کہ اب اچانک اس قانون کو سختی سے نافذ کرنے کی کیا ضرورت پیش آ گئی ہے۔

انہوں نے مزید الزام لگایا کہ یہ قدم آٹو اور ٹیکسی ڈرائیوروں کے روزگار کو متاثر کر سکتا ہے اور اس کے پیچھے نجی ٹرانسپورٹ کمپنیوں کو فائدہ پہنچانے کی کوشش ہو سکتی ہے۔ یونین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے ہزاروں ڈرائیور متاثر ہوں گے، جو برسوں سے ممبئی میں روزی روٹی کما رہے ہیں۔ یونین نے اس معاملے پر احتجاج کا اعلان بھی کیا ہے۔ ششانک راؤ کے مطابق 28 اپریل کو ٹرانسپورٹ وزیر کو ایک یادداشت پیش کی جائے گی، اور اگر حکومت نے اس فیصلے پر نظرثانی نہ کی تو 4 مئی سے ریاست بھر میں احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ فیصلہ ایک طرف مقامی زبان کے فروغ کا ذریعہ بن سکتا ہے، تو دوسری جانب روزگار اور سماجی ہم آہنگی کے حوالے سے نئے سوالات بھی کھڑے کر سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس پالیسی کے اثرات واضح طور پر سامنے آئیں گے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Sibghatullah

Recent Posts

Union Home Minister Amit Shah: بنگال جینتی پر امت شاہ نے ایشور چندر ودیا ساگر کو پیش کی خراج تحسین

امت شاہ نے ودیا ساگر کی تعلیمی خدمات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں…

2 hours ago

Dr. Manmohan Singh: پی ایم مودی، ملکارجن کھرگے، پرینکا گاندھی سمیت کئی لیڈروں نے سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کو یوم پیدائش پر کیا یاد

کانگریس رہنما پرینکا گاندھی نے بھی سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کو یاد کرتے ہوئے…

3 hours ago

CEC Gyanesh Kumar: گیانیش کمار کو جانا ہی ہوگا، کانگریس کا مطالبہ، کاکروچ جنتا پارٹی کا آج ختم ہو رہا ہےالٹی میٹم

کے سی وینوگوپال نے مرکزی حکومت کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے حکومت اور اس…

5 hours ago