قومی

Manoj Jha Statement: پٹنہ میں سی ای سی کے خلاف احتجاج پر منوج جھا بولے، ’جمہوریت کے لیے مشکل وقت، اب مسلسل ہوں گے مظاہرے‘

 راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ منوج جھا نے پٹنہ میں چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کے خلاف اپوزیشن کے احتجاج پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ آنے والے دنوں میں بھی ایسے مظاہرے جاری رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ وقت جمہوریت کے لیے انتہائی مشکل ہے اور اپوزیشن اس معاملے کو مسلسل اٹھاتی رہے گی۔ صحافیوں سے بات چیت کے دوران منوج جھا نے انتخابی عمل کی غیر جانب داری پر بھی سوال اٹھائے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ گیانیش کمار کی قیادت میں ہونے والے انتخابات کی شفافیت اور غیر جانب داری کو لے کر سنگین سوالات سامنے آئے ہیں۔ جھا نے کہا کہ ان سوالات کے پیچھے شواہد اور ثبوت موجود ہیں۔ ان کے مطابق سپریم کورٹ کی جانب سے ’فارم-6‘ کے حوالے سے کی گئی رائے بھی اس پورے معاملے میں اہم ہے۔ منوج جھا نے کہا کہ اپوزیشن اس معاملے کو صرف ایک دن کے احتجاج تک محدود نہیں رکھے گی۔ ان کے مطابق جمہوریت اور انتخابی عمل سے متعلق سوالات پر آئندہ بھی مسلسل آواز اٹھائی جائے گی اور احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔

شیوراج سنگھ چوہان کے بیان پر بھی نشانہ

مرکزی وزیر زراعت شیوراج سنگھ چوہان نے ’انڈیا اتحاد‘ کے الزامات پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ووٹ چوری نہیں ہوئی، ان کی عقل چوری ہوگئی ہے۔‘ ان کے اس بیان پر بھی منوج جھا نے پلٹ وار کیا۔ آر جے ڈی کے رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ اگر شیوراج سنگھ چوہان نے اس معاملے سے متعلق تحقیقاتی رپورٹ نہیں پڑھی ہے تو انہیں اسے ضرور پڑھنا چاہیے۔ جھا نے کہا کہ یہ الزامات اپوزیشن نے اپنی طرف سے نہیں گھڑے ہیں، بلکہ میڈیا اور دیگر اداروں نے محنت کے بعد اپنی رپورٹیں سامنے رکھی ہیں۔ منوج جھا نے شیوراج سنگھ چوہان پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ان سے یہ سب کچھ کہلوایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے شیوراج سنگھ چوہان کو پہلے وزیر اعلیٰ کے طور پر دیکھا ہے اور اب مرکزی وزیر کے طور پر دیکھ رہے ہیں، لیکن ان کے مطابق اس طرح کی تبدیلی ایک غیر معمولی مثال ہے۔

اپوزیشن کے اتحاد پر کیا بولے منوج جھا؟

کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کی جانب سے اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ کے لیے منعقد کیے جانے والے ظہرانے پر بھی منوج جھا نے ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی ملاقاتوں اور اپوزیشن رہنماؤں کی شرکت سے بننے والے اتحاد کا اصل اثر آنے والے دنوں میں نظر آئے گا۔ گزشتہ ظہرانے میں ترنمول کانگریس اور سماج وادی پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ کی مبینہ غیر موجودگی کے حوالے سے اٹھنے والے سوالات پر بھی جھا نے وضاحت پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ ترنمول کانگریس کے ارکان وہاں موجود تھے۔ ان کے مطابق کچھ ارکان پہلے ہی دہلی میں موجود تھے اور وہ اپوزیشن رہنماؤں کے ساتھ بس میں بھی موجود تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ پروگرام بہت کم وقت میں طے کیا گیا تھا، اس لیے تمام رہنماؤں کی موجودگی کے حوالے سے مختلف طرح کی خبریں سامنے آنا فطری تھا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

یوپی میں احتجاج کرنے پر نہیں ملے گی سرکاری نوکری؟ کیریکٹر کی تصدیق کے لئے سخت اصول جاری

نئے ضابطوں میں یہ وضاحت بھی کی گئی ہے کہ کسی امیدوارکے خلاف محض ایف…

17 minutes ago

Home Minister Amit Shah: سائیکلون ’ارنب‘ پر وزیر داخلہ امت شاہ کی 4 ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ سے بات، ہر ممکن مدد کی یقین دہانی

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے آندھرا پردیش، پڈوچیری، اڈیشہ اور چھتیس گڑھ کے وزرائے…

1 hour ago

Azam Khan gates Bell PAN Card Case: اعظم خان اورعبداللہ اعظم کو الہ آباد ہائی کورٹ سے ملی ضمانت، سزا معطل

سماجوادی پارٹی کے سینئرلیڈراعظم خان اورعبداللہ اعظم کوالہ آباد ہائی کورٹ نے دوپین کارڈ کیس…

2 hours ago

Jio IPO: جیو کی شیئر بازار میں دھماکے دار انٹری، 104 سے بڑھ کر 80 لاکھ ہوئے شیئر ہولڈرز

مکیش امبانی کی جیو پلیٹ فارمز کے شیئر ہولڈرز کی تعداد 104 سے بڑھ کر…

2 hours ago