قومی

Notice to Sanjay Singh and Pappu Yadav: منی کرنیکا گھاٹ کے نام پر جعلی اے آئی ویڈیو وائرل، سنجے سنگھ اور پپو یادو سمیت 8 افراد کو پولیس کا نوٹس

منی کرنیکا گھاٹ سے متعلق وائرل پوسٹس سے پیدا ہونے والے تنازعے کے معاملے میں اب پولیس نے سختی اختیار کر لی ہے۔ اس سلسلے میں منی کرنیکا گھاٹ کے نام پر جعلی اور اے آئی سے تیار کردہ ویڈیوز شیئر کرنے کے الزام میں آٹھ افراد کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی عام آدمی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ اور کانگریس کے حمایت یافتہ آزاد رکن پارلیمنٹ پپو یادو کو بھی نوٹس دیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ وائرل پوسٹس میں کاشی وشوناتھ کاریڈور میں واقع کُمبھ مہادیو مندر کی ویڈیوز کو منی کرنیکا گھاٹ کا بتا کر پیش کیا جا رہا تھا۔ پولیس نے جب معاملے کی جانچ کی تو ویڈیوز جعلی پائی گئیں، جس کے بعد کارروائی عمل میں لائی گئی۔

کیا ہے پورا معاملہ؟

پولیس کے مطابق سوشل میڈیا پر منی کرنیکا گھاٹ پر جاری تزئین و آرائش کے کام سے متعلق اصل حقائق کے برعکس جعلی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کی گئیں۔ ان پوسٹس کا مقصد لوگوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانا، غصہ بھڑکانا اور سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانا بتایا جا رہا ہے۔ اس کے تحت وشوناتھ دھام میں واقع کُمبھ مہادیو مندر کی اے آئی سے تیار کردہ تصاویر شیئر کرنے کا بھی الزام ہے۔ اس معاملے میں تمل ناڈو کے رہنے والے ایک شخص نے ایف آئی آر درج کرائی تھی، جس کے بعد پولیس نے سنجے سنگھ اور پپو یادو سمیت دیگر افراد کے خلاف کارروائی شروع کی۔ اس کے علاوہ ہریانہ کی کانگریس لیڈر جسویندر کور سمیت آٹھ افراد کو بھی گمراہ کن تشہیر کے الزام میں نوٹس بھیجے گئے ہیں۔

ایف آئی آر کس نے درج کرائی؟

وارانسی پولیس کے مطابق اس معاملے میں تمل ناڈو کے رہائشی کے وی سیتوراجاپورم نے ایف آئی آر درج کرائی ہے۔ ان کی کمپنی منی کرنیکا گھاٹ پر آخری رسومات سے جڑی سہولیات کو بہتر بنانے اور گھاٹ کی تزئین کاری کا کام کر رہی ہے۔ کے وی سیتوراجاپورم نے اپنی شکایت میں بتایا کہ ایکس (سابق ٹوئٹر) پر صارف آشوتوش پوٹنِس نے 16 جنوری کی رات اے آئی کی مدد سے تیار کی گئی گمراہ کن تصاویر شیئر کیں۔ ان تصاویر اور پوسٹس میں حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا، جس سے ہندوؤں کے مذہبی جذبات بھڑکے اور سماج کے ایک بڑے طبقے میں ناراضگی پھیلی۔

مودی حکومت کا اورنگزیب سے موازنہ

شکایت کنندہ کے مطابق آشوتوش پوٹنِس (اس معاملے کا ایک اور ملزم) نے وارانسی میں جاری انہدامی کارروائی کا موازنہ اورنگزیب سے کیا، جس سے حکومت پر یقین رکھنے والے لوگوں کے جذبات مجروح ہوئے اور سماجی ہم آہنگی متاثر ہوئی۔ اس پوسٹ کے بعد حکومت کے خلاف شدید تنقید ہوئی اور حالات کشیدہ ہو گئے۔

پولیس نے اور کیا کہا؟

پولیس کے مطابق کاشی وشوناتھ دھام کاریڈور میں واقع کُمبھ مہادیو مندر کو منی کرنیکا گھاٹ سے جوڑ کر گمراہ کن پوسٹس کی جا رہی ہیں۔ ایسے پوسٹس شیئر کرنے والوں کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے کاشی زون کی دو ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جو سوشل میڈیا کی نگرانی کر رہی ہیں۔ انہی ٹیموں نے جعلی تصاویر شیئر کیے جانے کے معاملے کو پکڑا اور نوٹس جاری کرنے کی سفارش کی۔ ڈی سی پی کاشی زون گورو بنسوال نے بتایا کہ ٹوٹی ہوئی مورتیوں اور مندروں کو بلا وجہ منی کرنیکا گھاٹ سے جوڑ کر وائرل کیا جا رہا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ کُمبھ مہادیو مندر مکمل طور پر محفوظ ہے اور وہاں باقاعدہ پوجا پاٹھ جاری ہے، اس کے باوجود اسے منہدم دکھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Todays Weather: موسم نے بدلا رخ! کئی علاقوں میں بارش اور گرج چمک کا امکان، آئی ایم ڈی نے جاری کی پیش گوئی

مانسون کی سرگرمیاں برقرار، بعض علاقوں میں بارش اور گرج چمک کا امکان؛ دہلی میں…

2 hours ago

Delhi IIC Bazm-e-Sahafat: ’اردو مسلمانوں کی نہیں، ہندوستان کی زبان ہے‘، بزمِ صحافت میں شاہنواز حسین کا اظہارِ خیال

بھارت ایکسپریس اردو کے تیسرے نیشنل کانکلیو میں اردو، صحافت اور نئی ٹیکنالوجی پر گفتگو،…

2 hours ago

Bharat Express Urdu Conclave: اردو کو رسم الخط میں نہ باندھو، یہ دلوں کی زبان ہے، بزمِ صحافت میں بولے شاہد صدیقی

اپنی پرانی یادیں تازہ کرتے ہوئے شاہد صدیقی نے بتایا کہ وہ اردو اخبارات کے…

3 hours ago