قومی

TMC vs BJP: ممتا بنرجی کا پی ایم مودی پر سخت حملہ، کہا-’’قوم سے خطاب میں ’’جھوٹ کا جال‘‘ پھیلائیں گے وزیراعظم‘‘

مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتابنرجی نے ہفتہ کے روز وزیراعظم نریندر مودی کے مجوزہ قومی خطاب سے قبل سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک بار پھر قوم سے خطاب میں ’’جھوٹ کا جال‘‘ پھیلائیں گے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خواتین کے ریزرویشن سے متعلق آئینی ترمیمی بل لوک سبھا میں مطلوبہ اکثریت حاصل نہ کر سکا اور سیاسی ماحول انتہائی گرم ہو چکا ہے۔ کولکاتا میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے بی جے پی حکومت پر الزام لگایا کہ وہ خواتین ریزرویشن کے نام پر دراصل ملک کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کے مطابق مجوزہ بل کا اصل مقصد حلقہ بندی (Delimitation) کے ذریعے لوک سبھا کی نشستوں میں اضافہ کر کے سیاسی فائدہ حاصل کرنا تھا۔ انہوں نے کہا ’’یہ خواتین کا بل نہیں تھا، میں خود 1998 سے خواتین کے ریزرویشن کے لیے جدوجہد کر رہی ہوں۔ یہ بل دراصل ملک کو تقسیم کرنے کے لیے لایا گیا تھا۔ بنگال اور دیگر غیر بی جے پی ریاستوں کو کمزور کرنے کی سازش تھی۔‘‘

نشستوں میں اضافہ اور سیاسی حکمت عملی

ممتا بنرجی نے دعویٰ کیا کہ حکومت 543 نشستوں کے بجائے 850 نشستیں کرنے کے منصوبے کے ذریعے انتخابی توازن کو بدلنا چاہتی تھی۔ ان کے مطابق بی جے پی کو خدشہ تھا کہ موجودہ حلقوں میں کامیابی مشکل ہے، اسی لیے وہ حلقہ بندی کے ذریعے نئے سیاسی حالات پیدا کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسی خدشے کے پیش نظر انہوں نے انتخابی مہم کے باوجود اپنی پارٹی کے تمام 21 ارکان پارلیمنٹ کو دہلی بھیجا تاکہ اس بل کو روکنے میں کردار ادا کیا جا سکے۔ وزیر اعلیٰ نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ دہلی میں ہونے والی حالیہ پیش رفت دراصل وزیراعظم کے سیاسی زوال کا آغاز ہے۔ ان کے مطابق عوام اب حکومت کے بیانیے کو سمجھ چکے ہیں اور اس طرح کے اقدامات کو قبول نہیں کریں گے۔

ٹی ایم سی رہنماؤں کی تنقید

ترنمول کانگریس کے دیگر رہنماؤں نے بھی وزیراعظم پر تنقید کی۔ پارٹی لیڈر برتیا بسو نے کہا کہ وزیراعظم کا انداز حکمرانی مکالمے کے بجائے یک طرفہ گفتگو (Monologue) پر مبنی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ گزشتہ کئی برسوں میں وزیر اعظم نے کوئی باضابطہ پریس کانفرنس نہیں کی، جس سے جمہوری شفافیت متاثر ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا ’’لوگ اب ان کی باتوں میں دلچسپی نہیں رکھتے، کیونکہ یہ یک طرفہ بیانیہ بن چکا ہے۔‘‘

پارلیمنٹ میں بل کی ناکامی

واضح رہے کہ خواتین کے ریزرویشن کے نفاذ سے متعلق آئینی ترمیمی بل لوک سبھا میں دو تہائی اکثریت حاصل نہ کر سکا۔ ووٹنگ کے دوران 298 ارکان نے بل کے حق میں جبکہ 230 نے مخالفت میں ووٹ دیا، جس کے باعث بل منظور نہیں ہو سکا۔ اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ وہ خواتین کے ریزرویشن کے خلاف نہیں، بلکہ اسے حلقہ بندی کے عمل سے جوڑنے پر اعتراض رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق اس سے مختلف ریاستوں کے درمیان نمائندگی کا توازن متاثر ہو سکتا ہے۔

وزیراعظم کا متوقع خطاب

ادھر وزیر اعظم اب سے تھوڑی دیر بعد قوم سے خطاب کرنے والے ہیں، جس میں توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اس بل کی ناکامی اور اپوزیشن کے رویے پر اپنا موقف پیش کریں گے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ تنازع نہ صرف پارلیمنٹ بلکہ ملک کی مجموعی سیاست پر گہرے اثرات ڈال سکتا ہے، اور آنے والے انتخابات میں یہ ایک بڑا انتخابی مسئلہ بن سکتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

UP New Congress President: ارادھنا مشرا بنیں یوپی کانگریس کی نئی صدر، عمران مسعود کار گزار صدر مقرر

ارادھنا مشرا پرتاپ گڑھ کی رام پور خاص اسمبلی نشست سے کانگریس کی رکن اسمبلی…

3 hours ago

Asian Games 2026: ایشین گیمز 2026 کی اختتامی تقریب میں نیرو ڈھانڈا ہوں گی ہندوستان کی پرچم بردار، ٹریپ شوٹر نے 2 گولڈ سمیت جیتے ہیں 3 تمغے

نیرو ڈھانڈا کی کارکردگی کے اعتراف میں انہیں اختتامی تقریب میں ہندوستانی دستے کی قیادت…

4 hours ago