مہاراشٹرکے مالیگاوں مہانگرپالیکا میں کسی ایک پارٹی کواکثریت نہیں ملی ہے۔ انڈین سیکولرلارجسٹ اسمبلی آف مہاراشٹر(اسلام پارٹی) سب سے بڑی پارٹی بن کرابھری ہے، لیکن اکثریت سے ان کا اتحاد تین سیٹیوں سے دورہے۔ 84 سیٹوں والے مالیگاوں میں 35 سیٹوں پرکامیابی ملی ہے۔ سماجوادی پارٹی نے پانچ سیٹیں جیتی ہیں۔ دونوں کوملاکر40 سیٹیں ہوتی ہیں، جواکثریت سے تین کم ہے۔ اسلام پارٹی اورسماجوادی پارٹی نے مالیگاوں مہانگرپالیکا الیکشن میں اتحاد کیا تھا۔ اس درمیان اے آئی ایم آئی ایم کے سابق رکن پارلیمنٹ امتیاز جلیل نے دعویٰ کیا کہ ایکناتھ شندے کی شیوسینا نے مالیگاوں مہانگر پالیکا میں حکومت بنانے کے لئے ان سے حمایت مانگی ہے۔
اے آئی ایم آئی ایم نے شیوسینا کوکیا دیا جواب؟
سابق رکن پارلیمنٹ امتیازجلیل نے اس کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ شیوسینا کی تجویزکوانہوں نے ازسرنوخارج کردیا اورکہا کہ ہم شیوسینا کے ساتھ نہیں جائیں گے۔ اے آئی ایم آئی ایم نے مسلم اکثریتی مالیگاوں میں 21 سیٹوں پرقبضہ کیا اورپارٹی دوسرے نمبرپررہی۔ یہاں بی جے پی کو2، ایکناتھ شندے کی پارٹی کو18 اورکانگریس کوتین سیٹوں پرجیت ملی ہے۔
کئی مقامات پرہم فیصلہ کن کردار میں: امتیازجلیل
امتیازجلیل نے کہا کہ تین چارمہانگرپالیکاوں میں ہماری پارٹی فیصلہ کن کردارمیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ان کے ساتھ کبھی نہیں جائیں گے، جوبی جے پی کے ساتھ ہیں۔ اس درمیان ذرائع کا کہنا ہے کہ مالیگاوں میں اے آئی ایم آئی ایم اوراسلام پارٹی کے درمیان بات چیت چل رہی ہے۔ دونوں مل کریہاں پراقتدارقائم کرسکتے ہیں۔
لاٹری سے میئرعہدے کے لئے طے ہوگا ریزرویشن
واضح رہے کہ مہاراشٹرحکومت نے ممبئی اور28 دیگرمیونسپل باڈیزکے میئروں کے الیکشن کا عمل شروع کردیا ہے اورمیئرعہدہ کس زمرے میں جائے گا، اس کا فیصلہ 22 جنوری کو لاٹری کے ذریعہ ہوگا۔ محکمہ شہری ترقیات نے ایک حکم جاری کرکے کہا ہے کہ یہ کام لاٹری کے ذریعہ یہ ریاستی سکریٹریٹ (وزارت) میں منعقد ہوگا۔ مہاراشٹرمیں میئروں کا الیکشن کونسلرکے ذریعہ کیا جاتا ہے اوریہ عہدہ روٹیشن کی بنیاد پرریزرویشن کے ماتحت ہوتا ہے۔ لاٹری کے ذریعہ سے یہ متعین کیا جاتا ہے کہ میئرکا عہدہ کس زمرے کے لئے ریزروہوگا، جیسے جنرل، خواتین، درج فہرست ذات (ایس سی)، درج فہرست قبائل (ایس ٹی) اوراوبی سی زمرہ۔
زمرے کے اعلان ہونے کے بعد اہل امیدواراپنی پرچہ نامزدگی داخل کرسکتے ہیں۔ اس کے بعد میونسپل باڈیزکے منتخب کونسلروں کی ایک خصوصی میٹنگ میں الیکشن منعقد کیا جاتا ہے۔ ایوان کی کل رکن تعداد کے نصف سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والا امیدوارمیئرمنتخب ہوتا ہے۔ کسی بھی سنگل پارٹی کوواضح اکثریت نہ ملنے کی صورت میں اتحاد فیصلہ کن کردار نبھاتے ہیں۔ ممبئی میں 15 جنوری کوہوئے الیکشن میں بی جے پی سب سے بڑی پارٹی بن کرابھری ہے۔ بی جے پی نے ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) میں 227 میں سے 89 سیٹیں جیت لی ہیں، تقریباً 30 سال بعد ٹھاکرے خاندان سے ملک کے سب سے امیرشہری ادارے کا کنٹرول چھین لیا ہے۔ نائب وزیراعلیٰ ایکناتھ شندے کی قیادت میں بی جے پی کی حلیف شیوسینا نے 29 سیٹوں پرکامیابی حاصل کی ہے۔ ریاست میں حال ہی میں 29 میونسپل باڈیزمیں انتخابات ہوئے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بل گیٹس نے این بی سی کی کرسٹن ویلکر سے انٹرویو میں کہا، ’’اے آئی…
29 جون کو سی بی ایس ای نے تین زبانوں کی پالیسی کے حوالے سے…
کے سی وینوگوپال نے مرکزی حکومت کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے حکومت اور اس…
فوج کے ترجمان کے مطابق، دونوں اعلیٰ فوجی افسران کے علاوہ وفد کے 12 ارکان…
پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیڈر کیپٹن…
آئچی-ناگویا ایشین گیمز 2026 میں بھارتی ایتھلیٹس نے ٹریک اینڈ فیلڈ میں دو سلور اور…