قومی

Major Decision by Modi Cabinet: مودی کابینہ کا بڑا فیصلہ، اسمال ہائیڈرو منصوبوں کے لیے 2584 کروڑ روپے منظور

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں مرکزی کابینہ نے چھوٹے پن بجلی منصوبوں (اسمال ہائیڈرو پروجیکٹس) کو فروغ دینے کے لیے 2,584.60 کروڑ روپے کی بڑی اسکیم کو منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کو ملک میں صاف توانائی اور دیہی ترقی کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔یہ اسکیم “اسمال ہائیڈرو پاور ڈیولپمنٹ اسکیم” کے تحت مالی سال 2026-2027 سے 2030-2031 تک نافذ کی جائے گی۔ اس کے تحت 1 سے 25 میگاواٹ صلاحیت کے منصوبے مختلف ریاستوں میں قائم کیے جائیں گے، خاص طور پر پہاڑی اور شمال مشرقی علاقوں میں، جہاں ایسے منصوبوں کے امکانات زیادہ ہیں۔

حکومت کے مطابق اس اسکیم سے بڑے پیمانے پر روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ منصوبوں کی تعمیر کے دوران تقریباً 51 لاکھ “مین ڈیز” کے برابر روزگار پیدا ہونے کی توقع ہے، جبکہ بعد ازاں ان کی دیکھ بھال اور آپریشن میں بھی مقامی سطح پر روزگار میسر آئے گا۔شمال مشرقی ریاستوں اور بین الاقوامی سرحد سے متصل اضلاع کے لیے خصوصی مالی مدد فراہم کی جائے گی۔ ان علاقوں میں فی میگاواٹ 3.6 کروڑ روپے یا کل لاگت کا 30 فیصد (جو کم ہو) دیا جائے گا، جبکہ ایک منصوبے کے لیے زیادہ سے زیادہ حد 30 کروڑ روپے مقرر کی گئی ہے۔دیگر ریاستوں کے لیے فی میگاواٹ 2.4 کروڑ روپے یا منصوبے کی لاگت کا 20 فیصد (جو کم ہو) فراہم کیا جائے گا، جس کی زیادہ سے زیادہ حد 20 کروڑ روپے فی پروجیکٹ ہوگی۔

سرکاری بیان کے مطابق اس اسکیم کے ذریعے دور دراز اور مشکل علاقوں میں موجود چھوٹے پن بجلی منصوبوں کی صلاحیت کو بہتر طریقے سے استعمال کیا جا سکے گا۔ اس مقصد کے لیے تقریباً 2,532 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔حکومت کو امید ہے کہ اس اسکیم کے تحت تقریباً 15,000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری آئے گی، جس سے نہ صرف صاف توانائی کو فروغ ملے گا بلکہ دیہی اور پسماندہ علاقوں میں ترقی کی رفتار بھی تیز ہوگی۔

اہم بات یہ ہے کہ ان منصوبوں میں استعمال ہونے والا 100 فیصد پلانٹ اور مشینری ملک میں تیار کی جائے گی، جس سے “آتم نربھر بھارت” مہم کو تقویت ملے گی اور مقامی صنعت کو بھی فائدہ ہوگا۔اس کے علاوہ ریاستوں کو تقریباً 200 منصوبوں کے لیے ڈیٹیلڈ پروجیکٹ رپورٹس (ڈی پی آر) تیار کرنے کی ترغیب دی جائے گی، جس کے لیے مرکز اور ریاستی ایجنسیوں کو 30 کروڑ روپے کی مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔

ماہرین کے مطابق اسمال ہائیڈرو پروجیکٹس کی خاص بات یہ ہے کہ یہ غیر مرکزی نوعیت کے ہوتے ہیں، جس کے باعث لمبی ٹرانسمیشن لائنز کی ضرورت کم پڑتی ہے اور بجلی کے ضیاع میں بھی کمی آتی ہے۔ماحولیاتی لحاظ سے بھی یہ منصوبے بہتر سمجھے جاتے ہیں کیونکہ ان میں بڑے پیمانے پر زمین کے حصول، جنگلات کی کٹائی یا لوگوں کی بے دخلی کی ضرورت نہیں ہوتی۔حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اسکیم نہ صرف توانائی کے شعبے کو مضبوط کرے گی بلکہ دور دراز علاقوں کی سماجی و معاشی ترقی، مقامی سرمایہ کاری اور طویل مدتی روزگار کے مواقع کو بھی فروغ دے گی، کیونکہ ایسے منصوبوں کی عمر عموماً 40 سے 60 سال یا اس سے زیادہ ہوتی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Amit Shah Bhopal Visit: بھوپال میں 5 روزہ ہائی ٹیک نمائش، 3 اکتوبر کو امت شاہ کریں گے افتتاح

مرکزی وزیر داخلہ و تعاون امت شاہ 3 اکتوبر کو بھوپال میں نئے فوجداری قوانین…

1 hour ago

LPU Phagwara Student Protest: پنجاب کی ایل پی یو میں پھر ہنگامہ، گیٹ بند کیے جانے پر بھڑکے طلبہ، کیمپس میں بھاری پولیس فورس تعینات

لولی پروفیشنل یونیورسٹی (LPU) فگواڑہ میں اتوار کی شام ایک بار پھر ہنگامے کی صورتحال…

1 hour ago