قومی

Mahmood Madani backs RSS’ suggestion: مولانا محمود مدنی نے آر ایس ایس کے ساتھ مکالمے کی حمایت کی، گیان واپی، متھرا اور کاشی جیسے معاملات پر آر ایس ایس کے قصیدے پڑھے

نئی دہلی: جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود مدنی نے جمعہ کے روزایک اہم انٹرویو میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آرایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت کے حالیہ بیانات کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ مسلم کمیونٹی اور آرایس ایس کے درمیان مکالمہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی تنظیم پہلے ہی اس حوالے سے قرارداد منظور کرچکی ہے اور اختلافات کے باوجود کوشش ہونی چاہیے کہ ان میں کمی لائی جائے۔ مولانا محمود مدنی نے کہا کہ گیان واپی، متھرا اور کاشی جیسے معاملات پرآرایس ایس کی کوششوں کو سراہا جانا چاہیے۔ انہوں نے زوردیا کہ ہر قسم کے مکالمے اور بات چیت کی حمایت کی جائے گی تاکہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دیا جا سکے۔

ایک خصوصی انٹرویو میں اے این آئی سے بات کرتے ہوئے محمود مدنی نے کہا کہ ان کی تنظیم پہلے ہی باہمی روابط کے حق میں قرارداد منظور کر چکی ہے۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ ’اختلافات‘ موجود ہیں لیکن ان کو کم کرنے کی کوششیں لازمی ہیں۔ انہوں نے کہا: ’’اختلافات اپنی جگہ ہیں، لیکن ہمیں انہیں کم کرنا ہے۔ میری تنظیم نے قرارداد پاس کی ہے کہ بات چیت جاری رہنی چاہیے۔ ہم ہر اس کوشش کی حمایت کریں گے جس سے مکالمہ اور مصالحت کو فروغ ملے۔‘‘

موہن بھاگوت کے بیانات کی تحسین

مولانا محمود مدنی کہا کہ حال ہی میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آرایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت نے گیان واپی اور متھرا-کاشی سے متعلق جو بیانات دیے ہیں، وہ مسلم برادری سے روابط قائم کرنے کی ایک اہم کوشش ہے اور اس کو سراہا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ’’آرایس ایس چیف کی جانب سے مسلم برادری سے روابط کی کوششوں کو سراہنا اور ان کی تعریف کرنا ضروری ہے۔ ہم ہر طرح کے مکالمات کی حمایت کریں گے۔‘‘

سیاسی زبان کے معیارپرتشویش

مولانا محمود مدنی نے حالیہ برسوں میں سیاسی زبان اورگفتگو کے معیارمیں کمی پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی، اپوزیشن رہنما اورمختلف ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ سبھی کی زبان میں شائستگی کم ہوئی ہے۔ انہوں نے آسام کے وزیراعلیٰ ہیمنت بسوا سرما کے بیانات کو ’’انتہائی توہین آمیز‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ریاست کا نگہبان ہونے کے ناطے انہیں ذمہ دارانہ زبان استعمال کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں اختلافات فطری ہیں، مگریہ نفرت یا دشمنی میں نہیں بدلنے چاہئیں۔

پہلگام دہشت گردانہ حملہ اور سول سوسائٹی کا کردار

مولانا محمود مدنی نے اپریل میں پہلگام میں پیش آنے والے پاکستان حمایت یافتہ دہشت گردانہ حملے کے بعد ملک کی سول سوسائٹی کے کردارکو’’انتہائی اہم‘‘ قراردیا۔ اس حملے میں 26 سیاح مارے گئے تھے، جن میں 25 بھارتی اورایک نیپالی شہری شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں نے مذہب پوچھ کرلوگوں کو قتل کیا تاکہ فرقہ وارانہ فسادات بھڑکیں، مگرعوام نے صبر وتحمل کا مظاہرہ کیا اور دشمن کے منصوبے کوناکام بنایا۔ مولانا مدنی نے اس کارنامے کو ’’آپریشن سندور‘‘ سے بھی بڑا کارنامہ قراردیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اورحزب اختلاف دونوں نے اس معاملے میں افواج کی حمایت کی، جوکہ ہرشہری کا فرض ہے۔

مسلمانوں کی نسل کشی کے بیانیے کو مسترد کیا

مولانا محمود مدنی نے غیر ملکی بیانیے کو رد کیا جس میں کہا جاتا ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کی نسل کشی کا خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پہلگام حملے کے بعد ایسا کوئی خطرہ ہوتا توحالات بگڑ سکتے تھے، مگرعوام اورسول سوسائٹی نے ہوش مندی کا مظاہرہ کیا۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تعریف

مولانا محمود مدنی نے کہا کہ پچھلے 10 برسوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پیشہ ورانہ مہارت میں اضافہ ہوا ہے، تاہم مزید بہتری اورشمولیت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے حکومت کی اس پالیسی کی بھی حمایت کی کہ پاکستان کے ساتھ ’’دہشت گردی اور بات چیت ساتھ ساتھ نہیں چل سکتی‘‘۔ ان کے مطابق ماضی میں پاکستان سے مذاکرات کا فائدہ نہیں ہوا، اس لیے موجودہ پالیسی درست ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Rahul Gandhi: ’گیانیش کمار نے فارم-6 میں غیر قانونی تبدیلی کر کے عہدے کا غلط استعمال کیا‘، راہل گاندھی کا بڑا الزام

راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری…

36 minutes ago