قومی

Maharashtra Politics: مہاراشٹر میں شیو سینا میں بغاوت کا بہار میں بھی پڑے گا بڑا اثر؟ کم ہوگی جے ڈی یو کی حیثیت! جانئے اب کیا ہے نمبرگیم

مہاراشٹر میں شیوسینا ادھو بالا صاحب ٹھاکرے (یوبی ٹی) میں بغاوت کی گونج بہارتک پہنچتی ہوئی نظرآرہی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ یہاں کسی پارٹی میں ٹوٹ ہونے کا خدشہ ہو یا کسی پارٹی کے اراکین پارلیمنٹ یا اراکین اسمبلی بی جے پی کی قیادت والی این ڈی اے میں پہنچ گئے ہیں۔ بلکہ برسراقتداراین ڈی اے اتحاد کی اہم پارٹی جنتا دل یونائیٹیڈ کی حیثیت کم ہوتی ہوئی نظرآرہی ہے۔ لوک سبھا میں جے ڈی یو کے 12 اراکین پارلیمنٹ ہیں۔ ان اراکین پارلیمنٹ کی بدولت جے ڈی یو، این ڈی اے کی اتحادی پارٹیوں میں نمبرگیم کے لحاظ سے چوتھے نمبرکی پارٹی ہے۔

حالانکہ اب شیو سینا یوبی ٹی کے 6 اراکین پارلیمنٹ کے ایکناتھ شندے کی شیوسینا میں جانے کے بعد این ڈی اے کا نمبرگیم بدل سکتا ہے۔ این ڈی اے کی پارٹیوں میں نمبرگیم کے لحاظ سے شیوسینا 7 اراکین پارلیمنٹ کے ساتھ پانچویں نمبرپرہے۔ لیکن اب شیوسینا یوبی ٹی کے 6 اراکین پارلیمنٹ کے ساتھ ایکناتھ شندے کی شیوسینا چوتھے نمبرپرچلی گئی ہے جبکہ جے ڈی یو کھسک کرپانچویں نمبرپرپہنچ گئی ہے۔

کیا ہے این ڈی اے کی موجودہ طاقت؟

موجودہ وقت میں شیوسینا (شندے گروپ) جے ڈی یو کے بعد پانچویں نمبرپرہے۔ فی الحال، نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) اوراس کی حمایتی پارٹیوں کے پاس لوک سبھا میں کل 312 نشستیں ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے پاس سب سے زیادہ 240 ممبران پارلیمنٹ ہیں۔ اتحاد کے دیگربڑے حلیفوں میں این سی پی آئی (ٹی ایم سی کے باغی) کے 20 ممبران پارلیمنٹ شامل ہیں، یہ ایک ایسا گروپ ہے، جومغربی بنگال میں ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) سے الگ ہوکراین ڈی اے کی حمایت کررہا ہے۔ اس کے علاوہ آندھرا پردیش میں تیلگودیشم پارٹی (ٹی ڈی پی) کے 16 ممبران پارلیمنٹ شامل ہیں۔

چھوٹی چھوٹی پارٹیاں بھی این ڈی اے کا حصہ

بہارسے لوک جن شکتی پارٹی (رام ولاس) کے پانچ ممبران پارلیمنٹ بھی این ڈی اے کا اہم حصہ ہیں۔ اس اتحاد میں چھوٹی پارٹیوں کی بھی نمایاں شرکت ہے، جن میں جنتا دل سیکولر(جے ڈی-ایس)، جن سینا پارٹی (جے ایس پی) اورراشٹریہ لوک دل (آرایل ڈی) کے 2-2 اراکین پارلیمنٹ شامل ہیں۔ دریں اثنا، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی- اجیت پوار)، آسام گن پریشد (اے جی پی)، اپنا دل (سونے لال)، ہندوستانی عوام مورچہ (ایچ اے ایم)، سکم کرانتی کاری مورچہ (ایس کے ایم) اورآل جھارکھنڈ اسٹوڈنٹس یونین (اے جے ایس یو) ہرایک کے پاس ایک ایک سیٹ ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگرایکناتھ شندے کی فوج کا آپریشن ٹائیگرکامیاب ہو جاتا ہے تو پارٹی مرکزاورمہاراشٹرا دونوں جگہوں پراین ڈی اے کے اندرایک مضبوط سیاسی طاقت بن سکتی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو-

Nisar Ahmad

Recent Posts

Nitin Navin seeking his own identity in the shadow of Yogi: یوگی کے سائے میں اپنی سیاسی شناخت تلاش کرتے نتن نوین

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے قومی صدر نتن نوین آج گورکھپور پہنچے، جہاں…

8 hours ago

Mumbai Airport Flights: ممبئی سے نوی ممبئی منتقل ہوں گی 14 بین الاقوامی پروازیں، غیر ملکی ایئرلائنز نے ’ڈیسٹنیشن بیسڈ‘ منصوبے کی حمایت کی

ممبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل-1 کی ازسرنو تعمیر کے پیش نظر 14 بین الاقوامی مقامات کے…

9 hours ago

PM Modi Critical Minerals Processing Scheme: اب بھارت میں ہی ہوگا لیتھیم اور نکل کی پروسیسنگ، مودی کابینہ نے 2,814 کروڑ روپے کی اسکیم کو دی منظوری

مرکزی حکومت نے ’اہم معدنیات کی پروسیسنگ کو فروغ دینے کے لیے سرمایہ جاتی اخراجات…

10 hours ago

PM Modi Calls Sharad Pawar Health Update: اسپتال سے ڈسچارج ہوئے شرد پوار، وزیر اعظم مودی نے آرام کرنے کا دیا مشورہ

وزیر اعظم نریندر مودی نے این سی پی (ایس پی) کے سربراہ شرد پوار کو…

11 hours ago