مدراس ہائی کورٹ نے سروگیسی (کرائے کی کوکھ) کے ذریعہ اولاد حاصل کرنے کے خواہش مند جوڑوں سے متعلق ایک اہم فیصلہ سنایا ہے۔ عدالت نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ سروگیسی کے ذریعہ ماں بننے کی خواہش رکھنے والی خاتون 50 سال کی عمرمکمل کرنے کے بعد بھی 51 سال کی عمرمکمل ہونے تک اہل سمجھی جائے گی۔ یعنی جب تک خاتون 51 برس کی نہیں ہو جاتی، اسے 50 سال کی عمرکے دائرے میں شمارکیا جائے گا۔ یہ اہم فیصلہ جسٹس شمیم احمد نے سنایا۔ عدالت نے معاملہ دوبارہ مجسٹریٹ کے پاس بھیجتے ہوئے 4 ہفتوں کے اندراس کے تصفیے کی ہدایت دی ہے۔
ہائی کورٹ نے واضح کیا کہ سروگیسی (ریگولیشن) ایکٹ 2021 کے تحت جاری کردہ اہلیت (Eligibility) سرٹیفکیٹ کی قانونی حیثیت پرمجسٹریٹ ازسرِنوغورنہیں کرسکتا۔ عدالت کے مطابق مجسٹریٹ کا کردارصرف بچے کی سرپرستی (Guardianship)اور تحویل (Custody) سے متعلق احکامات تک محدود ہے۔ عدالت نے کہا کہ سرروگیسی (ریگولیشن) ایکٹ 2021 کی دفعہ 4(iii)(c)(I) میں مقررکردہ 23 سے 50 سال کی عمرکی حد کا مقصد خواتین کے حقوق کو محدود کرنا نہیں بلکہ انہیں سہولت فراہم کرنا ہے۔ لہٰذا اس دفعہ کی تشریح فراخ دلانہ اورفلاحی نقطۂ نظر کے ساتھ کی جانی چاہیے۔
مقدمے کے مطابق، نندھنی دیوی اوران کے شوہرکا اکلوتا بیٹا سال 2024 میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگیا تھا۔ اس سانحے کے بعد انہوں نے اپنی ایک رشتہ دارکی مدد سے سروگیسی کا سہارا لینے کا فیصلہ کیا۔ متعلقہ اتھارٹی نے انہیں اہلیت کا سرٹیفکیٹ بھی جاری کردیا تھا، تاہم نمکّل کی نچلی عدالت نے ان کی درخواست یہ کہتے ہوئے مسترد کردی تھی کہ درخواست دائر کئے جانے کے وقت نندھنی دیوی کی عمر50 سال 9 ماہ سے زائد تھی، اس لیے وہ مقررہ عمرکی حد سے تجاوزکرچکی ہیں۔
مجسٹریٹ نے یہ اعتراض بھی اٹھایا تھا کہ سرروگیٹ ماں کے شوہرکا بیان ریکارڈ نہیں کیا گیا۔ تاہم مدراس ہائی کورٹ نے مجسٹریٹ کے حکم کوکالعدم قراردیتے ہوئے کہا کہ ایک مرتبہ اہلیت کا سرٹیفکیٹ جاری ہو جانے کے بعد مجسٹریٹ اس کی خوبیوں یا خامیوں کا دوبارہ جائزہ نہیں لے سکتا۔ جب تک یہ ثابت نہ ہو کہ سرٹیفکیٹ غیرقانونی، دھوکہ دہی پر مبنی یا دائرۂ اختیارسے تجاوزکرتے ہوئے جاری کیا گیا ہے، اسے درست اورمؤثرتصورکیا جائے گا۔ عدالت نے مزید واضح کیا کہ سرروگیٹ ماں کے شوہرکومقدمے میں فریق بنانا یا اس کا بیان ریکارڈ کرنا قانون کی لازمی شرط نہیں ہے، کیونکہ متعلقہ قانون میں صرف خواہش مند جوڑے اورسرروگیٹ ماں کی درخواست کا ہی ذکر کیا گیا ہے۔
ہائی کورٹ نے یہ بھی کہا کہ سرروگیسی سے متعلق معاملات میں مجسٹریٹ کو حد سے زیادہ تکنیکی نقطۂ نظر اختیار نہیں کرنا چاہیے۔ ایسے معاملات میں بچے کے مفاد، خواہش مند والدین کے حقوق اور سروگیٹ ماں کی خودمختاری کا تحفظ بنیادی اہمیت رکھتا ہے، اس لیے ان پر فلاحی قانون کی روح کے مطابق غورکیا جانا چاہیے۔عدالت نے تمام مجسٹریٹوں کے لیے رہنما اصول بھی جاری کیے ہیں۔ ان میں فریقین کی شناخت کی تصدیق، سرروگیٹ ماں اوراس کے شوہرکی رضامندی، تجارتی سروگیسی نہ ہونے کی یقین دہانی اوربچے کوترک نہ کرنے سے متعلق حلف ناموں کی جانچ کو ضروری قراردیا گیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو-
اتر پردیش میں پیر کی دیر رات بڑا انتظامی ردوبدل کیا گیا۔ حکومت نے 34…
دہلی کے دیش بندھو گپتا روڈ تھانہ علاقے کے کشن گنج میں 7 سالہ بچی…
صدر جمہوریہ مختلف زمروں کے فاتحین کو دیں گی قومی فلم ایوارڈ، تقریب میں بالی…
فلم ’ہنومان انش‘ کی کامیابی کے بعد پروڈیوسر انوپریا ناگر ایودھیا پہنچیں، جہاں انہوں نے…
’ہندی میری جان 2026‘ کے دوسرے ایڈیشن میں 22 ستمبر کو انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر…
راؤز ایونیو کورٹ کے پرانے حکم کو منسوخ کرکے معاملہ دوبارہ مجسٹریٹ عدالت بھیجا گیا،…