قومی

Chhattisgarh High Court Status Report: چھتیس گڑھ کے 15 لیڈروں پر سخت قانونی شکنجہ؟ ہائی کورٹ نے 2026 کی جاری کی اسٹیٹس رپورٹ

چھتیس گڑھ کے سیاسی حلقوں میں اس وقت زبردست ہلچل مچی ہوئی ہے۔ ریاست کے موجودہ اور سابق عوامی نمائندوں (ارکانِ پارلیمنٹ اور ارکانِ اسمبلی) میں، جن کے خلاف فوجداری مقدمات درج ہیں، بے چینی بڑھ گئی ہے۔ سپریم کورٹ کی سخت ہدایات کے بعد چھتیس گڑھ ہائی کورٹ نے سال 2026 کی اپنی تازہ اسٹیٹس رپورٹ جاری کر دی ہے، جس کے تحت خصوصی ایم پی-ایم ایل اے عدالتوں میں زیرِ سماعت مقدمات کی کارروائی پر عدلیہ براہِ راست نظر رکھے ہوئے ہے۔

15 سے زائد رہنما، 20 سے زیادہ فوجداری مقدمات

ہائی کورٹ کی تازہ رپورٹ کے مطابق چھتیس گڑھ کے 15 سے زائد موجودہ اور سابق عوامی نمائندوں کے خلاف 20 سے زیادہ فوجداری مقدمات مختلف عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں۔ عدالت نے خصوصی عدالتوں کو سختی سے ہدایت دی ہے کہ اب ان مقدمات میں غیر ضروری تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام کیسز کی سماعت مقررہ مدت کے اندر مکمل کی جائے۔

خصوصی عدالت میں کئی بڑے لیڈروں کے مقدمات زیرِ سماعت

رائے پور کی خصوصی ایم پی-ایم ایل اے عدالت میں ریاست کی سیاست سے وابستہ کئی اہم لیڈروں کے مقدمات زیرِ سماعت ہیں۔بھوپیش بگھیل (سابق وزیر اعلیٰ): سرکاری کام میں رکاوٹ ڈالنے، احتجاجی مظاہروں اور امن و قانون سے متعلق کئی پرانے مقدمات کی سماعت جاری ہے۔ کاواسی لکھما (رکن اسمبلی): ان کے خلاف احتجاجی مقدمات کے علاوہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) اور مبینہ شراب گھوٹالے سے متعلق معاملات بھی عدالت میں زیرِ غور ہیں۔ دیویندر یادو (رکن اسمبلی): ان کے خلاف بھی متعدد مقدمات میں عدالتی کارروائی آگے بڑھ رہی ہے۔

دیگر اضلاع میں بھی کارروائیاں جاری

صرف رائے پور ہی نہیں بلکہ ریاست کے دیگر اضلاع کی خصوصی عدالتوں میں بھی مقدمات کی سماعت جاری ہے۔بلاس پور کی خصوصی عدالت میں مستوری کے رکن اسمبلی دلیپ لہریا کے خلاف انتخابی ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی کے مقدمے کی سماعت ہو رہی ہے، جبکہ جانجگیر-چامپا ضلع میں اکلترا کے رکن اسمبلی راگھویندر کمار سنگھ کے خلاف مبینہ دھوکہ دہی کے ایک مقدمے پر قانونی کارروائی جاری ہے۔ اس کے علاوہ سابق رکن پارلیمنٹ ابھیشیک سنگھ سمیت کئی دیگر لیڈروں کے مقدمات میں گواہوں کے بیانات قلم بند کیے جا رہے ہیں اور بعض کیسز میں فردِ جرم عائد کرنے کا مرحلہ بھی آخری مراحل میں ہے۔

عدلیہ کی مسلسل نگرانی

ہائی کورٹ نے واضح کیا ہے کہ ان تمام مقدمات کی باقاعدہ نگرانی اور وقتاً فوقتاً جائزہ لیا جاتا رہے گا تاکہ عدالتی کارروائی میں غیر ضروری تاخیر نہ ہو۔ تاہم ان مقدمات میں متعلقہ لیڈروں کے خلاف کسی بھی الزام کا حتمی فیصلہ عدالت کے فیصلے کے بعد ہی ہوگا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Ujjain Hotel Incident: مدھیہ پردیش کے اجین میں بڑا حادثہ، ہوٹل کے چیمبر میں دم گھٹنے سے 4 افراد کی موت

چیمبر میں گیس کا اخراج ہونے کے باعث تمام افراد بے ہوش ہوگئے۔ واقعے کی…

11 minutes ago

Avoid these routes in Delhi today: دہلی میں آج ان راستوں پر صبح 10 بجے سے شام 5 بجے تک جانے سے کریں گریز

دہلی ٹریفک پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ریلی کے دوران متاثرہ…

48 minutes ago

Delhi-NCR Weather Update: دہلی– این سی آر میں سردی نے دی دستک، آلودگی بڑھا سکتی ہے لوگوں کی پریشانی

موسم صاف رہنے کے باوجود دہلی– این سی آر کے لوگوں کو فضائی آلودگی سے…

3 hours ago

INDIA alliance rally: انڈیا اتحاد کی ریلی سے پہلے دہلی قلعے میں تبدیل، 4 ہزار پولیس اہلکار اور سی اے پی ایف کی 270 کمپنیاں تعینات

 ریلی میں شرکت کرنے والوں کو صرف مقررہ دروازوں سے داخلے کی اجازت ہوگی، جہاں…

3 hours ago