قومی

Chhattisgarh Liquor Scam: شراب گھوٹالہ معاملے میں چیتنیا کو ہائی کورٹ سے ملی ضمانت، بھوپیش بگھیل نے بتایا ’سچ کی جیت‘

بلاسپور: چھتیس گڑھ شراب گھوٹالہ معاملے میں چیتنیا بگھیل کو بڑی راحت ملی ہے۔ بلاسپور ہائی کورٹ نے چیتنیا بگھیل کو ضمانت دے دی ہے۔ چیتنیا بگھیل نے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی گرفتاری کے خلاف عدالت میں عرضی دائر کی تھی، جس پر سماعت کرتے ہوئے عدالت نے انہیں ضمانت دے دی۔

اس سے قبل عدالت نے ضمانت کی عرضی پر سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا۔ جمعہ کے روز یہ فیصلہ جسٹس اروند کمار ورما کی سنگل بینچ نے سنایا۔ نئے سال کے آغاز میں چیتنیا بگھیل کو راحت ملنے پر کانگریس کارکنوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔

ای ڈی نے شراب گھوٹالہ کیس میں کیا تھا گرفتار

چیتنیا بگھیل کو ای ڈی نے شراب گھوٹالہ کیس میں گرفتار کیا تھا۔ حال ہی میں ای ڈی نے اس معاملے میں حتمی چارج شیٹ داخل کی تھی۔ ضمانت ملنے کے بعد امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ جلد جیل سے رہا ہو سکتے ہیں۔

آج سچ کی جیت ہوئی ہے: بھوپیش بگھیل

ادھر چھتیس گڑھ کے سابق وزیر اعلیٰ بھوپیش بگھیل نے کہا کہ یہ خوشی کی بات ہے کہ ہائی کورٹ نے چیتنیا بگھیل کو ای ڈی اور ای او ڈبلیو، دونوں معاملات میں ضمانت دی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مفرور شخص پپو بنسل کے بیان کی بنیاد پر چیتنیا کی گرفتاری ہوئی تھی۔ بھوپیش بگھیل نے کہا کہ آج سچ کی جیت ہوئی ہے۔ سچ پریشان ہو سکتا ہے، مگر شکست نہیں کھا سکتا۔

انہوں نے الزام لگایا کہ مرکز اور ریاستی حکومت مل کر انہیں ہراساں کر رہی تھیں، لیکن کانگریس پارٹی کے قائدین کے حوصلے اور کارکنوں کے تعاون سے یہ کامیابی حاصل ہوئی ہے۔

2019 سے 2022 کے درمیان کیا گیا گھوٹالہ

قابلِ ذکر ہے کہ ای ڈی نے خصوصی عدالت میں آخری استغاثہ شکایت داخل کی تھی، جس میں 59 نئے افراد کو ملزم بنایا گیا، جس کے بعد کل ملزمان کی تعداد 81 ہو گئی۔ تفتیش کے مطابق یہ گھوٹالہ 2019 سے 2022 کے درمیان ہوا، جب ریاست میں کانگریس کی حکومت تھی۔ ای ڈی کا اندازہ ہے کہ اس غیر قانونی کاروبار سے تقریباً تین ہزار کروڑ روپے کی ناجائز کمائی ہوئی، جس سے ریاستی خزانے کو بھاری نقصان پہنچا۔

تحقیقات میں ایک منظم سنڈیکیٹ کا انکشاف

تحقیقات میں ایک منظم سنڈیکیٹ کا انکشاف ہوا، جس میں بیوروکریٹس، سیاسی لیڈر اور نجی تاجر شامل تھے۔ اس سنڈیکیٹ نے شراب پالیسی کو کمزور بنا کر غیر قانونی طریقوں سے پیسہ کمایا۔

گھوٹالہ میں چار اہم طریقے کیے گئے اختیار

انہوں نے چار اہم طریقے اختیار کیے۔ پہلا، شراب سپلائرز سے غیر قانونی کمیشن وصول کیا گیا، جس کے لیے شراب کی سرکاری قیمت کو مصنوعی طور پر بڑھایا جاتا تھا تاکہ ریاستی رقم ہی رشوت کے طور پر استعمال ہو۔ دوسرا، بغیر حساب کتاب کے شراب فروخت کی جاتی تھی؛ نقلی ہولوگرام والی بوتلیں نقد میں خرید کر سرکاری دکانوں کے ذریعے بیچی جاتیں، جس سے نہ ٹیکس ادا ہوتا تھا اور نہ ہی ایکسائز ڈیوٹی۔ تیسرا، ڈسٹلری مالکان مارکیٹ میں حصہ برقرار رکھنے اور لائسنس کے لیے سالانہ رشوت دیتے تھے۔ چوتھا، غیر ملکی شراب کے لیے لائسنس کی ایک نئی کیٹیگری بنائی گئی، جس سے سنڈیکیٹ کو بھاری منافع حاصل ہوتا تھا۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

JUSTICE B.R. GAVAI ADDRESS: باوقار زندگی کے بغیر حقوق بے معنی، جسٹس بی آر گوائی کا 9ویں این سی چاگلہ لیکچر سے خطاب

سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس بھوشن رام کرشن گوائی نے کہا کہ محض سیاسی…

5 hours ago

Jayant Chaudhary meets PM Modi: وزیراعظم نریندر مودی سے اہل خانہ کے ساتھ ملے جینت چودھری، اتحاد کا دیا پیغام

مرکزی وزیر اور راشٹریہ لوک دل (آر ایل ڈی) کے صدر جینت چودھری نے جمعہ…

6 hours ago

Ronaldo Ends Retirement Speculation: رونالڈو کی ریٹائرمنٹ سے متعلق قیاس آرائیاں ختم، نیشنز لیگ کے لیے پرتگال کی ٹیم میں شامل

پرتگال 24 ستمبر کو گھریلو میدان پر ویلز کے خلاف نیشنز لیگ مہم کا آغاز…

6 hours ago

Zimbabwe vs Australia: آسٹریلیا نے دوسرے ون ڈے میچ میں زمبابوے کو 84 رنز سے دی شکست، سیریز میں 0-2 کی ناقابلِ شکست برتری حاصل کی

ہرارے اسپورٹس کلب میں کھیلے گئے مقابلے میں آسٹریلیا نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 50…

7 hours ago

Chief Minister Hemant Soren: جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین کو ای ڈی کیس میں ہائی کورٹ سے راحت نہیں، ٹرائل جاری رہے گا

جھارکھنڈ ہائی کورٹ نے زمین سے متعلق منی لانڈرنگ کیس میں کارروائی روکنے کی درخواست…

8 hours ago

Nandigram by-election: نندی گرام ضمنی انتخاب، سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی حمایت کے اعلان کے بعد کانگریس امیدوار ملن پردھان گرفتار

ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی کی جانب سے نندی گرام میں کانگریس امیدوار کی…

8 hours ago