قومی

Tribunal reforms act 2021 provisions: ٹریبونلز پر انتظامیہ کا دباؤ ناقابل قبول، ایکٹ کی دفعات کو سپریم کورٹ نے کر دیا منسوخ

سپریم کورٹ نے ٹریبونل ریفارمز ایکٹ 2021 کی دفعات کو منسوخ کر دیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ یہ سپریم کورٹ کے سابق فیصلے کو پلٹنے کی ایک غیر آئینی کوشش تھی جو عدلیہ کی آزادی کی خلاف ورزی کرتی ہے۔ چیف جسٹس بی آر گوئی اور جسٹس کے ونود چندرن کی بنچ نے یہ فیصلہ سنایا۔ عدالت نے چار ماہ کے اندر ایک قومی ٹریبونل کمیشن تشکیل دینے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ جن دفعات کو ہم نے منسوخ کیا ہے انہیں معمولی تبدیلیوں کے ساتھ دوبارہ نافذ کیا گیا تاکہ پہلے کے فیصلے کو غیر مؤثر بنایا جا سکے۔ عدالت نے ٹریبونل میں تقرریوں کے حوالے سے سپریم کورٹ کے سابق احکامات پر عمل نہ کرنے پر مرکزی حکومت پر ناراضگی ظاہر کی۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ آئی ٹی اے ٹی کے اراکین 62 برس کی عمر تک اور چیئرمین 65 برس کی عمر تک عہدے پر برقرار رہیں گے۔ اسی طرح سیسٹاٹ(CESTAT)  کے اراکین 62 برس تک اور چیئرمین 65 برس کی عمر تک اپنے عہدے پر رہیں گے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ، ’’ کوئی بھی قانون اس وقت تک جائز نہیں ہو سکتا جب تک وہ عدلیہ کی آزادی اور آئینی ڈھانچے کا احترام نہ کرے۔‘‘

سپریم کورٹ کی سخت تنقید

2021 کے قانون سے پہلے کی جانے والی تقرریاں مدراس بار ایسوسی ایشن 4 اور 5 مقدمات میں دیے گئے سابق فیصلوں کے تحت چلیں گی، نہ کہ 2021 کے قانون میں مقرر مختصر مدت کار کے تحت۔ عدالت نے ٹریبونل ریفارمز ایکٹ کی انہی دفعات کو دوبارہ نافذ کرنے پر شدید نکتہ چینی کی ہے جنہیں پہلے کے فیصلوں میں منسوخ کیا جا چکا تھا۔

کیوں برقرار نہیں رہ سکتا یہ ایکٹ؟

سپریم کورٹ نے کہا کہ یہ ایکٹ برقرار نہیں رہ سکتا کیونکہ یہ اختیارات کی تقسیم اور عدلیہ کی آزادی کے اصولوں کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ یہ ایکٹ بغیر کسی خامی کو دور کیے پابند عدالتی فیصلوں کو قانون سازی کے ذریعے کالعدم کرنے کا اختیار دیتا ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ جب تک پارلیمنٹ گزشتہ فیصلوں میں دی گئی ہدایات پر عمل درآمد کرتے ہوئے ایک نیا قانون نہیں بناتی، تب تک مدراس بار ایسوسی ایشن کے سابق مقدمات میں دیے گئے احکامات نافذ رہیں گے۔

ٹریبونل ریفارمز ایکٹ 2021 کو چیلنج کیوں کیا گیا تھا؟

مدراس بار ایسوسی ایشن کی جانب سے دائر درخواست سمیت کئی دیگر درخواستوں پر سماعت کے بعد سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ سنایا۔ دائر درخواستوں میں ٹریبونل ریفارمز ایکٹ 2021 کی آئینی حیثیت کو چیلنج کیا گیا تھا۔ عدالت کے سامنے سوال یہ تھا کہ پارلیمنٹ کس طرح معمولی تبدیلیوں کے ساتھ اسی قانون کو دوبارہ نافذ کر سکتی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

?Will UPI and Phone Banking Work: بینک ہڑتال کا الرٹ، کیا یو پی آئی اور فون بینکنگ کی سہولیا ت جاری رہیں گی؟

پی این بی نے یوزر کو بھیجے گئے ٹیکسٹ پیغام میں آنے والی ہڑتال کے…

19 minutes ago

Azamgarh triple murder: یوپی میں  دو پجاریوں، بیوی اور بیٹے کے قاتل کا انکاؤنٹر ہلاک، اعظم گڑھ میں 8 گھنٹے بعد یرغمالی ڈرامہ ختم

وارانسی زون کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل پولیس نوین اروڑہ نے بتایا کہ پولیس نے تقریباً…

56 minutes ago

World Rhino Day 2026: ورلڈ رائنو ڈے پر پی ایم مودی کا بڑا اعلان، ’پروجیکٹ رائنو‘ شروع، آسام میں دنیا کے 80 فیصد گینڈے

وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر گینڈوں کے تحفظ سے متعلق…

11 hours ago

Asian Games 2026: ایشین گیمز میں بھارت کا ڈنکا، خواتین ٹیم نے جیتا گولڈ میڈل، وزیر داخلہ امت شاہ نے دی مبارکباد

بھارتی خواتین ٹیم کی اس تاریخی اور ریکارڈ ساز جیت پر مرکزی وزیر داخلہ امت…

12 hours ago