قومی

Global Infrastructure Conference 2026: قانون صرف غلطی سدھارنے کے لیے نہیں، تنازعات سے بچنے کا مضبوط نظام بنانے کا ذریعہ ہے: چیف جسٹس سوریہ کانت

دہلی میں منعقد عالمی کانفرنس میں دنیا کے 70 سے زیادہ ممالک سے آئے نمائندوں کا استقبال کرتے ہوئے چیف جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ مختلف ملکوں میں قانون کا نظام، انجینئرنگ کی روایات اور ترقی کی ضروریات الگ ہوسکتی ہیں، لیکن سب کا ہدف ایک ہی ہے۔ عام آدمی کی ضروریات اور خواہشات کو ایسے بنیادی ڈھانچے میں تبدیل کرنا، جس سے اس کی روزمرہ زندگی آسان ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ ایک انجینئر کسی پل کو اس کے نقشے، تعمیراتی مواد اور مضبوطی کے نقطۂ نظر سے دیکھتا ہے، جبکہ ٹھیکیدار کے لیے وہ ایک منصوبہ ہوتا ہے۔

وہیں ایک وکیل اسے حقوق، ذمہ داریوں اور ممکنہ تنازعات کے طور پر دیکھتا ہے۔ لیکن عام آدمی کے لیے سوال بالکل سیدھا ہے کہ کیا یہ پل اس کے کام پر جانے کا وقت کم کرے گا؟ کیا سڑک اس کے بچے کے اسکول کو گاؤں کے قریب لے آئے گی؟ اور کیا پانی کی سہولت اس کے گھر تک پہنچے گی؟ یہی وجہ ہے کہ بنیادی ڈھانچے سے متعلق کام کا براہ راست اثر کروڑوں لوگوں کی زندگی پر پڑتا ہے۔

قانون کا مقصد صرف غلطیوں کی اصلاح نہیں

عالمی بنیادی ڈھانچہ کانفرنس میں چیف جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ قانون کی حکمرانی صرف غلطیوں کو درست کرنے کے بارے میں نہیں ہے، بلکہ ایسی صورتحال پیدا کرنے کے بارے میں بھی ہے جہاں کام ابتدا ہی سے درست طریقے سے ہو۔انہوں نے کہا کہ کامیابی کا اصل پیمانہ یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ہم تنازعات کو کتنی تیزی سے حل کرتے ہیں، بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ ہم منصوبوں کو کتنی اچھی طرح تیار کرتے ہیں تاکہ تنازعات کی نوبت ہی کم سے کم آئے۔

بغیر رکاوٹ چلنے والا بنیادی ڈھانچہ ہی سب سے بڑی کامیابی

چیف جسٹس نے کہا کہ قانون کی حکمرانی دراصل بنیادی ڈھانچہ تیار کرنے کے پورے نظام کا ایک حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی ڈھانچے کے شعبے کو ملنے والی سب سے بڑی تعریف اکثر خاموشی ہوتی ہے۔ جو پل یا سڑک بغیر کسی پریشانی کے اپنا کام کر رہے ہوتے ہیں، ان کے بارے میں عام طور پر کوئی بات نہیں ہوتی۔ لیکن جب کوئی بنیادی ڈھانچہ ناکام ہوجاتا ہے، منصوبے میں تاخیر ہوتی ہے یا کسی تنازع کی وجہ سے ٹھیکیدار اور حکومت برسوں تک مقدمے بازی میں پھنس جاتے ہیں، تب بنیادی ڈھانچے سے متعلق مسائل سامنے آتے ہیں۔

منصوبے کی کامیابی کے پیچھے پورا نظام

انہوں نے کہا کہ کسی منصوبے کی کامیابی صرف اس کی عمارت، مشینری یا انجینئرنگ پر منحصر نہیں ہوتی، بلکہ اس کے پیچھے ایک پورا نظام کام کرتا ہے۔ اس میں معاہدے کے ذریعے ذمہ داریوں کا تعین، مناسب فریق کے انتخاب کے لیے شفاف خریداری کا عمل، ضابطہ جاتی نظام، مالی انتظام اور تنازع کی صورت میں فیصلہ کرنے والے اداروں کا کردار اہم ہوتا ہے۔

یہ سب بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی بنیادی ساخت کا حصہ ہیں۔

اس کا مطلب صرف یہ نہیں ہے کہ تنازع پیدا ہونے کے بعد عدالت غلطی کو درست کردے۔ ضروری یہ بھی ہے کہ ابتدا ہی سے طریقہ کار اس طرح تیار کیا جائے کہ تمام فریقوں کی توقعات واضح ہوں، حکام اور اختیارات کی حدود طے ہوں، خطرات کی مناسب تقسیم ہو اور تنازع پیدا ہونے کی صورت میں اس کا بروقت اور قابل اعتماد حل مل سکے۔

آخر میں چیف جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ وہ عالمی بنیادی ڈھانچہ کانفرنس 2026 کی کامیابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنے خیالات کا اظہار کرنے کے لیے مدعو کیے جانے پر منتظمین کا ایک بار پھر شکریہ ادا کیا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Jantar Mantar Protest: دہلی کے جنتر منتر پرخاتون سے مبینہ بدسلوکی کے خلاف پارلیمنٹ اسٹریٹ تھانے کے باہر احتجاج

روزی نے بتایا کہ اس وقت ان کے ساتھ دیگر خاتون صحافی بھی موجود تھیں۔…

49 minutes ago

SIR Row Escalates: ایس آئی آر پر بڑھا تنازع، گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ, سپریم کورٹ میں آج سماعت

نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کی رپورٹ کے مطابق، عرضیوں میں چیف الیکشن کمشنر کی…

1 hour ago