قومی

Launch Ceremony Prime Minister Book: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے زیر اہتمام وزیراعظم مودی کی تقریروں پر مشتمل کتاب ’تہذیب کا پانچواں باب‘ کی رسم اجرا و مذاکرہ

نئی دہلی: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نئی دہلی کی جانب سے آج انڈیا انٹرنیشنل سینٹر، نئی دہلی میں وزیراعظم نریندر مودی کے خطبات پر مشتمل کتاب ’سنسکرتی کا پانچواں ادھیائے‘ کے اردو ترجمہ ’تہذیب کا پانچواں باب‘ کی تقریب اجرا و مذاکرے کا انعقاد کیا گیا۔ اس مذاکرے میں پدم بھوشن شری رام بہادر رائے (صدر، اندرا گاندھی نیشنل سینٹر فار دی آرٹس، وزارت ثقافت، حکومت ہند) نے بطور صدر، پدم شری چامو کرشن شاستری (چیئرمین، بھارتیہ بھاشا سمیتی، وزارت تعلیم، حکومت ہند) نے بطور مہمان خصوصی اور پروفیسر مظہر آصف (وائس چانسلر، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی) نے بطور مہمانِ اعزازی شرکت کی۔

وزیراعظم نے رام دھاری سنگھ دنکر کے تہذیبی سلسلے کو آگے بڑھایا: رام بہادر رائے

تقریب کے صدر پدم بھوشن شری رام بہادر رائے نے اس اہم مذاکرے کے انعقاد کے لیے قومی اردو کونسل اور اس کے ڈائرکٹر کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ایک کامیاب ترجمے کی خوبیوں پر روشنی ڈالی اور کہا کہ اس کی سب سے بڑی خوبصورتی یہ ہے کہ قارئین کو وہ ترجمہ نہ لگے۔ کتاب کے مشمولات پر اظہار خیال کرتے ہوئے انھوں نے اس کے عنوان میں شامل “پانچواں باب” کی بھی وضاحت کی۔ اس حوالے سے انھوں نے رام دھاری سنگھ دنکر کی کتاب ’سنسکرتی کے چار ادھیائے‘ کا ذکر کیا اور کہا کہ یہ کتاب ہندوستان کی چار اہم تہذیبی واردات کی کہانی پیش کرتی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے خطبات کے ذریعے رام دھاری سنگھ دنکر کے اسی تہذیبی سلسلے کو آگے بڑھایا ہے۔ انھوں نے کہا کہ 1947 سے لے کر 2014 تک ہماری تہذیب میں کئی طرح کی گمراہیاں راہ پا گئی تھیں، وزیر اعظم نے انھیں دور کرتے ہوئے اس کتاب کے ذریعے انھیں صحیح سمت عطا کی ہے۔ وہ ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم ہیں جنھوں نے دستور پر صد فیصد اعتماد ظاہر کیا ہے۔ یہ کتاب بہت سے سوالوں کا جواب ہے اور ہندوستان کی تفہیم کا ایک اہم حوالہ بھی ہے۔

وودھتا سے آتمیتا اور آتمیتا سے بھارتیتا کا سفر ہمارا مقصد ہونا چاہیے: چامو کرشن شاستری

مہمان خصوصی پدم شری چامو کرشن شاستری نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دو برسوں میں قومی اردو کونسل کے ڈائرکٹر ڈاکٹر شمس اقبال نے وزیراعظم کے خطبات کو جس طرح اردو قارئین کے سامنے پیش کیا ہے وہ قابل ستائش ہے۔ اس کتاب پر ہندوستانی تعلیمی اداروں میں مذاکرات ہونے چاہئیں۔ اس کے لیے بھارتیہ بھاشا سمیتی کی طرف سے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔ انھوں نے مزید کہا کہ ہندوستانی زبانوں کا ذکر کرتے ہی اردو بھی اس میں شامل ہو جاتی ہے۔ زبان کی بنیاد پر ہندوستان کو تین بار تقسیم کیا گیا۔ نئی تعلیمی پالیسی نے سہ لسانی فارمولے کے ذریعے اسے نیا زاویہ فراہم کیا ہے۔ اب ہر زبان کو تحفظ دینے کی بات کی جا رہی ہے۔ قدیم ہندوستان میں لوگ ایک سرے سے دوسرے سرے تک بغیر مترجم کے سفر کرتے تھے اور زبان کی سطح پر انھیں کوئی دشواری پیش نہیں آتی تھی۔ اس کی بنیادی وجہ اپنائیت تھی۔ لہذا تنوع کے بجائے اتحاد پر توجہ دینا ضروری ہے۔ یہی اتحاد اپنائیت کا سبب بنتا ہے۔ وودھتا سے آتمیتا اور آتمیتا سے بھارتیتا کا سفر ہی ہمارا مقصد ہونا چاہیے۔ انھوں نے مزید کہا کہ “بھید” اور “سمانتا” دو مختلف تناظر ہیں کسی بھی چیز کو دیکھنے کے لیے۔ تمام ہندوستانی زبانوں کا بنیادی ڈھانچہ یکساں ہے اور ان میں بہت سی مماثلتیں پائی جاتی ہیں۔

ہندوستانی تہذیب پوری دنیا کے لیے مثالی ہے: مظہر آصف

مہمانِ اعزازی پروفیسر مظہر آصف نے مختلف حوالوں سے ہندوستانی تہذیب و ثقافت کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور کہا کہ امیر خسرو نے ہندوستان کو جنت پر ترجیح دی ہے۔ ہندوستانی تہذیب پوری دنیا کے لیے مثالی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم کی یہ کتاب اسی ہندوستانیت کو پیش کرتی ہے اور یہ تاریخ، تہذیب اور ثقافت کا مجموعہ ہے۔

وزیراعظم کے خطبات ہندوستانی تہذیب و ثقافت کو سمجھنے کا اہم ماخذ ہیں: ڈاکٹر شمس اقبال

تقریب کے آغاز میں ہی استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد شمس اقبال (ڈائرکٹر، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی) نے تمام مہمانوں کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی اس اہم کتاب کے اردو ترجمے کو شائع کرکے قومی اردو کونسل فخر کا احساس کررہی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہ خطبات ہندوستانی تہذیب و ثقافت کو سمجھنے کا اہم ماخذ ہیں۔ وزیراعظم نے جس دانش مندی اور ہندوستانی روایت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہندوستانی تہذیب و ثقافت پر روشنی ڈالی ہے یہ خطبات اس کی مثال ہیں۔ قومی اردو کونسل زبان و ادب کے ساتھ اردو میں دیگر موضوعات و مسائل سے متعلق کتابوں کو بھی شائع کرتی رہی ہے۔ اس طرح کی مطبوعات میں لال قلعے کی فصیل سے، قیام امن ایک جستجو، آئین ہند ان کہی کہانی، ویر ساورکر اور تقسیم ہند کا المیہ، وکست بھارت کا وژن اور اردو زبان، مجمع البحرین، سکینۃ الاولیا اور داراشکوہ کی تصانیف قابل ذکر ہیں۔ یہ کتاب بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے اور ہندوستان کی امن پسند اور مشترکہ تہذیب و ثقافت کو آگے بڑھانے میں معاون ہے۔

اس موقعے پر اس کتاب کے مرتب پربھات اوجھا اور مترجم جاوید عالم نے بھی اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔ اخیر میں ڈاکٹر شمع کوثر یزدانی (اسسٹنٹ ڈائرکٹر (اکیڈمک) قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی) نے سبھی مہمانان اور سامعین کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا۔ جب کہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر حفیظ الرحمن (کنوینر، خسرو فاؤنڈیشن، نئی دہلی) نے انجام دیے۔ پروگرام کے آغاز میں ہی ’سنسکرتی کا پانچواں ادھیائے‘ کے اردو ترجمہ ’تہذیب کا پانچواں باب‘ کا اجرا بھی عمل میں آیا۔

تقریب اجرا و مذاکرہ کے اس اہم موقعے پر دہلی اور اس کے اطراف کے علما و دانشوران کی بڑی تعداد موجود رہی جس میں پروفیسر چندر شیکھر، پروفیسر شیکھر (اے آئی ٹی)، پروفیسر رضوان الرحمن، پروفیسر اخلاق آہن، پروفیسر احمد محفوظ، پروفیسر خواجہ عبدالمنتقم، ڈاکٹر ارشاد نیازی، ڈاکٹر اے کے مرچنٹ، فیروز بخت احمد، راکیش یادو، ڈاکٹر مظہر محمود، شعیب رضا فاطمی، آصف اعظمی، مظفر حسین غزالی، ڈاکٹر جاوید حسن، زبیر خان سعیدی، محمد انظار عالم، جمشید احمد علیگ، حبیب سیفی، ڈاکٹر امیر حمزہ وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abdul Awwal

Recent Posts

Tiger Shroff Firing: ممبئی میں ٹائیگر شروف پر فائرنگ، بشنوئی گینگ نے لی ذمہ داری، وزیر اعلیٰ فڑنویس نے طلب کی رپورٹ

ممبئی کے جوہو علاقے میں اداکار ٹائیگر شروف پر فائرنگ کی گئی۔ اس واقعے میں…

2 hours ago

Muslim Rashtriya Manch Convention: ملک کو غیر مستحکم کرنے والی سیاست سے بچیں، آئین کا احترام سب سے اہم ہے: اندریش کمار

مسلم راشٹریہ منچ کے کارکنان کنونشن میں راہل گاندھی، اپوزیشن اور CJP کی سیاست پر…

3 hours ago