قومی

Boulder collapse at Bengaluru: بنگلورو کی پتھر کی کان میں خوفناک حادثہ، بڑی چٹان گرنے سے 7 مزدور ہلاک، کئی کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ

نئی دہلی :کرناٹک کے دارالحکومت بنگلورو کے مضافاتی علاقے میں واقع ایک پتھر کی کان میں پیش آنے والے المناک حادثے میں کم از کم سات مزدور ہلاک ہو گئے، جب کہ کئی دیگر کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق ہلاکتوں میں اضافے کا امکان ہے، کیونکہ امدادی کارروائیاں تاحال جاری ہیں۔یہ حادثہ بنگلورو کے نواحی علاقے مداپٹنا گاؤں میں پیش آیا، جو تاوارے کیرے پولیس اسٹیشن کی حدود میں واقع ہے۔ اطلاعات کے مطابق کاویری کمپنی کی پتھر کی کان میں مزدور معمول کے مطابق کام کر رہے تھے کہ اچانک ایک بہت بڑی چٹان کھسک کر ان پر آ گری۔ چٹان کے نیچے کئی مزدور دب گئے، جس کے نتیجے میں سات افراد موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئے۔ ہلاک ہونے والے تمام مزدوروں کا تعلق بہار اور جھارکھنڈ سے بتایا جا رہا ہے۔

حادثے کی اطلاع ملتے ہی تاوارے کیرے پولیس، ریسکیو ٹیمیں اور دیگر متعلقہ ادارے جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔ رات بھر ملبہ ہٹانے کا کام جاری رہا، جبکہ سینئر سرکاری افسران خود ریسکیو آپریشن کی نگرانی کر رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ابھی یہ معلوم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ملبے تلے مزید کتنے مزدور دبے ہوئے ہیں اور حادثے کی اصل وجہ کیا تھی۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق کان کے بالائی حصے میں ایکسکیویٹر مشین کے ذریعے کھدائی کا کام جاری تھا۔ اسی دوران ایک بڑی چٹان اچانک سرک کر نیچے کام کرنے والے مزدوروں پر آ گری، جس کے باعث یہ المناک حادثہ پیش آیا۔ادھر کرناٹک کے نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے اس حادثے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے ہلاک ہونے والے مزدوروں کے اہل خانہ سے تعزیت کی۔ انہوں نے کہا کہ پتھر کی کانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کی حفاظت کو یقینی بنانا کان مالکان کی قانونی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت حفاظتی اصولوں کی خلاف ورزی کرنے والی کانوں کے خلاف سخت کارروائی کرے گی۔

دوسری جانب یشونت پور کے رکن اسمبلی ایس ٹی سوم شیکھر نے الزام لگایا کہ یہ حادثہ علاقے میں جاری غیر قانونی پتھر کی کان کنی کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے میں محکمہ کان و ارضیات، محکمہ جنگلات، پولیس اور کرناٹک اسٹیٹ پولوشن کنٹرول بورڈ کے متعلقہ افسران کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس علاقے میں غیر قانونی کان کنی کے معاملے کو متعدد بار حکام کے سامنے اٹھا چکے ہیں، مگر مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔فی الحال ریسکیو ٹیمیں ملبہ ہٹانے میں مصروف ہیں اور انتظامیہ کو خدشہ ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات بھی شروع کر دی گئی ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Nepal’s Prime Minister Balen Shah Praises PM Modi: نیپال کے وزیر اعظم بالیندر شاہ نے پی ایم مودی کی ستائش کی، بھارت کے تعاون پر ادا کیا شکریہ

نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو میں جمعرات کے روز بھارت کے خارجہ سکریٹری وکرم مسری نے…

14 minutes ago

UPSC CSE Mains Results 2026: یو پی ایس سی سول سروسز مین امتحان 2026 کا نتیجہ جاری، انٹرویو کا مرحلہ جلد ہوگا شروع

یو پی ایس سی نے واضح کیا ہے کہ انٹرویو کی تاریخ یا وقت میں…

42 minutes ago

12 ماہ میں 119 بچوں کو گھرپہنچایا، دہلی پولیس کی خاتون ہیڈ کانسٹبل چنچل بنیں انسانیت کی بہترین مثال، جانئے پوری تفصیل

دہلی پولیس کی ہیڈ کانسٹبل چنچل نے ایک سال کے اندر119 لاپتہ بچوں اور16 دیگرگمشدہ…

2 hours ago

1st ODI shifted from Delhi to Visakhapatnam: دہلی کی زہریلی ہوا کے آگے جھکا بی سی سی آئی، ہندوستان-سری لنکا ونڈے کا مقام تبدیل

 بی سی سی آئی نے دہلی کی آلودگی اوراسٹیڈیم میں چل رہی تجدید کاری کے…

3 hours ago