نئی دہلی: دہلی یونیورسٹی میں زمین، جائیداد اور جمہوری حقوق پر منعقد ہونے والا سیمینار آخری وقت میں منسوخ کر دیا گیا، جس کے بعد تعلیمی حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ اساتذہ نے الزام لگایا ہے کہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور رجسٹرار نے دہلی اسکول آف اکنامکس کے شعبۂ عمرانیات میں ہونے والے سیمینار “Land, Property and Democratic Rights” کو منسوخ کرنے کا حکم دیا۔
اساتذہ کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کی کوئی وجہ نہ تو تحریری طور پر اور نہ ہی زبانی طور پر بتائی گئی۔ ان کے مطابق زمین اور حقوق جیسے موضوعات پر گفتگو سے حکومت کو ناگواری محسوس ہوئی ہوگی۔
منتظم نے دیا استعفیٰ
سیمینار کے منسوخ ہونے کے بعد اس کے کنوینر (منتظم) نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ انہوں نے کہا کہ “اب میں ایسے پروگراموں کی فکری آزادی اور ان کے تسلسل کی ضمانت نہیں دے سکتا، کیونکہ انہیں من مانی بنیادوں پر روکا جا رہا ہے۔”
یہ صرف سیمینار نہیں، پڑھائی کا حصہ تھا
پروفیسر آبھادیو حبیبہ نے بتایا کہ “فرائیڈے کلوکویئم” (Friday Colloquium) شعبۂ عمرانیات کی ایک پرانی علمی روایت ہے، جو ایمرجنسی کے دور میں بھی جاری رہی تھی۔ انہوں نے کہا، “یہ صرف ایک سیمینار نہیں بلکہ نصاب کا حصہ ہے، جس میں طلبہ کی شرکت لازمی ہوتی ہے۔ اس کے منسوخ ہونے سے نہ صرف تعلیمی ماحول متاثر ہوا ہے بلکہ علمی آزادی کو بھی دھچکا لگا ہے۔”
فرائیڈے کلوکویئم دہلی یونیورسٹی میں کئی دہائیوں سے منعقد ہوتا رہا ہے، جہاں اساتذہ اور طلبہ ہر جمعے کو کسی سماجی یا عصری موضوع پر گفتگو کرتے ہیں۔ اس روایت کا مقصد طلبہ میں فکری وسعت پیدا کرنا اور علمی مباحثے کو فروغ دینا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
دہلی کے شالی مار باغ میں مسجد اور اس کے آس پاس کی مبینہ غیر…
قومی آیوروید دن کے موقع پر مرکزی وزیر داخلہ و تعاون امت شاہ نے ملک…
مرکزی حکومت کی اہم اور دنیا کی سب سے بڑی صحت بیمہ اسکیم ’آیوشمان بھارت‘…
وزیراعظم مودی نے اپنے پیغام میں قومی شاعر کی عظیم شخصیت کو یاد کرتے ہوئے…
جسٹس دتا نے کہا کہ اگرچہ دونوں ججوں کا نتیجہ مختلف ہے، لیکن ان کا…
سگریٹ کی قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ رواں سال نافذ کیا گیا نیا…