قومی

Lalu Yadav Family VIP Security Removed: لالو خاندان پر وزیر اعلیٰ سمراٹ کی ’سرجیکل اسٹرائیک‘، زیڈ پلس سکیورٹی واپس، تیج پرتاپ کے گارڈ بھی ہٹائے گئے، بی جے پی کا سخت طنز

بہار کی سیاست میں ایک بڑا سیاسی بھونچال اس وقت آیا جب ریاستی سکیورٹی کمیٹی کی رپورٹ کے بعد راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے سربراہ لالو پرساد یادو اور سابق وزیر اعلیٰ رابڑی دیوی کی زیڈ پلس (Z+) سکیورٹی واپس لینے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو کی سکیورٹی میں بھی کمی کر دی گئی ہے، جبکہ تیج پرتاپ یادو کو دی گئی وائی (Y) کیٹیگری سکیورٹی مکمل طور پر ختم کر دی گئی ہے۔

ریاستی حکومت کے اس فیصلے سے نئی بحث

ریاستی حکومت کے اس فیصلے نے بہار کی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق سکیورٹی کمیٹی نے مختلف لیڈروں کو لاحق خطرات کا ازسرنو جائزہ لیا تھا، جس کے بعد یہ سفارشات پیش کی گئیں۔ رپورٹ کی بنیاد پر حکومت نے کئی اہم شخصیات کی سکیورٹی میں تبدیلیاں کرنے کا فیصلہ کیا۔لالو پرساد یادو اور رابڑی دیوی کو طویل عرصے سے زیڈ پلس سکیورٹی حاصل تھی، لیکن تازہ جائزے میں ان کے لیے خطرے کی سطح کم پائے جانے کے بعد یہ سکیورٹی واپس لے لی گئی۔ اسی طرح تیجسوی یادو کی سکیورٹی بھی کم کر دی گئی ہے، جبکہ تیج پرتاپ یادو کی وائی کیٹیگری سکیورٹی مکمل طور پر ہٹا دی گئی ہے۔

بی جے پی کا آر جے ڈی پر سخت طنز

اس فیصلے پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے آر جے ڈی پر سخت طنز کیا ہے۔ بی جے پی لیڈروں کا کہنا ہے کہ سکیورٹی کا تعین سیاسی بنیادوں پر نہیں بلکہ خطرے کے جائزے کے مطابق ہونا چاہیے۔ پارٹی نے دعویٰ کیا کہ موجودہ حکومت قواعد و ضوابط کے مطابق فیصلے کر رہی ہے اور کسی کو غیر ضروری سرکاری سہولیات نہیں دی جائیں گی۔

آر جے ڈی کی جانب سے فیصلے پر شدید ردعمل

دوسری جانب آر جے ڈی کی جانب سے اس فیصلے پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ پارٹی لیڈروں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام سیاسی انتقام کا حصہ ہے اور اپوزیشن کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ آر جے ڈی کا مؤقف ہے کہ لالو خاندان ریاست کی اہم سیاسی شخصیات میں شامل ہے، اس لیے ان کی سکیورٹی میں کمی تشویش کا باعث بن سکتی ہے۔سیاسی مبصرین کے مطابق سکیورٹی میں یہ تبدیلیاں ایسے وقت میں کی گئی ہیں جب بہار میں سیاسی سرگرمیاں تیزی سے بڑھ رہی ہیں اور آئندہ انتخابات کے پیش نظر سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر حملے تیز کر رہی ہیں۔ ایسے میں لالو خاندان کی سکیورٹی میں کمی کا معاملہ سیاسی بحث کا اہم موضوع بن گیا ہے۔حکومت کی جانب سے اگرچہ اس فیصلے کو محض سکیورٹی جائزے کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے، تاہم سیاسی حلقوں میں اسے ایک بڑے اور دور رس اثرات رکھنے والے اقدام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

INDIA Alliance Rally: ’عوامی مواخذے‘ کے بعد اتوار کو رام لیلا میدان میں ’انڈیا‘ اتحاد کی عظیم ریلی

چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کے خلاف اپوزیشن اتحاد ’انڈیا‘ کی جانب…

20 minutes ago

نیشنل کانفرنس میں بغاوت کے آثار، عمرعبداللہ کے لئے بڑا جھٹکا، 15 سے زائد اراکین اسمبلی کی خفیہ میٹنگ

خفیہ میٹنگ کی اطلاعات کے بعد کوئی بھی رکن اسمبلی کھل کرکیمرے کے سامنے قیادت کے…

2 hours ago

جو ہمیں دوسرے درجے کا شہری بنانا چاہتے ہیں، وہ دراصل ملک کے دشمن ہیں: مولانا محمود مدنی نے کیوں کہی یہ بڑی بات؟

جمعیۃ علماء ہند کی مجلسِ منتظمہ کے دو روزہ اجلاس میں ملک کی موجودہ صورت…

2 hours ago

Guwahati GMCH: کیا کینسر کے علاج میں آئے گی بڑی پیش رفت؟ آسام میں ملک کا پہلا سرکاری پروٹون بیم تھراپی مرکز قائم کرنے کی تیاری

آسام کے گوہاٹی میڈیکل کالج (جی ایم سی ایچ) میں ہندوستان کا پہلا سرکاری اور…

3 hours ago

Gold-Silver Rate: سونا اور چاندی کی قیمتیں 12 ماہ کی کم ترین سطح پر، بڑی گراوٹ سے بازار میں ہلچل،کیا یہی ہے خریداری کا صحیح وقت؟

کموڈیٹی مارکیٹ میں زبردست فروخت کے دباؤ کے باعث سونے اور چاندی کی قیمتوں میں…

3 hours ago