قومی

Kolkata Fire Tragedy: کولکتہ آتشزدگی معاملہ: وزیر اعظم مودی کا جاں بحق افراد کے اہلِ خانہ کو دو، دو لاکھ روپے مالی امداد دینے کا اعلان

مغربی بنگال کے دارالحکومت کولکتہ کے آنندپور علاقے میں پیش آنے والے خوفناک آتشزدگی کے واقعے میں مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 25 ہو گئی ہے، جبکہ کئی افراد اب بھی لاپتہ بتائے جا رہے ہیں۔ اس دلخراش سانحے پر وزیر اعظم نریندر مودی نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے اہلِ خانہ کو مالی امداد دینے کا اعلان کیا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے اس حادثے پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کولکتہ کے آنندپور میں پیش آنے والا حالیہ آتشزدگی کا واقعہ انتہائی دردناک ہے۔ وزیر اعظم کے دفتر (پی ایم او) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ جن خاندانوں نے اس سانحے میں اپنے پیاروں کو کھویا ہے، ان کے ساتھ حکومت کی مکمل ہمدردی ہے۔ وزیر اعظم نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے بھی دعا کی۔

پی ایم او کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم قومی راحت فنڈ سے ہر جاں بحق شخص کے اہلِ خانہ کو دو، دو لاکھ روپے کی امدادی رقم دی جائے گی، جبکہ حادثے میں زخمی ہونے والوں کو پچاس ہزار روپے کی مالی مدد فراہم کی جائے گی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس امداد کا مقصد متاثرہ خاندانوں کو فوری راحت پہنچانا ہے۔ ریاستی انتظامیہ کے مطابق آنندپور آتشزدگی میں ایک اور شخص کی موت کے بعد ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 25 تک جا پہنچی ہے۔ ریاستی آفاتِ انتظامی محکمے کے ذرائع کا کہنا ہے کہ کئی افراد تاحال لاپتہ ہیں، جس کے باعث مرنے والوں کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ریسکیو ٹیمیں مسلسل تلاش اور بچاؤ کا کام انجام دے رہی ہیں۔

اس معاملے پر قومی انسانی حقوق کمیشن (این ایچ آر سی) نے بھی ازخود نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ ضلع مجسٹریٹ کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس واقعے پر جلد از جلد تفصیلی کارروائی رپورٹ جمع کرائیں۔ این ایچ آر سی نے آنندپور میں واقع واؤ مومو فیکٹری سے جڑے مبینہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی شکایت کے بعد یہ قدم اٹھایا ہے۔

یہ المناک حادثہ 26 جنوری کی صبح پیش آیا تھا، جب آنندپور کے ایک گودام میں اچانک آگ بھڑک اٹھی۔ اس وقت گودام کے اندر کئی مزدور سو رہے تھے، جو آگ کی لپیٹ میں آ گئے۔ ریاستی فائر سروس اور فارنسک ٹیم کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق آگ واؤ مومو فیکٹری سے نہیں بلکہ قریب واقع پُشپانجلی ڈیکوریٹر کے گودام سے لگی تھی۔ تاہم واقعے کے بعد گرفتار کیے گئے پُشپانجلی گودام کے مالک گنگادھر داس نے دعویٰ کیا ہے کہ آگ سب سے پہلے مومو فیکٹری میں لگی تھی اور وہاں سے پھیلی۔ حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل اور غیرجانبدارانہ جانچ کی جا رہی ہے تاکہ ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے اور آئندہ ایسے سانحات سے بچنے کے لیے سخت اقدامات کیے جا سکیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Sibghatullah

Recent Posts

LK Advani admitted to Apollo Hospital: لال کرشن اڈوانی اسپتال میں داخل، سینے میں انفیکشن کی شکایت، اپولو اسپتال میں علاج جاری

بھارت کے سابق نائب وزیراعظم لال کرشن اڈوانی کو جمعہ کے روز اسپتال میں داخل…

6 hours ago

SC Allows PFI Chief Abubaker Treatment: پی ایف آئی کے سربراہ ابو بکر کو میکس اسپتال میں علاج کی اجازت، سپریم کورٹ کی ہدایت

عدالت نے علاج اور پولیس سکیورٹی کا پورا خرچ خود برداشت کرنے کو کہا، طبی…

7 hours ago

Gold-Sivler Price: سونے اور چاندی کی چمک پھر لوٹ آئی! بازار کھلتے ہی قیمتوں میں زبردست اچھال، جانیے تازہ قیمتیں

سونے کی درآمد میں بھاری گراوٹ کے باوجود گھریلو اور عالمی بازار میں تیزی، ملٹی…

8 hours ago