نئی دہلی :پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے آغاز سے قبل مرکزی حکومت نے تمام سیاسی جماعتوں سے ایوان کی کارروائی پرامن اور مؤثر انداز میں چلانے کی اپیل کی ہے۔ مرکزی وزیر برائے پارلیمانی امور کرن رجیجو نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ پارلیمنٹ میں مسلسل ہنگامہ آرائی یا کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے سے کسی بھی سیاسی جماعت کو کوئی سیاسی فائدہ نہیں ہوتا، بلکہ اس سے عوام کا قیمتی وقت اور ٹیکس دہندگان کا پیسہ ضائع ہوتا ہے۔مانسون اجلاس سے قبل پارلیمنٹ ہاؤس اینیکسی میں تمام سیاسی جماعتوں کے فلور لیڈروں کی آل پارٹی میٹنگ طلب کی گئی، جس کا مقصد آئندہ اجلاس کو خوش اسلوبی سے چلانے کے لیے اتفاقِ رائے اور تعاون کی فضا قائم کرنا تھا۔ اس موقع پر حکومت نے اپوزیشن سمیت تمام جماعتوں سے تعمیری کردار ادا کرنے کی اپیل کی۔میٹنگ سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کرن رجیجو نے کہا کہ پارلیمنٹ صرف حکومت کی نہیں بلکہ پورے ملک کا ادارہ ہے، اس لیے حکومت اور اپوزیشن دونوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ جمہوری روایات کا احترام کرتے ہوئے ایوان میں اپنا کردار ادا کریں۔
انہوں نے کہا کہ بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے، جہاں ہر منتخب رکنِ پارلیمنٹ کو اپنی بات رکھنے کا مکمل حق حاصل ہے۔ حکومت صحت مند، سنجیدہ اور تعمیری بحث کا خیرمقدم کرتی ہے۔ اختلافِ رائے جمہوریت کا لازمی حصہ ہے، لیکن اس کا حل مباحثے اور مکالمے کے ذریعے نکالا جانا چاہیے، نہ کہ ایوان کی کارروائی روک کر۔کرن رجیجو نے کہا کہ پارلیمنٹ کا بنیادی مقصد قومی اہمیت کے مسائل پر غور کرنا، قوانین بنانا اور حکومت کو جوابدہ بنانا ہے۔ اگر بار بار ہنگامے کی وجہ سے کارروائی متاثر ہوتی ہے تو اس کا نقصان پورے ملک کو اٹھانا پڑتا ہے۔انہوں نے گزشتہ پارلیمانی اجلاسوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بار بار کارروائی میں خلل ڈالنے کے واقعات سب نے دیکھے ہیں، لیکن اب یہ واضح ہو چکا ہے کہ صرف ہنگامہ آرائی سے کسی جماعت کو سیاسی فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔ عوام چاہتے ہیں کہ ان کے منتخب نمائندے پارلیمنٹ میں سنجیدگی سے بحث کریں اور عوامی مسائل کا حل تلاش کریں۔
مرکزی وزیر نے اپوزیشن سے اپیل کی کہ اگر کسی معاملے پر اختلاف ہے تو اسے جمہوری طریقے سے ایوان کے اندر بحث کے ذریعے پیش کیا جائے تاکہ پارلیمنٹ کا وقار بھی برقرار رہے اور قانون سازی کا عمل بھی متاثر نہ ہو۔انہوں نے یقین دلایا کہ حکومت اپوزیشن کی بات سننے کے لیے پوری طرح تیار ہے اور امید ظاہر کی کہ اپوزیشن بھی حکومت کا مؤقف تحمل کے ساتھ سنے گی۔ ان کے مطابق جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب دونوں فریق ایک دوسرے کی بات سنیں اور بامعنی گفتگو کے ذریعے مسائل کا حل نکالیں۔کرن رجیجو نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پارلیمنٹ کا ہر لمحہ انتہائی قیمتی ہوتا ہے۔ کارروائی میں رکاوٹ نہ صرف اہم بلوں پر بحث کو متاثر کرتی ہے بلکہ سرکاری وسائل اور عوام کے ٹیکس کے پیسے کا بھی غیر ضروری ضیاع ہوتا ہے۔
پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس 20 جولائی سے شروع ہو کر 13 اگست تک جاری رہے گا۔ تقریباً چار ہفتوں پر محیط اس اجلاس میں 19 نشستیں مجوزہ ہیں، جن کے دوران حکومت متعدد اہم بل اور دیگر سرکاری امور ایوان میں پیش کرے گی۔ حکومت کو امید ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں تعاون کریں گی تاکہ اجلاس بغیر کسی بڑی رکاوٹ کے کامیابی سے مکمل ہو سکے اور قومی اہمیت کے معاملات پر مؤثر فیصلے کیے جا سکیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
شاہنواز حسین نے کہا، اردو کو بھلائے جانے کے دور میں اپیندر رائے اسے آگے…
سابق وزیر رام آسرے کشواہا نے بی جے پی چھوڑ کر سماج وادی پارٹی کی…
76ویں سالگرہ پر مرکزی وزرا اور این ڈی اے رہنماؤں نے وزیر اعظم کی عوامی…
امت شاہ کے 2029 سے پہلے این ڈی اے کی زیرِ حکومت 21 ریاستوں میں…
جے پی انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، نوئیڈا میں 28 سے 30 جنوری 2027 تک…
17 ستمبر 2026 کو وزیر اعظم نریندر مودی کی 76ویں سالگرہ پر دروپدی مرمو اور…