قومی

Congress President Mallikarjun Kharge: وزیر اعظم ایوان میں آ کر بیان دیں، تبھی ان کی باتوں پر یقین کریں گے-ملکارجن کھڑگے،اپوزیشن کے ہنگامے کے بعد دونوں ایوان دوپہر 12 بجے تک ملتوی

نئی دہلی : نیٹ پیپر لیک معاملے اور مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے پر اپوزیشن کا احتجاج پارلیمنٹ میں مسلسل جاری ہے۔ جمعہ کو اپوزیشن جماعتوں کے ارکان پارلیمنٹ نے پارلیمنٹ کے مکر دوار کے باہر احتجاج کیا اور مرکزی حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔کانگریس صدر اور راجیہ سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کو سوشل میڈیا پر ویڈیو پیغام جاری کرنے کے بجائے پارلیمنٹ کے ایوان میں آ کر بیان دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا، ’’جب وزیر اعظم ایوان میں آ کر جواب دیں گے، تبھی ہم ان کی باتوں کو درست مانیں گے۔ آدھی رات کو ویڈیو جاری کرنے کے بجائے انہیں پارلیمنٹ میں آ کر اپنا موقف پیش کرنا چاہیے۔‘‘

اپوزیشن کے شدید ہنگامے کے باعث لوک سبھا اور راجیہ سبھا دونوں کی کارروائی دوپہر 12 بجے تک ملتوی کر دی گئی۔ اپوزیشن ارکان پیپر لیک معاملے پر حکومت سے جواب طلب کر رہے ہیں اور وزیر تعلیم کے استعفے کا مطالبہ دہرا رہے ہیں۔

دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنے تمام این ڈی اے ارکان پارلیمنٹ کے لیے وہپ جاری کرتے ہوئے انہیں جمعہ کے روز پارلیمنٹ کی کارروائی کے دوران ایوان میں موجود رہنے کی ہدایت دی ہے۔ اسی روز دوپہر ایک بجے مرکزی کابینہ کا اجلاس بھی طلب کیا گیا ہے، جس میں پیپر لیک کے ملزمان کے لیے سخت سزا سے متعلق مجوزہ قانون پر غور کیے جانے کا امکان ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی پہلے ہی اپنے ویڈیو پیغام میں اعلان کر چکے ہیں کہ اس تجویز کو کابینہ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

ادھر بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ نشی کانت دوبے نے کانگریس پر طلبہ کے احتجاج کو سیاسی رنگ دینے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی کی باتوں کو اب عوام سنجیدگی سے نہیں لیتی کیونکہ پارٹی مسلسل انتخابات ہار رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال کے دوران عوامی حمایت بڑھنے کے بعد کانگریس نے اس تحریک سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش شروع کر دی۔

نشی کانت دوبے نے مزید کہا کہ حکومت طلبہ کے مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ ہے، جبکہ اپوزیشن اس معاملے کو سیاسی مفاد کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ دوسری جانب اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ حکومت کو پیپر لیک کے معاملے پر پارلیمنٹ میں جواب دینا چاہیے اور ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کے ساتھ سیاسی جوابدہی بھی طے ہونی چاہیے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Nitin Navin seeking his own identity in the shadow of Yogi: یوگی کے سائے میں اپنی سیاسی شناخت تلاش کرتے نتن نوین

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے قومی صدر نتن نوین آج گورکھپور پہنچے، جہاں…

3 hours ago

Mumbai Airport Flights: ممبئی سے نوی ممبئی منتقل ہوں گی 14 بین الاقوامی پروازیں، غیر ملکی ایئرلائنز نے ’ڈیسٹنیشن بیسڈ‘ منصوبے کی حمایت کی

ممبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل-1 کی ازسرنو تعمیر کے پیش نظر 14 بین الاقوامی مقامات کے…

4 hours ago

PM Modi Critical Minerals Processing Scheme: اب بھارت میں ہی ہوگا لیتھیم اور نکل کی پروسیسنگ، مودی کابینہ نے 2,814 کروڑ روپے کی اسکیم کو دی منظوری

مرکزی حکومت نے ’اہم معدنیات کی پروسیسنگ کو فروغ دینے کے لیے سرمایہ جاتی اخراجات…

5 hours ago

PM Modi Calls Sharad Pawar Health Update: اسپتال سے ڈسچارج ہوئے شرد پوار، وزیر اعظم مودی نے آرام کرنے کا دیا مشورہ

وزیر اعظم نریندر مودی نے این سی پی (ایس پی) کے سربراہ شرد پوار کو…

5 hours ago