کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے کے ایک متنازعہ بیان نے قومی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ تمل ناڈو میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کے لیے سخت الفاظ استعمال کیے، جس کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے سوچا سمجھا بیان قرار دیا اور فوری معافی کا مطالبہ کیا۔ پریس کانفرنس کے دوران کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے نے علاقائی سیاسی جماعت اے آئی اے ڈی ایم کے اور بی جے پی کے ممکنہ اتحاد پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جو لوگ انا درئی کی تصویر لگاتے ہیں وہ مودی کے ساتھ کیسے جا سکتے ہیں۔ اسی دوران انہوں نے وزیر اعظم کے لیے متنازعہ لفظ استعمال کیا، جس کے بعد سیاسی حلقوں میں ہنگامہ برپا ہو گیا۔
بیان پر بڑھتے تنازعہ کے بعد کھڑگے نے وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بیان کو غلط انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا مقصد وزیر اعظم کو دہشت گرد کہنا نہیں تھا بلکہ وہ یہ کہنا چاہتے تھے کہ وزیر اعظم سیاسی جماعتوں اور اپوزیشن لیڈروں کو خوفزدہ کرتے ہیں۔ کھڑگے کے مطابق انہوں نے صرف یہ بات کہی کہ حکومت کی مختلف ایجنسیاں اپوزیشن پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کی جا رہی ہیں۔ اس بیان پر بی جے پی نے سخت ردعمل ظاہر کیا۔ پارٹی کے ترجمان سمبت پاترا نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ یہ بیان نہ صرف قابل مذمت ہے بلکہ کانگریس پارٹی کی ذہنیت کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کوئی زبان پھسلنے کا معاملہ نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
سمبت پاترا نے مزید کہا کہ کانگریس کے لیڈر مسلسل وزیر اعظم کے خلاف سخت زبان استعمال کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ راہل گاندھی بھی اپنے بیانات میں وزیر اعظم پر ذاتی حملے کرتے رہے ہیں اور اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے کھڑگے نے یہ متنازعہ بیان دیا ہے۔ بی جے پی ترجمان نے کانگریس پر مزید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہی پارٹی ماضی میں متنازعہ شخصیات کے حوالے سے نرم موقف اختیار کرتی رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے کبھی اسامہ بن لادن کے حوالے سے نرم زبان استعمال کی اور بعض مواقع پر ذاکر نائک کو بھی مثبت انداز میں پیش کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی پارٹی کی جانب سے وزیر اعظم کے خلاف اس طرح کے الفاظ استعمال کرنا قابل قبول نہیں ہے۔
سمبت پاترا نے کہا کہ کانگریس کو یاد رکھنا چاہیے کہ جب بھی وزیر اعظم کے خلاف اس طرح کی زبان استعمال کی گئی ہے، عوام نے اس کا جواب انتخابات میں دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بار بھی ملک کے عوام کانگریس کو مناسب جواب دیں گے اور اس طرح کے بیانات کو مسترد کریں گے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اس بیان کے بعد سیاسی درجہ حرارت میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ اپوزیشن اور حکمراں جماعتوں کے درمیان پہلے ہی کشیدگی موجود تھی، لیکن اس بیان کے بعد لفظی جنگ اور تیز ہو گئی ہے۔ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر مزید سیاسی ردعمل سامنے آنے کا امکان ہے جبکہ بی جے پی کی جانب سے کانگریس سے باضابطہ معافی کا مطالبہ بھی برقرار ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بیشتر معاملات میں ووٹروں کا ریکارڈ 2002 میں دہلی میں ہونے والی گزشتہ SIR کی…
کوسل مینڈس 99 رنز کے اسکور پر آؤٹ قرار دیے گئے تھے۔ 31ویں اوور میں…
آئی ایم ڈی کے مطابق، 25 ستمبر کو دہلی میں کم سے کم درجہ حرارت…
تقریباً 16 سال بعد اس مقابلے میں ہندوستان کو ملا تمغہ، سیما کماری نے 32:50.05…
معروف اداکار مشتاق خان 24 ستمبر کو ممبئی میں انتقال کر گئے۔ ممبئی کے ناناوتی…
کم عمری کی شادی جیسے سماجی مسئلے پر بننے والے مقبول ٹی وی سیریل نے…