قومی

Delhi Arbitration Weekend 2025: ’’ثالثی نظام عدلیہ پر دباؤ کم کرنے کا مؤثر ذریعہ‘‘ دہلی آربیٹریشن ویک اینڈ 2025 میں چیف جسٹس آف انڈیا کا کلیدی خطاب

نئی دہلی: چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس بی آر گوی نے جمعرات کو دہلی آربیٹریشن ویک اینڈ (Volume 3.0) کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ بھارت اب عالمی سطح پر ایک معتبر ثالثی مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے۔ اس موقع پر آسٹریلیا کے چیف جسٹس اسٹیفن گیگلر، دہلی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس دیویندر کمار اپادھیائے، سابق چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سنجیو کھنہ، سپریم کورٹ و ہائی کورٹس کے ججز، ایڈیشنل سالیسٹر جنرلز، لاء سیکریٹری اور 20 سے زائد ممالک کے مندوبین موجود تھے۔

ثالثی کی قدیم روایت اور جدید ڈھانچہ

چیف جسٹس گوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ثالثی انسانی سماج کا فطری طریقۂ تنازعہ حل ہے، جس کی مثال قدیم ہندوستانی پنچایت سسٹم، افریقی قبائل اور آسٹریلوی آبوریجنل معاشرے میں بھی ملتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد نیویارک کنونشن 1958 اور UNCITRAL ماڈل لاء 1985 نے عالمی سطح پر ثالثی کے لیے بنیادی ڈھانچہ فراہم کیا۔

بھارت میں ادارہ جاتی ثالثی کی پیش رفت

چیف جسٹس گوی نے دہلی انٹرنیشنل آربیٹریشن سینٹر (DIAC) کی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ صرف 2024 میں اس نے 915 مقدمات نمٹائے اور 15 ہزار سے زائد سماعتیں کیں۔ انہوں نے آسٹریلوی ماڈل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی ادارے بھی بتدریج عالمی معیار پر اپنی ساکھ قائم کر رہے ہیں۔

عدلیہ کے حالیہ فیصلے اور عالمی اعتماد

انہوں نے کہا کہ حالیہ عدالتی فیصلوں نے یکطرفہ تقرری کی شقوں کو کالعدم قرار دیا، غیر ملکی ایوارڈز کے نفاذ کو تقویت دی اور تیسرے فریق کی فنڈنگ کو تسلیم کیا، جس سے بھارت میں ثالثی کا عمل مزید مستحکم ہوا ہے۔ چیف جسٹس کے مطابق بھارتی عدلیہ اب مداخلت کے بجائے معاون کردار ادا کر رہی ہے، جو بین الاقوامی سطح پر اعتماد کو بڑھا رہی ہے۔

چیلنجز اور مستقبل کی سمت

چیف جسٹس گوی نے کہا کہ ثالثی کو مائیکرو، چھوٹی اور درمیانی صنعتوں (MSMEs) کے لیے سستا اور قابلِ رسائی بنانا سب سے بڑا چیلنج ہے۔ انہوں نے کہا ’’ہم اس مقام پر کھڑے ہیں جہاں بھارت تیزی سے عالمی ثالثی مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے۔ نئی دہلی کو اب لندن، سنگاپور اور جنیوا کے ساتھ ابھرتے ہوئے مرکز کے طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔‘‘

عدلیہ پر بوجھ کم کرنے میں ثالثی کا کردار

چیف جسٹس گوئی نے اپنے خطاب میں کہا کہ عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کی تعداد کروڑوں میں ہے اور عوام کو بروقت انصاف کی فراہمی آج سب سے بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ اس صورتحال میں ثالثی جیسے متبادل نظام کو فروغ دینا نہ صرف عدلیہ پر دباؤ کو کم کرے گا بلکہ عام شہریوں اور کاروباری اداروں کے لیے تیز اور مؤثر انصاف کے دروازے بھی کھولے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور بار کونسل سمیت تمام متعلقہ اداروں کو اس نظام کو عوامی سطح پر مضبوط بنانے کی سمت میں اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ یہ نظام ہر شہری کی دسترس میں آ سکے۔

بین الاقوامی سطح پر بھارت کا مقام

جسٹس بی آر گوئی نے زور دیا کہ بھارت کو ایک ’’گلوبل آربیٹریشن ہب‘‘ بنانے کی اشد ضرورت ہے تاکہ بیرونی سرمایہ کار بھارت کو تنازعات کے فوری اور شفاف حل کے لیے ایک محفوظ مرکز سمجھ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کے لیے نہ صرف قانونی اصلاحات درکار ہیں بلکہ ثالثی کے ماہرین کی تربیت، جدید سہولیات اور انفراسٹرکچر کی مضبوطی بھی لازمی ہے۔ انہوں نے اس بات پر اطمینان ظاہر کیا کہ ملک میں ثالثی قوانین کو بہتر بنانے کے لیے حالیہ برسوں میں کئی اقدامات کیے گئے ہیں لیکن ابھی مزید کام باقی ہے۔

تجارتی تنازعات کے فوری حل کی ضرورت

چیف جسٹس نے اپنی تقریر میں کہا کہ تجارتی اور صنعتی تنازعات میں تاخیر براہ راست معیشت اور سرمایہ کاری پر اثر ڈالتی ہے۔ اگر مقدمات برسوں عدالتوں میں لٹکے رہیں تو اس سے کاروباری اعتماد متزلزل ہوتا ہے اور سرمایہ کار پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ ایسے حالات میں ثالثی ایک ایسا ذریعہ ہے جو کم وقت اور کم اخراجات میں فریقین کو انصاف مہیا کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بھارت اس نظام کو مؤثر طور پر اپناتا ہے تو یہ نہ صرف عدلیہ بلکہ معیشت کے لیے بھی ایک مثبت پیش رفت ہوگی۔

نائب صدر جمہوریہ کے انتخاب کا حوالہ

چیف جسٹس نے اپنی تقریر کے دوران حالیہ نائب صدر جمہوریہ کے انتخاب کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ یہ جمہوریت کے مضبوط ڈھانچے کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جیسے انتخابی عمل میں شفافیت اور بروقت فیصلہ سازی ضروری ہے، اسی طرح عدلیہ اور ثالثی کے نظام میں بھی فوری اور غیر جانبدارانہ فیصلے ناگزیر ہیں۔ ان کے مطابق ایک مضبوط اور منصفانہ ثالثی نظام بھارت کو نہ صرف اندرون ملک بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک مستحکم اور بااعتماد قانونی مرکز کے طور پر اجاگر کرے گا۔

کامیاب انعقاد پر منتظمین کو خراجِ تحسین

خطاب کے اختتام پر چیف جسٹس گوی نے دہلی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس، ججز اور منتظمین کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ دہلی آربیٹریشن ویک اینڈ صرف ایک کانفرنس نہیں بلکہ مستقبل کے لیے وژن وضع کرنے کا عالمی پلیٹ فارم ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

National Ayurveda Day 2026: ’دنیا کے لیے پائیدار صحت کا ماڈل ہے بھارت کا آیوروید‘، قومی آیوروید دن پر امت شاہ نے کیا کہا؟

قومی آیوروید دن کے موقع پر مرکزی وزیر داخلہ و تعاون امت شاہ نے ملک…

38 minutes ago

Ayushman Bharat 8 Years: ’دنیا کی سب سے بڑی ہیلتھ اسکیم‘، آیوشمان بھارت کے 8 سال مکمل ہونے پر پی ایم مودی نے کیا کہا؟

مرکزی حکومت کی اہم اور دنیا کی سب سے بڑی صحت بیمہ اسکیم ’آیوشمان بھارت‘…

50 minutes ago

Gold Flake Cigarettes Get Costlier: گولڈ فلیک سگریٹ ہوئی مہنگی، جانئے 10 اور 20 سگریٹ والے پیکٹ کی نئی قیمت

سگریٹ کی قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ رواں سال نافذ کیا گیا نیا…

2 hours ago