کرناٹک کی سیاست ایک مرتبہ پھر گرما گئی ہے۔ حکمران کانگریس میں وزیراعلیٰ کے عہدے کے معاملے پر اندرونی کشمکش اب کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ جمعرات کو نائب وزیراعلیٰ ڈی کے شیوکمار اور وزیراعلیٰ سدھارمائیا کے درمیان زبانی جنگ شدت اختیار کر گئی ہے۔
شیوکمار کا ایکس پوسٹ
سب سے پہلے شیوکمار نے سوشل میڈیا ایکس پر ایک پوسٹ ڈال کر پارٹی قیادت کو اس مبینہ وعدے کی یاد دہانی کرائی، جس میں کہا گیا تھا کہ حکومت کے پانچ سالہ دور میں 2.5 سال کے بعد انہیں وزیراعلیٰ بنایا جائے گا۔ کانگریس حکومت نے حال ہی میں اپنے ابتدائی 2.5 سال مکمل کیے ہیں۔ شیوکمار نے لکھا،’’الفاظ کی طاقت ہی دنیا کی اصل طاقت ہے۔ ہر کسی کو اپنے وعدے نبھانے چاہئیں۔‘‘
حالانکہ پارٹی نے باضابطہ طور پر کبھی بھی ایسا کوئی فارمولا تسلیم نہیں کیا ہے، لیکن شیوکمار کے حمایتی مسلسل اس دعوے کو دہراتے رہے ہیں۔ خود شیوکمار نے بھی اس پر واضح طور پر کچھ نہیں کہا۔
وزیراعلیٰ سدھارمائیا کا جواب
شیوکمار کے بیان کے چند ہی گھنٹوں بعد وزیراعلیٰ سدھارمائیا نے جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی رائے پورے پانچ سال کے لیے ہوتی ہے، نہ کہ چند مہینوں کے لیے۔ انہوں نے اپنے کاموں کی فہرست شیئر کی اور واضح کیا کہ وہ عہدہ چھوڑنے کے موڈ میں نہیں ہیں۔ سدھارمائیا نے لکھا: ’’ایک لفظ تبھی طاقت بنتا ہے جب وہ لوگوں کی زندگی بہتر کرے۔ کرناٹک کے لوگوں کے لیے ہمارا لفظ کوئی نعرہ نہیں، بلکہ ہماری دنیا ہے۔‘‘
کانگریس کے صدر نے کیا کہا؟
اس دوران کانگریس کے صدر ملیکارجن کھڑگے نے کہا کہ اس مسئلے پر دہلی میں اجلاس ہوگا، جس میں راہل گاندھی، سدھارمائیا اور شیوکمار سمیت سینئر لیڈر شامل ہوں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ فیصلہ پارٹی قیادت ہی کرے گی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
عدالت نے کہا کہ انتخابی ضابطوں کی ان خلاف ورزیوں کے لیے اجتماعی انتخابی ہرجانہ…
امت شاہ نے کہا کہ وزیر اعظم کی 25 سالہ عوامی خدمت کا ذکر اس…
یونیورسٹی آف ممبئی کے شعبۂ قانون اور چیف جسٹس ایم سی چھاگلا میموریل ٹرسٹ کے…
پروفیسر شاہد صدیقی نے کہا کہ آج کے نوجوانوں کو اردو سے جوڑنے کے لیے…
مانسون کی سرگرمیاں برقرار، بعض علاقوں میں بارش اور گرج چمک کا امکان؛ دہلی میں…
ڈاکٹر شمس اقبال نے اردو صحافیوں سے زبان کے معیار پر بھی خصوصی توجہ دینے…