قومی

Kamal Haasan controversy: جلا، نیلا، باشے، صرف تین الفاظ میں جج نے تلخ لہجے میں کمل ہاسن کو سمجھا دی ایک نہایت اہم بات – آپ بھی اس کا مطلب جان لیں

کرناٹک ہائی کورٹ نے کنڑ زبان پر تبصرہ کرنے پر اداکار اور ہدایتکار کمل ہاسن کو سخت سرزنش کی ہے۔ جسٹس ایم ناگپرسنّا نے سماعت کے دوران تین الفاظ “جَلا، نیلا، باشے” کا ذکر کیا اور کمل ہاسن کو ان کی اہمیت بتائی کہ ایک شہری کے لیے یہ کتنے معنی خیز ہوتے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ یہ الفاظ پانی، زمین، اور زبان کے لیے استعمال ہوتے ہیں اور ہر شہری کے لیے بہت اہم ہوتے ہیں۔ اس پر کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہیے کیونکہ کسی کی دل آزاری کا کسی کو کوئی حق نہیں، چاہے وہ کمل ہاسن ہوں یا کوئی اور۔

کرناٹک کے عوام سے معافی مانگ کر معاملہ سلجھا سکتے ہیں

کمل ہاسن نے کہا تھا کہ کنڑ زبان تمل زبان سے پیدا ہوئی ہے، جس کے بعد کرناٹک کے کئی بڑے رہنما اور وزیراعلیٰ ان سے ناراض ہو گئے اور ریاست میں ان کی فلم ٹھگ لائف کی ریلیز پر پابندی لگانے کی مانگ شروع ہو گئی۔ اس کے خلاف ہی وہ ہائی کورٹ پہنچے تھے۔ تاہم جج نے انہیں سختی سے ڈانٹا اور مشورہ دیا کہ وہ کرناٹک کے عوام سے معافی مانگ کر معاملہ سلجھا سکتے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ ایک بار معافی مانگنے سے مسئلے کا حل نکل سکتا تھا۔ جسٹس ایم ناگپرسنّا نے کہا کہ کمل ہاسن کے بیان سے کرناٹک کے عوام کی دل آزاری ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا، “جَلا، نیلا، باشے یعنی پانی، زمین اور زبان جیسے مسائل عوام کے لیے انتہائی اہم ہوتے ہیں۔ ملک میں کئی ریاستیں زبان کی بنیاد پر قائم ہوئی ہیں۔ کسی شہری کو یہ حق نہیں کہ وہ عوامی جذبات کو ٹھیس پہنچائے۔”

کیا آپ مورخ یا ماہر لسانیات ہیں جو ایسا بیان دیں؟

ہائی کورٹ نے کہا کہ زبان لوگوں کی جذباتی اور ثقافتی شناخت ہے۔ جسٹس ناگپرسنّا نے سخت لہجے میں کمل ہاسن سے پوچھا، “کیا آپ مورخ یا ماہر لسانیات ہیں جو ایسا بیان دیں؟ کوئی زبان کسی دوسری زبان سے پیدا نہیں ہوتی۔ ایک بار معافی مانگنے سے مسئلہ حل ہو سکتا تھا۔”

تمل فلم ٹھگ لائف کے چنئی میں پروموشن کے دوران کمل ہاسن نے کنڑ زبان کے بارے میں یہ بیان دیا تھا، جس سے کرناٹک کے عوام میں غصہ بھڑک اٹھا، اور کرناٹک فلم چیمبر آف کامرس (KFCC) نے اعلان کیا کہ جب تک کمل ہاسن معافی نہیں مانگتے، تب تک ریاست میں ان کی فلم ریلیز نہیں کی جائے گی۔ اس کے جواب میں کمل ہاسن کی پروڈکشن کمپنی راج کمل فلمز انٹرنیشنل نے فلم کی ریلیز کے لیے ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی۔ جسٹس ایم ناگپرسنّا نے کہا، “اگر راج گوپال آچاری 75 سال پہلے عوامی طور پر معافی مانگ سکتے تھے، تو آپ (کمل ہاسن) کیوں نہیں؟ آپ نے اپنے تجارتی مفادات کے لیے خود ایسے حالات پیدا کیے اور اب پولیس تحفظ کے لیے عدالت کا رخ کیا ہے۔”

بیان سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا

کمل ہاسن کے وکیل دھیان چنّپا نے کہا کہ ان کا بیان سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا اور اس کا مقصد کسی کی توہین کرنا نہیں تھا۔ عرضداشت کے مطابق یہ بیان کنڑ اداکار شیو راجکمار سے مخاطب ہو کر دیا گیا تھا، جنہوں نے بعد میں یہ کہہ کر کمل ہاسن کا دفاع کیا کہ انہوں نے ہمیشہ کنڑ اور کرناٹک کے بارے میں مثبت بات کی ہے۔

آپ نے اپنے بیان سے بدامنی پیدا کی ہے

کمل ہاسن کی کمپنی نے یہ بھی گزارش کی کہ حکام کو فلم کی اسکریننگ میں کسی بھی مداخلت سے روکا جائے اور فنکاروں، نمائش کنندگان اور ناظرین کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ تاہم جج نے درخواست گزار کے رویے پر تشویش ظاہر کی۔ جسٹس ناگپرسنّا نے کہا، “آپ کرناٹک سے کروڑوں روپے کمانا چاہتے ہیں، لیکن معافی نہیں مانگیں گے؟ عام شہریوں کو بھی ایسے بیانات کے لیے قانونی نتائج کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ آپ اس سے مختلف کیوں ہوں؟” عدالت نے کہا کہ وہ قانون کے مطابق حکم جاری کرے گی، لیکن مشورہ دیا کہ ہاسن صورت حال کو ٹھنڈا کرنے کے لیے معافی مانگنے پر غور کریں۔ آخر میں جسٹس ناگپرسنّا نے کمل ہاسن سے کہا، “آپ نے اپنے بیان سے بدامنی پیدا کی ہے اس پر غور کریں۔ اگر آپ اب بھی اپنے مؤقف پر قائم رہنا چاہتے ہیں، تو ہم اس کے مطابق فیصلہ کریں گے۔”

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

World Rhino Day 2026: ورلڈ رائنو ڈے پر پی ایم مودی کا بڑا اعلان، ’پروجیکٹ رائنو‘ شروع، آسام میں دنیا کے 80 فیصد گینڈے

وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر گینڈوں کے تحفظ سے متعلق…

4 hours ago

Asian Games 2026: ایشین گیمز میں بھارت کا ڈنکا، خواتین ٹیم نے جیتا گولڈ میڈل، وزیر داخلہ امت شاہ نے دی مبارکباد

بھارتی خواتین ٹیم کی اس تاریخی اور ریکارڈ ساز جیت پر مرکزی وزیر داخلہ امت…

4 hours ago

Prime Minister Narendra Modi: ’مکسڈ مارشل آرٹس میں بھارت کا تاریخی کمال…‘، وزیر اعظم نریندر مودی نے سچیکا تاریال کو دی مبارکباد

وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر سچیکا تاریال کو مبارکباد…

5 hours ago