قومی

JNU vows strict action: جے این یو میں طلبہ تنظیموں کے درمیان جھڑپ، انتظامیہ نے بی این ایس کے تحت سخت کارروائی کا دیا انتباہ

نئی دہلی: جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) انتظامیہ نے کیمپس میں بائیں بازو سے وابستہ طلبہ گروپوں اور اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) کارکنوں کے درمیان مبینہ تصادم کے بعد سخت تادیبی اور قانونی کارروائی کا انتباہ جاری کیا ہے۔ اس جھڑپ کے بعد متعدد تعلیمی عمارتوں کو بند کر دیا گیا تھا۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ جے این یو انتظامیہ کے علم میں آیا ہے کہ کیمپس کے اندر کئی تعلیمی عمارتوں کو احتجاج کرنے والے طلبہ کے ایک گروپ نے مبینہ طور پر مقفل کر دیا۔ بیان کے مطابق احتجاجی طلبہ مرکزی لائبریری میں داخل ہوئے اور وہاں موجود ان طلبہ کو جو احتجاج میں شامل ہونا نہیں چاہتے تھے، دھمکایا اور انہیں زبردستی احتجاج میں شریک ہونے پر مجبور کرنے کی کوشش کی۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ 22 فروری 2026 کی شب کیمپس میں دو طلبہ گروپوں کے درمیان جھڑپ ہوئی، جس کا انتظامیہ نے سنجیدگی سے نوٹس لیا ہے۔

بی این ایس کے تحت کارروائی

انتظامیہ نے’’بد نظمی‘‘ اور’’سرکاری املاک کی بار بار توڑ پھوڑ‘‘ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کیمپس میں تعلیمی ماحول کو برقرار رکھنے کے لیے یونیورسٹی کے قواعد و ضوابط اور بی این ایس (بھارتیہ نیائے سنہتا) کے تحت سخت کارروائی کی جا رہی ہے۔ بیان میں تمام متعلقہ فریقوں سے اپیل کی گئی کہ وہ کسی بھی غیر ضروری سرگرمی سے باز رہیں اور کیمپس میں امن و ہم آہنگی برقرار رکھنے میں تعاون کریں، بصورت دیگر قواعد کے مطابق سخت تادیبی کارروائی کی جائے گی۔ انتظامیہ نے یہ بھی واضح کیا کہ رات کے پرتشدد واقعات کے باوجود تمام کلاسیں اور تعلیمی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں۔

اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد کا موقف

اے بی وی پی کے ریاستی جوائنٹ سکریٹری وکاس پٹیل نے اے این آئی سے گفتگو کرتے ہوئے الزام لگایا کہ بائیں بازو کے طلبہ نے ایک مارچ کی آڑ میں پہلے سے حملے کی منصوبہ بندی کی تھی۔ ان کے مطابق اس رات جے این یو مارچ وائس چانسلر کے خلاف تھا اور انہیں گھیرنے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی، تاہم مارچ کو موڑ کر اسکول آف لینگویجز کی طرف لے جایا گیا، جہاں گزشتہ سات دنوں سے احتجاج جاری تھا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ احتجاج کرنے والوں نے کلاسیں اور لائبریری بند کر کے دیگر طلبہ کو مارچ میں شامل ہونے پر مجبور کرنے کی کوشش کی۔

جے این یو ایس یو کا ردعمل

دوسری جانب، جے این یو اسٹوڈنٹس یونین کی صدر ادیتی مشرا نے الزام لگایا کہ وائس چانسلر سانتیشری دھلیپڈی پنڈت نے ’’غنڈوں اور سنگھی عناصر‘‘ کو طلبہ کے خلاف بھیجا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو ہفتوں سے طلبہ ہڑتال پر ہیں کیونکہ وائس چانسلر نے ایک پوڈکاسٹ میں دلت اور سیاہ فام برادری کے خلاف نامناسب تبصرے کیے تھے، جن کے خلاف احتجاج کیا جا رہا تھا۔ ادیتی مشرا کے مطابق احتجاج پرامن تھا، لیکن ان پر پتھراؤ کیا گیا اور بدزبانی کی گئی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ طلبہ نے خود کو محفوظ رکھنے کے لیے پولیس کو طلب کیا اور باتھ رومز میں بند ہو گئے۔

اس واقعے کے بعد کیمپس میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے اور ملوث افراد کی فوری گرفتاری اور سخت کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق تقریباً ایک ہفتے سے جاری ہڑتال کے بعد یہ تشدد بھڑکا۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے ایک بار پھر طلبہ کے تعلیمی مفادات اور فلاح و بہبود کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Home Minister Amit Shah: ـ وزیر داخلہ امت شاہ نے باراپولا فیز-3 ایلیویٹڈ کوریڈور کا افتتاح کیا، دہلی کو ملی نئی سوغات

وزیر داخلہ امت شاہ کے پہنچنے سے پہلے دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے…

3 hours ago

PM Modi Subhashitam: جہاں یہ 6 خوبیاں ہوتی ہیں، وہاں دیو بھی ساتھ دیتے ہیں، پی ایم مودی نے شیئر کیا خاص سنسکرت شلوک

وزیراعظم کی جانب سے شیئر کیا گیا یہ روایتی سنسکرت سبھاشیت لوگوں کو عمل اور…

3 hours ago