ایک وقت تھا جب ہمارے ملک میں کھانے پینے کی اشیاء کی شدید قلت ہوا کرتی تھی اور پیٹ بھرنے کے لیے ہمیں بیرونی ممالک پر انحصار کرنا پڑتا تھا۔ لیکن وقت کے ساتھ حکومت، زرعی سائنس دانوں اور ہمارے کسانوں کی مشترکہ کوششوں نے کھیتی باڑی کی تصویر کو مکمل طور پر بدل دیا۔ زرعی شعبے میں ہونے والی ان تاریخی اور بڑے پیمانے کی تبدیلیوں کو مختلف رنگوں والے’انقلابوں‘ کا نام دیا گیا۔
ان زرعی انقلابوں نے نہ صرف غذائی تحفظ کے میدان میں ملک کو خود کفیل بنانے میں اہم کردار ادا کیا بلکہ دیہی آمدنی کو بھی نئی سمت دی۔ آئیے سمجھتے ہیں کہ کس انقلاب نے ملک کی معیشت اور عوام کی تھالی میں کیا اہم حصہ ڈالا۔
سبز انقلاب سے سرکاری گودام بھرے
ملک میں اناج کے شدید بحران کو ختم کرنے کے لیے سال 1965 میں ’سبز انقلاب‘ کا آغاز کیا گیا۔ اس مہم کی شروعات سابق وزرائے اعظم لال بہادر شاستری اور اندرا گاندھی کے دور میں ہوا، جس نے بھارت کو اناج کی پیداوار کے معاملے میں مکمل طور پر خود کفیل بنا دیا۔
زرعی سائنس دان ایم ایس سوامیناتھن اور نارمن بورلاگ کی مدد سے گندم اور چاول کے جدید بیج تیار کیے گئے، جن کی بدولت پیداوار میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ حکومت کی جانب سے کسانوں کو کھاد اور آبپاشی کی سہولیات فراہم کی گئیں، جس کا سب سے زیادہ اثر پنجاب، ہریانہ اور مغربی اتر پردیش میں دیکھا گیا۔ آج بھارت کے سرکاری گودام اناج سے بھرے ہوئے ہیں اور اب ’گرین ریولوشن 2.0‘ کے ذریعے غذائی و غذائیتی خود کفالت پر زور دیا جا رہا ہے۔
سفید انقلاب میں دودھ کی بہتی ندیاں
اناج کے ساتھ ساتھ ملک میں دودھ کی کمی کو دور کرنے کے لیے 1970 میں ورگیز کورین کی قیادت میں ’آپریشن فلڈ‘ یعنی ’سفید انقلاب‘ شروع کیا گیا۔ اس مہم کے تحت گجرات کے مشہور امول کوآپریٹو ماڈل کو پورے ملک میں نافذ کیا گیا۔
اس اقدام سے دیہات کے لاکھوں دودھ پیدا کرنے والے کسان جڑے، جن میں بڑی تعداد خواتین اور بے زمین کسانوں کی تھی۔ بہتر نسل کے مویشی اور معیاری چارے کی بدولت دودھ کی پیداوار میں زبردست اضافہ ہوا اور بھارت دنیا کے بڑے دودھ پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہو گیا۔
نیلا اور پیلا انقلاب
ماہی پروری کو فروغ دینے کے لیے ساتویں پنچ سالہ منصوبہ (1985-1990) کے دوران ’نیلا انقلاب‘ کو ایک قومی مشن کے طور پر شروع کیا گیا۔ ماہرِ ماہی پروری ہیرالال چودھری کی کوششوں اور تالابوں میں ہیچری و پولی کلچر جیسی جدید تکنیکوں کے استعمال سے مچھلی کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا۔ آج بھارت دنیا کے اہم مچھلی پیدا کرنے اور سمندری خوراک برآمد کرنے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے، جس میں آندھرا پردیش کا نمایاں کردار ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
تپسیا کا مطلب: اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے مسلسل محنت کرنا، مشکلات کا…
دہلی کا اوسط ایئر کوالٹی انڈیکس 331 درج کیا گیا، بگڑتے حالات کے پیش نظر…
جسٹس ایم ایم سندریش نے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل (اے ایس جی) ایشوریہ بھاٹی سے اخبار…
وزیر اعظم مودی نے کہا کہ میٹرو نیٹ ورک کی توسیع سے لوگوں کو ٹریفک…
یہ معاملہ براہ راست ماحولیات اور عوامی صحت سے جڑا ہوا ہے۔عدالت نے واضح کیا…
آغا روح اللہ کا کہنا ہے کہ جن موضوعات سے متعلق عوام سے حمایت مانگی…