جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کی وائس چانسلر سانتیشری پنڈت نے وزیراعظم نریندر مودی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم آج ہندوستانی آئین کے 75 سال منا رہے ہیں اور ہمیں اس کا کریڈٹ وزیراعظم کو دینا چاہیے، کیونکہ انہوں نے آئین پر ہمارا یقین تازہ کیا ہے۔‘‘ پنڈت پونے میں ایس این ڈی ٹی یونیورسٹی میں ’ہندوستانی آئین کے 75 سال—جائزہ، چیلنجز اور آگے کا راستہ‘ کانفرنس سے ورچوئل خطاب کر رہی تھیں۔
جمہوریت برصغیر کی قدیم روایت
وائس چانسلر نے کہا کہ جمہوریت برطانیہ کی دین نہیں، بلکہ ہندوستانی تہذیب جتنی قدیم ہے۔ انہوں نے آٹھویں صدی کے چولا دور کے ’اُترامیرور‘ کتبے کا حوالہ دیا، جو اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کی مثال پیش کرتا ہے۔
بہار ایس آئی آر کی حمایت
وائس چانسلر نے بہار میں الیکشن کمیشن کے جاری اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کی کھل کر حمایت کی۔ انہوں نے کہا، ’’یہ ضروری ہے کہ ہندوستان میں آنے والے گھسپیٹھیہ (غیرمجاز) کو ووٹ کا حق نہ دیا جائے، کیونکہ وہ انتخابی نتائج کو بدل سکتے ہیں اور جمہوریت میں اعداد و شمار اہم ہوتے ہیں۔‘‘
سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ
اسی روز سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ جن لوگوں کے نام ڈرافٹ ووٹر لسٹ سے خارج کیے گئے ہیں، وہ آن لائن اپیل دائر کر سکتے ہیں، بشرطیکہ وہ آدھار کارڈ یا الیکشن کمیشن کی فہرست میں شامل 11 میں سے کوئی ایک دستاویز پیش کریں۔
سماجی انصاف اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی
سانتیشری پنڈت نے کہا کہ پنچایتی راج، سماجی انصاف اور مساوات کے فروغ میں آئین نے ہمیشہ رہنمائی فراہم کی ہے۔ مساوی مواقع، روزگار اور دیگر سماجی مسائل کے حل کے لیے سپریم کورٹ اور دیگر اداروں نے روشن خیال فیصلے دیے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
طیارہ بینن سے لاگوس کے لیے معمول کے مشن پر روانہ ہوا تھا، اسی دوران…
انڈیا اتحاد کے ارکان پارلیمنٹ نے پارلیمنٹ کے مکر دوار سے مارچ شروع کیا تھا۔…
احتجاج کے دوران انڈیا اتحاد کے لیڈران نے الیکشن کمیشن پر ووٹر لسٹ میں گڑبڑی…
دہلی پولیس نے حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ شیئر کی، جس کے…
عام آدمی پارٹی، ڈی ایم کے اور بی جے ڈی کے انڈیا بلاک کی جانب…
پارلیمنٹ میں وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا تھا کہ اپوزیشن کے کچھ رہنما دعویٰ…