قومی

JNU Controversy: ”نفرت کی تجربہ گاہ نہیں بنے گا جے این یو“، دیر رات نعرے بازی پر انتظامیہ سخت، طلبہ کے خلاف کارروائی کے اشارے

نئی دہلی: جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو) ایک بار پھر تنازع کی زد میں آ گئی ہے۔ دیر رات مبینہ طور پر اشتعال انگیز اور قابلِ اعتراض نعرے لگانے کے معاملے پر یونیورسٹی انتظامیہ نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کیمپس کو کسی بھی صورت نفرت کی تجربہ گاہ نہیں بننے دیا جائے گا۔ انتظامیہ نے کہا ہے کہ اس واقعے میں ملوث طلبہ کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائے گی۔ جے این یو انتظامیہ نے منگل، 6 جنوری کو جاری ایک باضابطہ بیان میں کہا کہ کچھ طلبہ کی جانب سے لگائے گئے نعرے نہ صرف یونیورسٹی کے ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی ہیں بلکہ ان سے تعلیمی ماحول کو نقصان پہنچا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق آزادیِ اظہار کے نام پر نفرت، تشدد یا غیرقانونی سرگرمیوں کو کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔

پورا معاملہ کیا ہے؟
انتظامیہ کی جانب سے دی گئی معلومات کے مطابق، حال ہی میں سپریم کورٹ کی جانب سے عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت کی درخواستیں خارج کیے جانے کے بعد، تقریباً 30 سے 35 طلبہ نے کیمپس میں دیر رات نعرے بازی کی۔ الزام ہے کہ ان نعروں میں اشتعال انگیزی کے ساتھ ساتھ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کے خلاف قابلِ اعتراض الفاظ استعمال کیے گئے، جنہیں سپریم کورٹ کی توہین کے زمرے میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔ اس واقعے کے بعد جے این یو انتظامیہ نے معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے پولیس میں باضابطہ شکایت درج کرائی ہے، تاکہ قانونی پہلوؤں کی بھی جانچ کی جا سکے۔

انتظامیہ کا مؤقف
یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا، ”کسی بھی قسم کی تشدد آمیز، غیرقانونی یا ملک مخالف سرگرمی کو کسی بھی حالت میں برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اس واقعے میں شامل طلبہ کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے گی، جس میں فوری معطلی، اخراج اور یونیورسٹی سے مستقل پابندی تک شامل ہو سکتی ہے“۔ بیان میں مزید کہا گیا، ”یونیورسٹیاں جدت اور نئے خیالات کے مراکز ہوتی ہیں، انہیں نفرت کی تجربہ گاہوں میں تبدیل ہونے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اگرچہ اظہارِ رائے کی آزادی ایک بنیادی حق ہے، لیکن اس کی بھی آئینی حدود ہیں“۔

طلبہ پر معطلی کی تلوار
اس واقعے کے بعد جے این یو کیمپس میں کشیدگی کا ماحول ہے۔ انتظامیہ نے عندیہ دیا ہے کہ ابتدائی جانچ کے بعد قصوروار پائے جانے والے طلبہ کو فوری طور پر معطل کیا جا سکتا ہے۔ سنگین معاملات میں یونیورسٹی سے اخراج اور مستقل پابندی جیسی سخت کارروائی بھی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ کیمپس میں امن، نظم و ضبط اور تعلیمی ماحول کو برقرار رکھنے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گی، تاکہ جے این یو کی شناخت ایک علمی ادارے کے طور پر قائم رہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Sibghatullah

Recent Posts

Global Protests: دنیا بھر میں کیوں بھڑک رہا ہے عوامی غصہ؟ فرانس سے امریکہ تک سڑکوں پر اترے لوگ

عالمی سطح پر مہنگائی، بے روزگاری، رہائش کے بحران اور تعلیم سے متعلق مسائل کے…

40 minutes ago

Amit Shah Punjab Visit: منشیات کے بحران اور انتخابی تیاریوں کے درمیان امت شاہ 20 اکتوبر کو پنجاب کا کریں گے دورہ

منشیات کی اسمگلنگ، منظم جرائم اور آئندہ اسمبلی انتخابات کی تیاریوں کے درمیان مرکزی وزیر…

1 hour ago