پہلگام میں سیاحوں پر دہشت گردانہ حملے کے بعد، جس میں 28 لوگوں کی جانیں گئی ہیں، جموں و کشمیر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن نے الزام لگایا ہے کہ ملک کے مختلف حصوں میں کشمیری طلباء کو ہراساں کیا جا رہا ہے اور ان کے ساتھ بدسلوکی اور ان پر حملہ کیا جا رہا ہے۔ جموں و کشمیر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کے قومی کنوینر ناصر کھیوہامی نے کہا ’’ہمیں دہرادون سے کشمیری طلباء کی طرف سے متعدد تکلیف دہ کالیں موصول ہو رہی ہیں۔ ہندو رکشا دل کی طرف سے جاری کی گئی ایک ویڈیو کے بعد طلباء کو خطرہ اور غیر محفوظ محسوس ہو رہا ہے، جس میں کشمیری مسلم طلبا کو آج صبح 10 بجے تک دہرادون خالی کرنے کی تنبیہ کی گئی ہے‘‘۔
ناصر نے کہا کہ وادی سے باہر تعلیم حاصل کرنے والے کشمیری طلباء کے لیے صورت حال دن بدن سنگین اور گہری تشویشناک ہوتی جا رہی ہے۔ ایسوسی ایشن نے پریشانی میں مبتلا طلباء کی مدد کے لیے ہیلپ لائن نمبر بھی جاری کیے ہیں۔ انھوں نے کہا ’’ہمیں یونیورسل گروپ آف انسٹی ٹیوشنز، ڈیراباسی، چندی گڑھ سے تکلیف دہ کالیں موصول ہوئی ہیں، جہاں رات کے وقت ہاسٹل کے احاطے میں کشمیری طلباء پر حملہ کیا گیا تھا۔‘‘ ناصر کے مطابق کشمیری طلباء نے بتایا کہ مقامی افراد اور دیگر طلباء آدھی رات کو زبردستی ہاسٹل میں داخل ہوئے اور ان پر تیز دھار ہتھیاروں سے حملہ کیا۔ اس حملے میں ایک طالب شدید طور پر زخمی ہوا ہے۔
ہندو رکشا دل کی وائرل ویڈیو کے بعد خوف زدہ ہیں کشمیری طلبا
ناصر کے مطابق پہلگام کے بیسرن میں سیاحوں پر دہشت گردانہ حملے کے بعد کشمیری طلباء پر تشدد کا یہ ساتواں واقعہ ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ایمٹی یونیورسٹی، نوئیڈا میں بھی ایک کشمیری طالب علم کو بے دردی سے پیٹا گیا۔ ایک اور واقعہ میں ہندو رکشا دل اور دیگر عناصر نے دہرادون کے کئی کالجوں کو تحریری دھمکیاں جاری کی ہیں اور مطالبہ کیا ہے کہ کشمیری مسلم طلباء کو ایک مقررہ تاریخ کے اندر اندر وہاں سے نکال دیا جائے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں ہندو رکشا دل کے کارکنوں کو اتراکھنڈ میں کشمیری مسلم طلباپر حملہ کرنے کی دھمکیاں دیتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔ ناصر نے بتایا کہ ’’BFIT کالج سودو والا دہرادون کے بہت سے خوفز دہ کشمیری طلباء، اپنی جان بچانے کے لیے پہلے ہی جولی گرانٹ ہوائی اڈے، دہرادون کی طرف بھاگ چکے ہیں۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’کشمیری طلباء کو ڈرایا جا رہا ہے، انھیں دہشت گرد قرار دیا جا رہا ہے۔‘‘
عمر عبداللہ نے اس حوالے سے ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ سے کی بات
وہیں جموں و کشمیر کے اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کے قومی صدر عمر جمال نے کہا کہ ایسوسی ایشن نے فوری مدد فراہم کرنے اور مقامی حکام کے ساتھ ہم آہنگی کے لیے ایک رسپانس ٹیم قائم کی ہے۔ ان واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ جموں و کشمیر کی حکومت ان ریاستوں کی حکومتوں کے ساتھ رابطے میں ہے جہاں سے یہ رپورٹس آ رہی ہیں۔ انھوں نے کہا ’’میں ان ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ سے بھی رابطے میں ہوں اور ان سے درخواست کی ہے کہ وہ زیادہ خیال رکھیں۔‘‘
بھارت ایکسپریس اردو
پروگرام کے دوران وزیراعظم نے پنجاب کے مالوہ علاقے میں روایتی زرعی طریقوں کو دوبارہ…
یہ پروگرام ہریدوار کی تنظیم دویہ پریم سیوا مشن کے زیر اہتمام منعقد کیا جا…
پورے تنازع کی شروعات قانون ساز کونسل کے انتخابات کے دوران ہوئی۔ اننت سنگھ نے…
اپنی پوسٹ کے آخر میں راہل گاندھی نے بی جے پی پر طنز کرتے ہوئے…
جنوبی بحرالکاہل میں واقع جزیرہ نما ملک وانواتو میں بھی زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس…
رگھو پوری نے کہا کہ توقع کے مطابق پاکستان نے اس پلیٹ فارم کا استعمال…