پٹنہ: جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) کے لیڈر غلام رسول بلیاوی نے اتراکھنڈ مدرسہ بورڈ کو تحلیل کیے جانے پر سخت اعتراض ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے منگل کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کا آئین ہر شہری کو اپنے مذہب کے مطابق زندگی گزارنے کا حق دیتا ہے۔ ہر فرد کو اپنے مذہب کی تبلیغ، اس پر عمل کرنے اور اس سے وابستہ تمام مذہبی روایات کو نبھانے کی مکمل آزادی حاصل ہے۔ ایسے میں اتراکھنڈ مدرسہ بورڈ کو تحلیل کرنا سراسر غلط فیصلہ ہے۔
فیصلے سے اقلیتی برادری میں مایوسی
غلام رسول بلیاوی نے کہا کہ اگر کسی کو یہ گمان ہے کہ مدرسہ بورڈ کو تحلیل کیے جانے سے اقلیتی برادری خوش ہوگی تو یہ ان کی غلط فہمی ہے۔ ان کے مطابق، اگر مدرسہ بورڈ کو ختم کرنے کے بجائے اکثریتی طبقے کے لوگوں کو روزگار فراہم کیا جاتا تو اس سے زیادہ فائدہ ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ مدرسہ بورڈ آئینی ادارہ ہے اور اسے تحلیل کرنا کسی بھی اعتبار سے مناسب نہیں۔
نتیش کمار کے اقدامات کا بھی کیا ذکر
انہوں نے بہار حکومت کی جانب سے مدرسہ بورڈ کے حق میں کیے گئے اقدامات کا بھی ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے اپنے دورِ حکومت میں مدرسہ بورڈ کے دائرۂ کار کو وسعت دینے کے لیے متعدد اقدامات کیے۔ انہوں نے مدارس میں دی جانے والی تعلیم کو عمومی تعلیم کے مساوی بنانے کی کوشش کی تاکہ وہاں سے تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کو روزگار کے بہتر مواقع حاصل ہو سکیں۔
فیصلے کو دیکھ رہا ہے پورا ملک
بلیاوی نے کہا کہ جس انداز میں اتراکھنڈ میں مدرسہ بورڈ کو تحلیل کیا گیا ہے، اس پر پورے ملک کی نظر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی صورتحال کو کسی بھی قیمت پر قبول نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق، مدرسہ بورڈ کا قیام مذہبی تعلیم کے فروغ کے مقصد سے کیا گیا تھا، لیکن اب اسے تحلیل کرنا ایک غلط فیصلہ ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
پی ایم مودی نے کہا کہ ہر جگہ الگ الگ روایات ہیں اور کھانے پینے…
گریٹر نوئیڈا میں منعقد ہونے والا یہ بین الاقوامی ٹریڈ شو محض ایک نمائش نہیں…
دوسرا زمرہ، 50 فیصد فیس معافی: جن خاندانوں کی سالانہ آمدنی 4.1 لاکھ روپے سے…
کانگریس آج ملک بھر میں الیکشن کمیشن کے دفاتر تک احتجاجی مارچ نکالے گی۔ وہیں…
حکام کے مطابق، سڑکوں کے کئی حصے اب بھی متاثر ہیں، جس کی وجہ سے…
بیشتر معاملات میں ووٹروں کا ریکارڈ 2002 میں دہلی میں ہونے والی گزشتہ SIR کی…