نئی دہلی: جاپان کی وزیراعظم سنائے تاکائیچی یکم سے 3 جولائی تک بھارت کے سرکاری دورے پر رہیں گی۔ سفارتی ذرائع کے مطابق اس دورے سے دونوں ممالک کے درمیان سرمایہ کاری، اختراع (انوویشن) اور اقتصادی تعاون کو فروغ ملنے کے ساتھ ساتھ سیمی کنڈکٹر، اہم معدنیات (کریٹیکل منرلز) اور مضبوط سپلائی چین کی تعمیر کی کوششوں کو بھی نئی رفتار ملے گی۔
16ویں ہند-جاپان سالانہ سربراہ اجلاس میں شرکت
سنائے تاکائیچی اپنے دورۂ بھارت کے دوران 16ویں ہند-جاپان سالانہ سربراہ اجلاس میں شرکت کریں گی۔ اس اجلاس میں دونوں ممالک دوطرفہ تعاون کے تمام شعبوں کا جائزہ لیں گے، انہیں مزید مستحکم بنانے پر تبادلۂ خیال کریں گے اور علاقائی و عالمی امور پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کریں گے۔ یہ بھارت کا ان کا پہلا سرکاری دورہ ہوگا۔ اس سے قبل وزیراعظم نریندر مودی نے اگست 2025 میں ٹوکیو کا دورہ کیا تھا، جہاں 15واں ہند-جاپان سالانہ سربراہ اجلاس منعقد ہوا تھا۔ موجودہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان خصوصی تزویراتی اور عالمی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
اقتصادی تعاون اور سپلائی چین مضبوط بنانے پر زور
سفارتی ذرائع کے مطابق اس دورے کا بنیادی مقصد سرمایہ کاری اور اختراع کے ذریعے اقتصادی ترقی کو فروغ دینا ہے۔ اس دوران اقتصادی سلامتی، خاص طور پر سیمی کنڈکٹر، اہم معدنیات اور دیگر حساس شعبوں میں مضبوط سپلائی چین کی تعمیر پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ اس کے علاوہ بحری سلامتی، دفاعی ٹیکنالوجی میں تعاون اور خلیج بنگال کو شمال مشرقی بھارت سے جوڑنے والی صنعتی ویلیو چین کی ترقی بھی مذاکرات کے اہم موضوعات میں شامل ہوگی۔
صاف توانائی اور مصنوعی ذہانت میں نئے معاہدوں کا امکان
ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبے میں تعاون سے متعلق مشترکہ اعلان متوقع ہے۔ اس کے علاوہ اڈیشہ میں بڑے پیمانے پر گرین امونیا منصوبہ، بایو گیس کے شعبے میں تعاون کو وسعت دینے اور POWERR Asia پروگرام کے ذریعے علاقائی استحکام کو فروغ دینے کی تجاویز بھی زیر غور ہیں۔ دورے کے اختتام پر سالانہ سربراہ اجلاس سے متعلق مشترکہ بیان جاری کیے جانے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ توانائی کے شعبے میں استحکام، مصنوعی ذہانت، دواسازی، بیٹریوں اور اہم معدنیات سمیت مختلف شعبوں میں مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر بھی دستخط کیے جا سکتے ہیں۔
ہند-جاپان شراکت داری مزید مضبوط ہوگی
بھارت اور جاپان نے 2014 میں اپنے تعلقات کو خصوصی تزویراتی اور عالمی شراکت داری کی سطح تک بلند کیا تھا۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی کے گزشتہ سال جاپان کے دورے میں آئندہ دہائی کے لیے تعاون کا خاکہ طے کیا گیا تھا، جس میں سلامتی، معیشت، سرمایہ کاری، اختراع اور عوامی روابط کو ترجیح دی گئی۔ ذرائع کے مطابق جاپان کی جانب سے پیش کیے گئے ’’آزاد اور کھلا بحر ہند-بحرالکاہل‘‘ (FOIP) وژن کو آگے بڑھانے میں بھارت ایک ناگزیر شراکت دار ہے اور دونوں ممالک قانون کی حکمرانی پر مبنی بین الاقوامی نظام کے فروغ کے لیے مل کر کام کرنے کے خواہاں ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
تمل ناڈو حکومت نے پیروُنتھلایور کامراج ناشتہ اسکیم کے بہتر نفاذ کے لیے حکام کو…
ساحل کے والد نے صرف استاد کے خلاف ہی نہیں بلکہ فیکلٹی کے سینئر افسران…
اویسی نے حال ہی میں بھوپال میں منعقد اپنے پروگرام کا بھی ذکر کیا۔ وہاں…
واقعے کے بعد سرکاری طبی مرکز میں آگ سے بچاؤ کے انتظامات پر بھی سوال…
پریم سنگھ کے پاس اس وقت تقریباً 6.3 کلوگرام سونا ہے، جسے وہ روزانہ پہن…
ملزمان کی شناخت اور گرفتاری کے لیے دہلی پولیس پارک اور اس کے آس پاس…