قومی

CJP Protest Delhi Police X Action: وزیراعظم اور دیگر لیڈروں سے متعلق مبینہ توہین آمیز پوسٹس پر دہلی پولیس کا سخت مؤقف

جنتر منتر میں ہونے والے مظاہروں کے معاملے پر دہلی پولیس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ کو خط لکھ کر قابلِ اعتراض پوسٹس اور ویڈیوز ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ایسے مواد کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے جن میں آئینی عہدوں پر فائز شخصیات کے خلاف مبینہ طور پر توہین آمیز اور قابلِ اعتراض زبان استعمال کی گئی ہے۔ یہ اقدام سپریم کورٹ کی اس ہدایت کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں عدالت نے کہا تھا کہ جن طلبہ کے خلاف کوئی فوجداری مقدمہ درج نہیں ہے، انہیں رہا کیا جائے۔ اس کے بعد پولیس نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز اور پوسٹس کی جانچ تیز کر دی ہے۔

وزیراعظم اور دیگر لیڈروں کے خلاف قابلِ اعتراض زبان والی ویڈیوز پر کارروائی کا مطالبہ

دہلی پولیس نے ’ایکس‘ کو بھیجے گئے خط میں کہا ہے کہ جنتر منتر احتجاج کے دوران بنائی گئی بعض ویڈیوز اور پوسٹس سوشل میڈیا پر شیئر کی گئیں، جن میں وزیراعظم نریندر مودی، اُس وقت کے وزیرِ تعلیم اور دیگر لیڈروں کے خلاف قابلِ اعتراض الفاظ استعمال کیے گئے۔ پولیس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے ایسی پوسٹس اور ویڈیوز فوری طور پر ہٹانے کی اپیل کی ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس قسم کے مواد سے متعلق تمام ڈیجیٹل ریکارڈ محفوظ رکھا جائے تاکہ ضرورت پڑنے پر انہیں تفتیش میں استعمال کیا جا سکے۔

پوسٹ کرنے والوں کی مکمل ڈیجیٹل معلومات طلب

دہلی پولیس نے ’ایکس‘ سے صرف پوسٹس ہٹانے کا مطالبہ نہیں کیا بلکہ ان اکاؤنٹس کے منتظمین کی تفصیلات بھی طلب کی ہیں جن سے یہ پوسٹس یا ویڈیوز اپ لوڈ کی گئی تھیں۔ پولیس نے صارفین کے نام، پتہ، ای میل آئی ڈی اور دیگر دستیاب معلومات فراہم کرنے کو کہا ہے۔ اس کے علاوہ متعلقہ اکاؤنٹس کے لاگ اِن اور لاگ آؤٹ ریکارڈ، ٹائم اسٹیمپ اور دیگر تکنیکی معلومات بھی مانگی گئی ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ معلومات تفتیشی عمل میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

ڈیجیٹل شواہد محفوظ رکھنے کی ہدایت

دہلی پولیس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے متعلقہ پوسٹس اور ویڈیوز کا ریکارڈ مستقبل کے لیے محفوظ رکھنے کی بھی ہدایت دی ہے۔ اس کے ساتھ بھارتی ثبوت ایکٹ (BSA) کی دفعہ 63(4) کے تحت ڈیجیٹل ریکارڈ سے متعلق سرٹیفکیٹ بھی طلب کیا گیا ہے۔ قابلِ ذکر ہے کہ اس سے قبل 27 جولائی کو بھی دہلی پولیس نے کئی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے قابلِ اعتراض پوسٹس اور ویڈیوز ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا۔ فی الحال پولیس پورے معاملے میں ڈیجیٹل شواہد کا جائزہ لے کر آئندہ کارروائی کی تیاری کر رہی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Adani Foundation: سون بھدر میں اڈانی فاؤنڈیشن اور آئی سی ڈی ایس نے منایا 9واں قومی غذائیت ماہ

اس مہم کے دوران بچوں کی صحت اور ان کی غذائی حالت کا جائزہ لینے…

38 minutes ago

Prime Minister Narendra Modi:وزیر اعظم مودی نے نوراتری کے موقع پر لوگوں کو پیش کی مبارکباد

نوراتری کے دوسرے دن عقیدت مند دیوی کو پھولاور روایتی بھوگ پیش کرتے ہیں اور…

1 hour ago

Virat Kohli Test Retirement: وراٹ کو ریٹائرمنٹ لینے پر مجبور کیا گیا، اجیت اگرکر پر سنگین الزامات

گزشتہ سال وراٹ کوہلی کی ریڈ بال سے پریکٹس کرتے ہوئے کئی ویڈیوز سامنے آئی…

2 hours ago

CJP Protest Again: سی جے پی پھر کرے گی احتجاج؟ آشوتوش رنکا کا اعلان، بولے- دہلی پولیس کے پاس 24 گھنٹے کا وقت

سی جے پی کے بانی ابھجیت دیپکے نے وزیر اعظم نریندر مودی پر تنقید کرتے…

3 hours ago