بھارت ایکسپریس اردو۔
مولانا ارشد مدنی نے سیکولر پارٹیوں کی افطار پارٹی اور عید ملن کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا ہے۔
جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے کہا ہے کہ خود کو سیکولر کہنے والے وہ لوگ، جو مسلمانوں پر ہورہے مظالم اور نا انصافی پرخاموش ہیں اورموجودہ حکومت کا حصہ بنے ہوئے ہیں، ان کے خلاف جمعیۃ علماء ہند نے علامتی احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جمعیۃ علماء ہند کے قومی صدر مولانا سید ارشد مدنی نے کہا ہے کہ ہماری تنظیم ایسے لوگوں کے کسی بھی پروگرام اور تقریبات میں حصہ نہیں لے گی، چاہے وہ افطار پارٹی ہو، عید ملن تقریب ہو یا دیگرکوئی بھی تقریب ہو۔
مولانا سید ارشد مدنی نے کہا کہ ملک میں اس وقت جس طرح کے حالات ہیں اور خاص طورپر اقلیتوں، خصوصی طور پر مسلمانوں کے ساتھ جو نا انصافی اور ظلم کیا جا رہا ہے، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ مگر یہ بے حد بدقسمتی کی بات ہے کہ خود کو سیکولر اور مسلمانوں کا ہمدرد کہنے والے لیڈ جن کی سیاسی کامیابی میں مسلمانوں کا بھی تعاون رہا ہے، وہ اقتدار کے لالچ میں نہ صرف خاموش ہیں بلکہ براہ راست نا انصافی کی حمایت بھی کررہے ہیں۔
فساد کراکر مسلمانوں کو بنایا جا رہا ہے نشانہ
انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو حاشیے پر دھکیلنے کی منصوبہ بند سازشیں ہو رہی ہیں۔ مذہبی جذبات بھڑکائے جا رہے ہیں۔ مذہبی مقامات کو تنازعہ میں گھسیٹا جا رہا ہے۔ فسادات کراکر حکومت کی طرف سے مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان حادثات پر بھی یہ مبینہ سیکولرلیڈران آنکھیں بند کئے ہیں۔ انہوں نے بہارکے وزیراعلیٰ نتیش کمار، آندھرا پردیش کے وزیراعلیٰ چندرا بابو نائیڈو اور مرکزی وزیر چراغ پاسوان جیسے لیڈران کی تنقید کی اور ایک طرح سے ان کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے لیڈر اقتدار کی خاطر نہ صرف مسلمانوں کے خلاف ہورہی نا انصافی کو نظرانداز کررہے ہیں بلکہ ملک کے آئین اور جمہوری اقدار کو بھی نظرانداز کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقف ترمیمی بل 2024 پر ان لیڈران کے رویے سے ان کا دوہرا چہرہ اور کردار اجاگرہوگیا ہے۔ یہ لیڈر صرف مسلمانوں کے ووٹ حاصل کرنے کے لئے دکھاوے کا سیکولرازم اپناتے ہیں، لیکن اقتدارمیں آنے کے بعد مسلم طبقے کے موضوعات اورایشوز کو پوری طرح سے بھلا دیتے ہیں۔
جمعیۃ علماء ہند نے کیا یہ بڑا فیصلہ
اسی کے پیش نظر جمعیۃ علماء ہند نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ ایسے لیڈران کی تقریبات میں شامل ہوکر ان کی پالیسیوں کو درست ٹھہرانے میں تعاون نہیں دے گی۔ انہوں نے ملک کی دیگرمسلم ت نظیموں اور اداروں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ بھی اس علامتی مخالفت میں شامل ہوں اوران لیڈران کی افطار پارٹیوں اور عید ملن جیسی تقریبات میں حصہ لینے سے پرہیز کریں۔ جب ملک میں نفرت اور نا انصافی کا ماحول پنپ رہا ہے، تب ان لیڈران نے خاموشی اختیار کرکے اصلی چہرے کو بے نقاب کردیا ہے۔ جمعیۃ علماء ہند نے ملک بھرمیں آئین بچاؤکانفرنس کا انعقاد کرکے ان لیڈران کو اجاگر کرنے کی کوشش کی، لیکن اس کا بھی ان پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ مولانا سید ارشد مدنی نے واضح طورپرکہا کہ جب یہ لیڈران ہمارے دکھ درد سے کوئی سروکار نہیں رکھتے تو ہمیں بھی ان سے کسی طرح کی امید نہیں رکھنی چاہئے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
کیرالہ کے سابق چیف سیکریٹری جیجی تھامسن کے دعوے کے بعد کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل…
سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی مجوزہ عوامی ریلی سے قبل سیاسی کشیدگی دیکھنے کو…
ریاستی دارالحکومت لکھنؤ میں آندھی اور بارش نے کئی برسوں کے ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔…
کانگریس رکن پارلیمنٹ نے کہا- ہم اپنی پارٹی کے وفادار ہیں، اتحاد پر فیصلہ پارٹی…
چیف الیکشن کمشنر (CEC) گیانیش کمار سے متعلق جاری تنازع کے درمیان الیکشن کمیشن نے…
سری گرو گرنتھ صاحب بھون میں منعقدہ سیمینار میں دانشوروں، قانون دانوں، مذہبی و سماجی…