جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر پروفیسر سلیم انجینئر۔
نئی دہلی: جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر پروفیسر سلیم انجینئر نے جنتر منتر کے قریب احتجاج کرنے والے طلبا اورنوجوانوں پرپولیس کارروائی کی سخت مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن مظاہرین پرلاٹھی چارج، آنسو گیس کا استعمال اوراحتجاج کرنے والوں کی گرفتاری آئینی حقوق اوراظہاررائے کی آزادی کے سخت منافی ہے۔
میڈیا کے لیے جاری اپنے بیان میں پروفیسرسلیم انجینئرنے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ پرامن احتجاج کرنے والوں سے بات چیت کے بجائے انھیں پولیس کی جارحانہ کارروائی کانشانہ بنایا گیا۔ ایک جمہوری حکومت کوچاہئے کہ وہ اپنے نوجوانوں کی آوازکا جواب ہمدردی اورمذاکرات سے دے، نہ کہ رکاوٹیں کھڑی کرکے، آنسوگیس، لاٹھی چارج اوراجتماعی گرفتاریوں کے ذریعہ ان کی آوازکودبانے کی کوشش کرے۔ انہوں نے کہا کہ طلبا اورعام شہریوں پرطاقت کا استعمال ایک نہایت افسوسناک قدم ہے، جوجمہوری اداروں پرعوام کے اعتماد کوکمزورکرنے کا سبب بن سکتا ہے۔
جماعت اسلامی ہند نے نوجوان نسل کے حوصلے کو سراہا
نوجوان نسل کے عزم وحوصلے کوسراہتے ہوئے پروفیسرانجینیئرسلیم نے کہا کہ احتجاج میں ہزاروں نوجوانوں کی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ ہندوستان کا نوجوان اپنے تعلیمی مستقبل کے بارے میں سنجیدہ اور پُرعزم ہے۔ شفافیت، انصاف اورجوابدہی کے لیے ان کی جدوجہد قابلِ ستائش ہے۔ یہ بات بھی حو صلہ افزا ہے کہ نوجوان سماج سے لاتعلقی اختیار کرنے کے بجائے جمہوری طریقے سے عوامی مسائل میں اپنا سرگرم کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم تمام مظاہرین سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنے احتجاج کوہرحال میں پُرامن بنائے رکھیں، ضبط وتحمل کا مظاہرہ کریں اورنظم و ضبط اور عدم تشدد کے اعلیٰ ترین اصولوں کی پابندی کریں۔ کیونکہ پُرامن اور اصولی تحریکیں زیادہ اخلاقی قوت اورعوامی حمایت حاصل کرتی ہیں۔
مرکزی حکومت سے انجینئر سلیم نے کیا بڑا مطالبہ
پروفیسرسلیم انجینئرنے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر احتجاج کرنے والے طلبہ کے نمائندوں سے مذاکرات کا آغاز کرے، پولیس کی زیادتیوں کی تحقیقات کرائی جائے اور طاقت کا بے جا استعمال کرنے والے پولیس افسران کے خلاف کارروائی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ایسی تعلیمی اصلاحات نافذ کرے جو امتحانی نظام پر عوام کے اعتماد کی بحالی کا ذریعہ بنے۔
جماعت اسلامی ہند کا یکجہتی کا اظہار
انہوں نے معاشرے کے تمام طبقات سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی انصاف ایک سماجی مسئلہ ہے۔ جماعت اسلامی ہند طلبہ، والدین، اساتذہ اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کی اس جدو جہد میں ان کے ساتھ اپنی مکمل یکجہتی کا اظہارکرتی ہے، جس کا مقصد تعلیمی نظام کو بدعنوانیوں سے پاک کرکے ایک بہتر اور قابلِ اعتماد نظام کی تعمیر ہے۔ ہم ارکانِ پارلیمنٹ، اپوزیشن جماعتوں اور تمام باشعور شہریوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ طلبہ کے جائز مطالبات اور امنگوں کی بھرپور حمایت کریں اور مل کر ایسا تعلیمی نظام کو تشکیل دیں جو انصاف، دیانت داری اور مساوی مواقع کی بنیاد پر قائم ہو۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک کا مستقبل اس اعتماد پر منحصر ہے جو نوجوان اپنے اداروں پر رکھتے ہیں اور یہ اعتماد صرف انصاف، جوابدہی اور بامعنی اصلاحات کے ذریعے ہی بحال کیا جا سکتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو-
تقریباً 16 سال بعد اس مقابلے میں ہندوستان کو ملا تمغہ، سیما کماری نے 32:50.05…
معروف اداکار مشتاق خان 24 ستمبر کو ممبئی میں انتقال کر گئے۔ ممبئی کے ناناوتی…
کم عمری کی شادی جیسے سماجی مسئلے پر بننے والے مقبول ٹی وی سیریل نے…
بی جے پی کی 4 یاترائیں 117 اسمبلی حلقوں سے گزرتے ہوئے جالندھر میں ہوں…
بہار قانون ساز کونسل انتخابات کے لیے جن سوراج نے 3 امیدواروں کے ناموں کا…
نئی دہلی کے تین مورتی حائفہ چوک پر حائفہ فتح کی 108ویں سالانہ یادگاری تقریب…