نئی دہلی: پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس 2026 کے دوسرے دن منگل (21 جولائی) کوطلبا پرلاٹھی چارج کے معاملے پرلوک سبھا اورراجیہ سبھا دونوں ایوانوں میں زبردست ہنگامہ ہوا۔ ہنگامے کے بعد دونوں ایوانوں کی کارروائی دوپہر2 بجے تک ملتوی کردی گئی۔ اپوزیشن پارٹیاں پیپرلیک کے مسئلے پربحث کرانے کا مطالبہ کررہی تھیں۔ لوک سبھا کی کارروائی شروع ہوتے ہی اپوزیشن کے اراکین پارلیمنٹ نے نعرے بازی شروع کردی، جس کے باعث ایوان میں شورشرابہ بڑھ گیا۔ راجیہ سبھا میں بھی اسی طرح کا منظردیکھنے کوملا۔
کانگریس کے قومی صدراورراجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر(قائدِ حزبِ اختلاف) ملیکارجن کھڑگے نے حکومت پرالزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کوایوان میں بولنے نہیں دیا جا رہا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کا مائیک بند کردیا گیا۔ انہوں نے ایوان میں کہا کہ ملک بھرکے ہزاروں طلبا پیپرلیک کے خلاف آوازاٹھا رہے ہیں، لیکن حکومت نے ان پرلاٹھی چارج کرایا، انہیں مارا پیٹا گیا اوران پرآنسو گیس کے گولے داغے گئے۔ انہوں نے اس واقعہ کوانتہائی قابلِ مذمت قراردیتے ہوئے کہا کہ جمہوریت کوختم کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم اس ناانصافی اورظلم کے خلاف حکومت سے ایوان میں بحث چاہتے تھے، لیکن ایک لفظ بولتے ہی مائیک بند کردیا گیا۔ کیا یہی جمہوریت ہے؟ اگرحکومت اپوزیشن کی بات سننے کوتیارنہیں، توپھرہم اپنی آوازکہاں اٹھائیں؟
हमारे देश के हजारों छात्र पेपर लीक के खिलाफ आवाज उठा रहे हैं।
लेकिन इस सरकार ने उनके ऊपर लाठीचार्ज करवाया।
उन्हें मारा-पीटा गया और उनके ऊपर आंसू गैस के गोले दागे गए।
ये बहुत ही निंदनीय घटना है। pic.twitter.com/u2A5vH83ME
— Mallikarjun Kharge (@kharge) July 21, 2026
طلبا پرلاٹھی چارج کئے جانے پراپوزیشن کا سوال
کانگریس صدرنے مطالبہ کیا کہ اس معاملے پرپارلیمنٹ میں تفصیلی بحث ہونی چاہئے اوروزیرِداخلہ اس پربیان دیں، لیکن حکومت نے اپوزیشن کوبولنے کا موقع نہیں دیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ احتجاج کرنے والے طلبا پرلاٹھی چارج کیوں کیا گیا اورانہیں کیوں مارا پیٹا گیا؟ ان کے مطابق اگرایسے اہم مسائل پرپارلیمنٹ میں بھی بات نہ ہوسکے، توپھرجمہوری نظام کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے۔ انہوں نے حکومت پرالزام لگایا کہ وہ خود افراتفری پیدا کررہی ہے اورلوگوں کواس طرح کے حالات کی طرف دھکیل رہی ہے تاکہ ان پرسخت کارروائی کی جا سکے۔
اپوزیشن اراکین کوایوان سے باہرنہیں جانے دیا گیا: کھڑگے
ملیکا ارجن کھڑگے نے دعویٰ کیا کہ اپوزیشن کوگزشتہ روزبھی ان مسائل پربات کرنے کا موقع نہیں دیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اپوزیشن اراکین کوایوان سے باہرجانے تک نہیں دیا گیا اورانہیں جیل کی طرح اندررکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک افراتفری کی طرف بڑھ رہا ہے اوروزیراعظم نریندرمودی اوروزیرداخلہ امت شاہ اس صورتِ حال کوقابومیں لانے میں دلچسپی نہیں دکھا رہے۔ کانگریس نے حکومت کے اس رویے کی سخت مذمت کی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو-
547 مقدمات درج، 182 کروڑ روپے سے زائد کی منشیات ضبط ہوئی ہیں اور منشیات…
راہل گاندھی کی حامی نیہا بورا نے کہا کہ ’بنگلہ دیش نے ہمیں ایک راستہ…
آئی ٹی سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کے چیئرمین نے کہا کہ بھارت تجارتی یا سوشل…
وزیر اعظم نریندر مودی کی عوامی زندگی اور حکمرانی کے 25 سال مکمل ہونے پر…
ویسٹ انڈیز کے خلاف چوتھے ٹی 20 میں ایک چھکا لگاتے ہی ابھیشیک شرما نے…
کانگریس لیڈر نے صدر دروپدی مرمو سے دشیانت گوتم کی تقرری پر دوبارہ غور کرنے…