نئی دہلی: عالمی یومِ ماحولیات کے موقع پر جماعت اسلامی ہند کے شعبۂ خواتین کی جانب سے’’ماحولیاتی بحران: اخلاقی ذمہ داریوں کا امتحان‘‘ کے عنوان سے ایک آن لائن قومی مباحثے کا انعقاد کیا گیا۔ اس پروگرام میں ماہرین ماحولیات، اساتذۂ کرام، سماجی کارکنان اورماحولیات کے تحفظ کے لیے سرگرم کارکنان نے شرکت کی۔ مباحثے میں انسانیت کودرپیش ماحولیاتی چیلنجز اوران سے نمٹنے کے لئے اخلاقی ذمہ داریوں پرتبادلۂ خیال کیا گیا۔ اپنے صدارتی خطاب میں جماعت اسلامی ہند کی قومی سکریٹری رحمت النساء اے نے کہا کہ ماحولیات کا تحفظ بنیادی طور پرایک اخلاقی اور روحانی فریضہ ہے۔
انہوں نے مہاتما گاندھی کے اس مشہور قول کا حوالہ دیا کہ ’’زمین ہرانسان کی ضرورت پوری کرنے کے لئے کافی وسائل فراہم کرتی ہے، لیکن ہر انسان کی لالچ پوری کرنے کے لئے نہیں ہے۔‘‘ انہوں نے ماحولیات کوایک ’امانت‘ قراردیا، جوقدرت کی طرف سے انسانوں کو سپرد کی گئی ہے۔ اسلام کے تصورِ خلافت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انسان زمین پر اللہ کا نائب ہے اوراسے زمین پر توازن اورانصاف کو برقراررکھنے کا جواب دہ بنایا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ماحولیاتی تباہی سماجی انصاف کا بھی مسئلہ ہے، کیونکہ مراعات یافتہ طبقے کی حد سے زیادہ کھپت کا سب سے زیادہ بوجھ غریب اور پسماندہ طبقات پر پڑتا ہے۔ پائیدار ترقی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے رحمت النسا اے نے ذمہ دارانہ طرزِ زندگی اپنا نے ، قدرتی وسائل تک سب کی پہنچ اور منصفانہ طریقے سے سب کے لئے زمین کو قابلِ رہائش بنانے کی اپیل کی۔
ماحولیاتی بحران سب کے لئے ایک اخلاقی آئینہ: سمیہ مریم
افتتاحی خطاب میں جماعت اسلامی ہند کی قومی اسسٹنٹ سیکریٹری سمیہ مریم نے ماحولیاتی بحران سب کے لئے ایک ’’اخلاقی آئینہ‘‘ قراردیا، جوموجودہ معاشرے کی اقدارکی عکاسی کرتا ہے۔ دنیا کے مختلف خطوں میں آنے والے حالیہ سیلاب اورکینیڈا میں لگنے والی تباہ کن جنگلاتی آگ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی بگاڑکا تعلق انسانی رویوں اورغیرپائیدارطرزِ زندگی سے ہے۔ انہوں نے سائنسی اورتکنیکی اقدامات کی اہمیت کوتسلیم کرتے ہوئے اس بات پرزوردیا کہ دیرپا حل کے لیے اخلاقی شعوراورانسانی رویّوں میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔
سماجی بشریات کی ماہرڈاکٹرمنجونے منفی اثرات کو اجاگرکیا
کیرالہ سے تعلق رکھنے والی سماجی بشریات کی ماہرڈاکٹرمنجو جے منوج نے موسمیاتی تبدیلیوں کے کمزوراورپسماندہ طبقات، بالخصوص ماہی گیری اور جنگلاتی وسائل پرانحصارکرنے والی برادریوں پرپڑنے والے منفی اثرات کواجاگرکیا۔ انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی بحران اکثر پہلے سے موجود سماجی اورمعاشی ناہمواریوں میں مزید اضافہ کردیتا ہے۔ مباحثے میں حصہ لیتے ہوئے معروف موسمیاتی محقق چترا گنگوانی نے چھوٹے شہروں اورقصبوں کودرپیش بڑھتے ہوئے چیلنجز، خاص طورپرپانی کی قلت، موسمیاتی آفات اورناکافی بحالی کے نظام پرروشنی ڈالی۔ انہوں نے ٹیئر-2 اور ٹیئر-3 شہروں میں موسمیاتی لچک پیدا کرنے کے لیے مضبوط مالی اورادارہ جاتی ڈھانچوں کی فوری ضرورت پرزوردیا۔
پائیداراورفطرت دوست تعمیراتی طریقوں پرزور
گوا سے تعلق رکھنے والی ماہرِماحولیات اورآرکیٹیکٹ تلولا ڈی سلوا نے ترقی کے ان مروجہ ماڈلزپرتنقید کی جوسیمنٹ اورکنکریٹ کے بیجا استعمال کوفروغ دیتے ہیں۔ انہوں نے پائیدار اورفطرت دوست تعمیراتی طریقوں پرزوردیتے ہوئے ماحول سے ہم آہنگ تعمیراتی روایات کو فروغ دینے کی بات کہی۔ انہوں نے حد سے زیادہ کھپت کو’’نسل درنسل نوآبادیات‘‘ قراردیا، جو آنے والی نسلوں کے حقوق اوران کی ترقی کومتاثرکررہی ہے۔
ماحولیات کا تحفظ صرف ترقیاتی ضرورت نہیں: مقررین
احمد آباد کی سماجی کارکن اوررینگنے والے جانوروں کی محافظ سمیہ حسیب شیخ نے علامتی ماحولیاتی مہم اورتشہیری سرگرمیوں سے آگے بڑھ کرحقیقی عوامی رابطوں اورپائیدارتبدیلی کی ضرورت پرزوردیا۔ اس کی تائید کرتے ہوئے چھتیس گڑھ کی معلمہ فخرہ تبسم نے ابتدائی سطح پرموسمیاتی تعلیم کی اہمیت کواجاگرکیا اورکہا کہ کچرے کی درجہ بندی، وسائل کے تحفظ اور شجرکاری جیسی روزمرہ کی عادتیں پائیدار تبدیلی کے لیے نہایت ضروری ہیں۔ سمپوزیم کا اختتام ’’سبزضمیر‘‘ (Green Conscience) کی تشکیل کے پُرزورمطالبے کے ساتھ ہوا، جو اخلاقی اقدار، ذمہ دارانہ طرزِزندگی اوراجتماعی عمل پرمبنی ہو۔ مقررین نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ ماحولیات کا تحفظ صرف ترقیاتی ضرورت ہی نہیں بلکہ موجودہ اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک اخلاقی فریضہ بھی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو-
پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیڈر کیپٹن…
آئچی-ناگویا ایشین گیمز 2026 میں بھارتی ایتھلیٹس نے ٹریک اینڈ فیلڈ میں دو سلور اور…
وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…
انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب میں ایرانی صدر نے امریکہ…
آئی بی سی کے ذریعے ممبئی کے ٹیک ٹین بی کے سی اور بھارت نگر…