نئی دہلی: جماعت اسلامی ہند کے مرکزمیں منعقد ہونے والی پریس کانفرنس میں جماعت اسلامی کے سینئررہنماؤں نے امریکہ-ایران امن معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے ۔ جبکہ ملک کے مختلف حصوں میں جاری انہدامی کارروائیوں، راجیہ سبھا انتخابات کی شفافیت اورمغربی بنگال میں انتخابات کے بعد کی صورت حال پراپنی گہری تشویش ظاہرکی ہے۔ میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے جماعت اسلامی ہند کے نائب امیرملک معتصم خان نے دہلی میں جاری انہدامی کارروائیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائیاں قانونی تقاضوں اوربازآبادکاری کے منصوبوں کے بغیرانجام دی جا رہی ہیں۔ انہوں نے ان اقدامات کوانتہائی غیرانسانی قراردیتے ہوئے کہا کہ یہ بنیادی حقوق اورانسانی وقارکی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
ملک معتصم خان نے کہا کہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران دہلی، باندرہ، فرید آباد، ویرم گام (گجرات)، گورے گاؤں (مہاراشٹر)، وارانسی، سنبھل، جے پور، بھائیندر، پی سی ایم سی اوراٹاوہ میں بڑے پیمانے پرانہدامی کارروائیاں کی گئیں ہیں۔ پمپری چنچواڑمیں حکام نے متعدد مذہبی مقامات کونوٹس جاری کی اوررات کے وقت کارروائی کرتے ہوئے کئی عمارتوں کومنہدم کردیا۔ سورت کے ناصرنگرمیں تین دن کے دوران 106 مکانات گرائے گئے، جبکہ جے پورمیں سڑک کی توسیع کے نام پرنورانی مسجد کوشہید کردیا گیا۔
جماعت اسلامی ہند نے سپریم کورٹ کی ہدایات کا دیا حوالہ
انہوں نے مزید کہا کہ متاثرہ خاندان بڑی تعداد میں بے گھرہوچکے ہیں۔ ان کی بازآبادکاری کے حوالے سے حکومت نے ابھی تک کوئی واضح پالیسی نہیں بنائی ہے ۔ شدید گرمی کے دوران انہدامی کارروائیوں نے لوگوں کی مشکلات میں اضافہ کردیا کیا ہے، جبکہ آنے والا مانسون اس صورت حال کومزید سنگین بنا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں سپریم کورٹ کی واضح ہدایت موجود ہے کہ مناسب بازآبادکاری کے بغیر بے دخلی کی کارروائیاں نہیں کی جانی چاہئیں۔ ملک معتصم خان نے مطالبہ کیا کہ حکومت اورمتعلقہ حکام فوری طورپرانہدامی کارروائیوں کو روکیں اور ملک کے ہرشہری کے لیے باوقارزندگی کویقینی بنائیں۔
امریکہ-ایران معاہدے کا جماعت اسلامی نے کیا خیرمقدم
اس موقع پرامریکہ ایران امن معاہدے پراظہارخیال کرتے ہوئے جماعت اسلامی ہند کے نائب امیرپروفیسرسلیم انجینئرنے کہا کہ جماعت اسلامی ہند حال امریکہ اورایران کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے کا خیرمقدم کرتی ہے اورامید کرتی ہے کہ اس کے طے شدہ نکات پرمتعلقہ فریق مکمل دیانت داری کے ساتھ عمل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے جاری کشیدگی کے پیش نظریہ معاہدہ تنازعات میں کمی اورخطے میں استحکام کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔
ثالثی کرنے والے ممالک پرانجینئرسلیم نے دیا زور
انہوں نے مزید کہا کہ ہم توقع کرتے ہیں کہ ثالثی کرنے والے ممالک اوربین الاقوامی برادری اس بات کویقینی بنائیں گے کہ معاہدے کی خلاف ورزی نہ ہونے پائے۔ اگرکوئی فریق خلاف ورزی کا مرتکب ہوتواس کے خلاف مؤثرکارروائی کی جانی چاہئے۔ خواہ اس کی سیاسی، عسکری یا اقتصادی طاقت کچھ بھی ہو۔ اس معاہدے سے معاشی دباؤ میں کمی آنے ، مہنگائی، بے روزگاری اور مالی مشکلات سے متاثرعام لوگوں کو کچھ راحت ملنے کی امید ہے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ہند امید کرتی ہے کہ حکومت ہند امن کے فروغ میں مزید فعال کردار ادا کرے گی۔ ساتھ ہی ہم ایرانی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں اور ان کے حوصلے کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بھی ضروری ہے کہ بین الاقوامی برادری غزہ اور فلسطین میں جاری ناانصافیوں، جنگی جرائم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو نظر انداز نہ کرے۔
راجیہ سبھا کے حالیہ الیکشن سے متعلق جماعت اسلامی ہند کا بڑا سوال
راجیہ سبھا انتخابات کے حوالے سے پروفیسرسلیم انجینئرنے کہا کہ حالیہ رجحانات نے انتخابی عمل کی ساکھ کے بارے میں تشویشناک سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔ ووٹوں کی خرید وفروخت، دولت کے ناجائزاستعمال، اراکینِ اسمبلی کوہراساں کرنے اورکراس ووٹنگ کے الزامات اب ایک حقیقت بن چکے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ منمانے فیصلوں، جانچ پڑتال میں جانبداری اور نامزدگی کے عمل میں شفافیت کے فقدان سے الیکشن کمیشن کی غیرجانبداری پرسنگین شبہات پیدا ہوئے ہیں۔ اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے ایک امیدوارکا راجیہ سبھا کے لیے پرچہ نامزدگی مسترد ہونا، جواپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے، طریقۂ کارکی منصفانہ حیثیت پرسوالیہ نشان لگاتا ہے اورایک خطرناک نظیرقائم کرتا ہے۔
بنگال کی سیاسی صورتحال پر اے پی سی آرکا اظہارتشویش
مغربی بنگال کی صورت حال پراظہارخیال کرتے ہوئے اے پی سی آرکے قومی سکریٹری ندیم خان نے کہا کہ سیاسی وفاداریاں زبردستی تبدیل کرانے، اپوزیشن جماعتوں کوتوڑنے اورسیاسی مخالفین کے خلاف سڑکوں پرتشدد کے متعدد واقعات کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں، جس سے ریاست میں خوف اورجبرکا ماحول پیدا ہورہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مغربی بنگال کے ٹوپسیہ جیسے علاقوں کی صورت حال انتہائی تشویشناک ہے، جہاں انہدامی نوٹسوں کی وجہ سے ہزاروں افراد بے گھر ہونے کے خطرے سے دوچارہیں۔ ایسے اقدامات شفافیت اورقانونی تقاضوں کے حوالے سے سنجیدہ سوالات کوجنم دیتے ہیں۔ اگرکہیں غیرقانونی تعمیرات موجود ہیں توان کے خلاف کارروائی صرف قانون کے مطابق ہونی چاہئے۔ مغربی بنگال میں انہدامی کارروائی کےساتھ سیاسی دباؤاورڈرانے دھمکانے کی اطلاعات اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ وہاں جمہوری عمل کے خلاف ایک خطرناک ماحول پیدا ہورہا ہے۔ جماعت اسلامی ہند کے رہنماؤں نے اجتماعی طورپرسول سوسائٹی، انسانی حقوق کی تنظیموں اورقانونی ماہرین سے اپیل کی کہ وہ ان مسائل کا سنجیدگی سے نوٹس لیں اورمتاثرہ افراد کے ساتھ یکجہتی کا اظہارکریں۔ جماعت اسلامی ہند نے ایک بارپھراس بات کا اعادہ کیا کہ تمام شہریوں کے حقوق، وقاراورسلامتی کا تحفظ ملک کے آئینی اورجمہوری ڈھانچے کوبرقراررکھنے کے لئے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو-
وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں مرکزی کابینہ نے گرین انرجی کوریڈور فیز-III (GEC-III)…
جالندھر میں ’نشہ مکت پنجاب یاترا‘ کے اختتامی پروگرام سے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ…
وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر شری مد…
’انڈیا‘ اتحاد کی ساڑھے تین گھنٹے جاری رہنے والی میٹنگ میں 20 جماعتوں کی شرکت،…
بھارت منڈپم میں منعقدہ پروگرام کے دوران وزیراعظم مودی یو پی ایس سی کی صد…
اس اسکیم کو مالی سال 2032-33 تک قائم کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اس…