جماعت اسلامی ہند نے آپریشن سندور کی حمایت کرتے ہوئے فوج کی تعریف کی ہے۔
نئی دہلی: جماعت اسلامی ہند دہشت گردی کوایک سنگین مسئلہ اورانسانیت کے خلاف بھیانک جرم سمجھتی ہے اورملک اوراس کے عوام کی سلامتی اورامن کے لئے اس کے مکمل خاتمے کوضروری قراردیتی ہے۔ ملک کی مسلح افواج اورسیکیورٹی اداروں نے دہشت گردی کے خلاف جو کاروائی کی ہے، پورا دیش، بلا تفریق مذہب وملت اس میں ان کے ساتھ کھڑا ہے اوران کی تائید کررہا ہے۔
سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ ہم اس موقع پراس بات پربھی زور دینا چاہتے ہیں کہ اس نازک وقت میں ملک کے تمام عوام کو متحد ہوکر اس چیلنج کا مقابلہ کرنا چاہئے۔ ملک کی سلامتی کے سنگین معاملے کوکسی بھی قسم کی تفریق یا فرقہ وارانہ تناویا کشیدگی پیدا کرنے کے لئے استعمال کرنا کسی صورت ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔ ہم تمام سیاسی، سماجی اورمذہبی جماعتوں اور گروہوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ملک کی سالمیت، باہمی اخوت اورفرقہ وارانہ ہم آہنگی کو ہرحال میں برقرار رکھیں اوراتحاد واتفاق کا مظاہرہ کریں۔
ہندوستانی فوج نے دہشت گردانہ ٹھکانوں کو کیا تباہ
ہندوستانی فوج کی افسرکرنل صوفیہ قریشی نے کہا کہ ”آپریشن سندور“ 22 اپریل کوپہلگام میں ہوئے دہشت گردانہ حملے کے شکار لوگوں کو انصاف دلانے کے لئے لانچ کیا گیا۔ اس کارروائی میں 9 دہشت گردانہ ٹھکانوں کوہدف بنایا گیا ہے اورانہیں برباد کیا گیا ہے۔ کرنل صوفیہ قریشی نے کہا کہ ”آپریشن سندور“ کے دوران یہ خیال رکھا گیا کہ بے قصورشہریوں کونقصان نہ پہنچے۔ کرنل صوفیہ قریشی نے کہا کہ مارچ 2025 میں جموں وکشمیرکے چارجوانوں کا قتل کیا گیا تھا۔ انہیں پاکستان کے اندرواقع دہشت گردانہ کیمپ میں ٹرینڈ کیا گیا تھا۔ ممبئی دہشت گردانہ حملے میں شامل دہشت گردوں کے ٹھکانوں کوبھی ہدف بنایا گیا۔ کرنل صوفیہ قریشی نے بتایا کہ مرکزسبحان اللہ جیش محمد کا ہیڈ کوارٹرتھا۔ یہاں دہشت گردوں کوٹریننگ دی جاتی تھی۔ کسی بھی فوجی ٹھکانے کونشان نہیں بنایا گیا اورکسی بھی طرح کی عام شہریوں کا نقصان نہیں ہوا ہے۔
ہندوستان نے دیا پاکستان کو سخت جواب
ہندوستان نے پاکستان کو زبردست جواب دیا ہے اور”آپریشن سندور“ کے تحت ملک کے 9 دہشت گردانہ ٹھکانوں کوتباہ کردیا ہے۔ ہندوستان کے اسی کارروائی کے بعد پاکستان بوکھلا گیا ہے اوراپنی ناپاک حرکتوں کوجاری رکھتے ہوئے ان سے عام ہندوستانیوں کونشانہ بنایا ہے۔ لائن آف کنٹرول (ایل اوسی) پرفائرنگ کی ہے۔ ایل اوسی کے پاس گاؤں پرتوپوں اورمورٹارسے گولی باری کی ہے، جس میں ایک خاتون اور دو بچوں سمیت 7 افراد کی موت ہوگئی ہے جبکہ 38 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ جو سبھی 7 اموات ہوئی ہیں، اس میں سب سے زیادہ متاثرہ پونچھ ضلع میں ہوئی ہین۔ جبکہ 25 دیگرافراد زخمی ہوئے ہیں۔ افسران نے بتایا کہ بارہمولہ ضلع کے اری سیکٹر میں 10 لوگ زخمی ہوئے اور راجوری ضلع میں تین دیگر زخمی ہوئے ہیں۔
مقامی لوگوں کو شبہ تھا کہ یہ نوجوان علاقے میں ہونے والی گائے چوری کی…
پولیس کے مطابق، 2 اکتوبر کو شام 4 بجے سے 7 بجے کے درمیان شیواجی…
اجلاس کے دوران ریاستی حکومت اور مقامی عوامی نمائندوں کی فعال شمولیت پر بھی تفصیلی…
مئی میں دہلی پولیس کی اسپیشل سیل نے سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی…
سوامی پرساد موریہ نے کہا کہ قومی سطح پر کانگریس ہی ایک متبادل ہے، اسی…
ہمنتا بسوا سرما نے اس ملاقات کی ویڈیو اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر شیئر کی ہے۔…