قومی

Jairam Ramesh Takes a Dig at Foreign Policy: خارجہ پالیسی پر جے رام رمیش کا طنز، کہا- چابہار پروجیکٹ کو نیا بتا کر پیش کر رہی ہے بی جے پی حکومت

نئی دہلی: سابق مرکزی وزیر اور کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش نے ایک بار پھر خارجہ پالیسی کے معاملے پر وزیر اعظم نریندر مودیپر تنقید کی ہے اور سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کی تعریف کی ہے۔

جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ 1990 کی دہائی کے آخر میں بھارت نے بھارت–افغانستان–ایران تعاون حکمت عملی کے تحت ایران کے چابہار میں سرمایہ کاری کے امکانات تلاش کرنا شروع کیے تھے۔ بعد میں تہران میں منعقدہ 16ویں غیر وابستہ تحریک کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے بعد منموہن سنگھ نے اس منصوبے کو نئی رفتار دی اور مئی 2013 میں مرکزی کابینہ نے چابہار میں ابتدائی سرمایہ کاری کے لیے 115 ملین ڈالر کی منظوری دی۔ یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ یہ فیصلہ اس وقت لیا گیا جب بھارت اکتوبر 2008 میں طے پانے والے بھارت-امریکہ جوہری معاہدے پر عمل درآمد کے لیے اہم اقدامات کر رہا تھا۔

مودی حکومت پر تنقید

کانگریس لیڈر نے مزید کہا کہ اکتوبر 2014 میں بی جے پی کی قیادت والی حکومت نے اپنی پرانی روایت کے مطابق ڈاکٹر منموہن سنگھ کی چابہار پہل کو نئے انداز میں پیش کیا اور اسے وزیر اعظم نریندر مودی کے وژن کا حصہ بتایا۔ انہوں نے کہا کہ 2026-27 کے بجٹ میں چابہار کے لیے کوئی رقم مختص نہیں کی گئی۔ ان کے مطابق یہ سوال اٹھتا ہے کہ بھارت نے اس منصوبے سے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کر لیا ہے یا پھر اس سے متعلق سرمایہ کاری کی ذمہ داریاں فی الحال مکمل ہو چکی ہیں۔

رمیش نے مزید کہا کہ چابہار بندرگاہ چین کے تعاون سے بننے والی پاکستان کی گوادر پورٹ سے تقریباً 170 کلومیٹر مغرب میں واقع ہے۔ ان کے مطابق یہ بھارت کی وسطی ایشیا سے متعلق سفارتی حکمت عملی کے لیے ایک اور بڑا دھچکا ہے، جو تاجکستان کے شہر دوشنبہ کے قریب عینی میں فضائیہ کے اڈے کی بند کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

سونم وانگچک معاملہ

اس سے قبل 14 مارچ کی رات جے رام رمیش نے ایک اور پوسٹ میں کہا کہ چھ ماہ پہلے کانگریس نے سماجی کارکن سونم وانگچک کے خلاف کارروائی کی مذمت کی تھی۔ اب مودی حکومت نے وانگچک کے خلاف نیشنل سکیورٹی ایکٹ کے تحت کی گئی کارروائی واپس لے کر مکمل یو ٹرن لے لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو نہ صرف وانگچک اور ان کے خاندان بلکہ لداخ کے عوام سے بھی معافی مانگنی چاہیے اور پرامن و جمہوری احتجاج کے دوران حراست میں لیے گئے تمام افراد کو فوری طور پر رہا کرنا چاہیے۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

Aaj Ka Mausam: دہلی-این سی آر میں موسم کا یو ٹرن! رات بھر بارش، درجہ حرارت 6.4 ڈگری گرا، سردی نے دی دستک

بارش کے ساتھ چلنے والی ٹھنڈی ہواؤں نے دہلی-این سی آر کے موسم کا مزاج…

22 minutes ago

JMI Student Union Elections Will Held In 2027: جامعہ ملیہ اسلامیہ میں 2027 میں ہوں گے طلبہ یونین کے انتخابات، یونیورسٹی کا بڑا فیصلہ

طلبہ کی تحریک کے درمیان انتظامیہ نے جاری کیا حکم، 15 مئی 2027 تک طلبہ…

10 hours ago

Indian Shooter Asian Games Gold Medal: راہی سرنوبت: این سی سی سے آغاز، عالمی سطح پر کی تاریخ رقم، ہندوستان کی بنیں گولڈن گرل

36ویں سالگرہ پر ہندوستان کی اسٹار نشانے باز کی متاثر کن کہانی، کامن ویلتھ گیمز،…

10 hours ago

Cuba US Sanctions: کیوبا کے حق میں بھارت کا اہم موقف، امریکی پابندیاں ختم کرنے کی قرارداد کی حمایت میں 130 ممالک نےدیا  ووٹ

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکہ کی اقتصادی اور تجارتی پابندیاں ختم کرنے کی…

11 hours ago

Diljit Dosanjh Concert: دلجیت دوسانجھ کے کنسرٹ کے لیے دہلی میٹرو کی خصوصی تیاری، 30 اکتوبر کو رات 12 بجے تک چلیں گی ٹرینیں

جواہر لعل نہرو اسٹیڈیم میں ’اورا انڈیا ٹور 2026‘ کے دوران 70 ہزار سے زائد…

11 hours ago