قومی

Jagdeep Dhankhar News: سابق نائب صدرجگدیپ دھنکھڑ نے پنشن کے لئے راجستھان اسمبلی میں دی درخواست، 1993 میں کانگریس کے ٹکٹ پرمنتخب ہوئے تھے ایم ایل اے

سابق صدرجمہوریہ جگدیپ دھنکھڑ نے راجستھان اسمبلی میں پنشن کے لئے درخواست دی ہے۔ سابق رکن اسمبلی ہونے کے ناطے انہوں نے اسپیکر واسودیو دیونانی کو پنشن کے لئے درخواست بھیجی۔ اسپیکردیونانی نے ایک پرائیویٹ ٹی وی چینل سے فون پرہوئی بات چیت میں درخواست ملنے کی تصدیق کی۔ انہوں نے کہا کہ ضوابط کے مطابق، فیصلہ لیا جائے گا اور ایوان کو جانکاری بھی دی جائے گی۔

کشن گڑھ سے رکن اسمبلی رہ چکے ہیں جگدیپ دھنکھڑ

جگدیپ دھنکھڑ 1993 میں اجمیرضلع کی کشن گڑھ اسمبلی سیٹ سے کانگریس کے ٹکٹ پررکن اسمبلی منتخب کئے گئے تھے۔ وہ راجستھان کی 10ویں اسمبلی کے رکن تھے۔ سال 1994 سے 1997 تک وہ اسمبلی کی رولز کمیٹی کے رکن بھی تھے۔ آپ کو بتا دیں کہ راجستھان میں سابق رکن اسمبلی کو 35000 روپئے پنشن ملتی ہے۔ 70 سال سے زیادہ عمر کے سابق اراکین اسمبلی کو 20 فیصد زیادہ پنشن دی جاتی ہے۔ جگدیپ دھنکھڑ 74 سال کے ہیں، اس لئے انہیں اب 42 ہزار روپئے پنشن ملے گی۔ اس کے ساتھ ہی بس میں سفر، علاج اور سرکاری گیسٹ ہاؤس میں کم کرایے پر رکنے کی سہولت بھی مل سکے گی۔

جھنجھنو سیٹ سے لوک سبھا رکن پارلیمنٹ بھی رہ چکے ہیں سابق نائب صدر

مغربی بنگال کے گورنر بننے سے پہلے جگدیپ دھنکھڑ 1989 سے 1991 تک راجستھان کے جھنجھنوسیٹ سے لوک سبھا کے رکن بھی رہ چکے ہیں۔ چندرشیکھرکی حکومت میں انہیں پارلیمانی امورکے مرکزی وزیرمملکت کی ذمہ داری بھی ملی تھی۔ سال 2019 سے 2022 تک وہ مغربی بنگال کے گورنر رہے اوراس دوران وہاں کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی کے ساتھ راج بھون کے ٹکراؤ کی خبریں اکثرسامنے آتی تھیں۔ جگدیپ دھنکھڑ 25-2022 تک ہندوستان کے نائب صدرجیسے اہم عہدے پر رہے۔ تاہم 21 جولائی کوانہوں نے صحت وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے نائب صدرعہدے سے استعفیٰ دے دیا، جس کے بعد ملک کی سیاست گرم ہوگئی۔ استعفیٰ کے بعد وہ کسی عوامی پروگرام میں نہیں نظر آئے اورنہ ہی ان کا کوئی بیان سامنے آیا۔

جگدیپ دھنکھڑکے استعفیٰ کے بعد گرم ہوئی سیاست

جگدیپ دھنکھڑنے مانسون سیشن کے دوران استعفیٰ دیا تھا، جس کی وجہ سے سیاست مزید گرم ہوگئی۔ کانگریس کے قومی صدراور راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈرملیکا ارجن کھڑگے نے اس سے متعلق مرکزی حکومت سے سوال پوچھے۔ انہوں نے کہا، “ہمیں تولگتا ہے کہ دال میں کچھ کالا ہے۔ ان کی صحت بہت اچھی ہے، وہ خود سے بھی زیادہ آرایس ایس اور بی جے پی کا بچاؤ کرتے تھے، اتنا توان کے لوگ بھی نہیں کرتے ہوں گے۔ ان کی ان کی وفاداری آرایس ایس اوربی جے پی کے ساتھ تھی۔ انہوں نے جس طرح سے استعفیٰ دیا ہے، اس کے پیچھے کون ہے اوروہ وجوہات ملک کو معلوم ہونی چاہئے۔”

Nisar Ahmad

Recent Posts

Supreme Court Collegium: سپریم کورٹ کالجیم نے 4 ہائی کورٹس کے چیف جسٹس کے لیے ججوں کے ناموں کی سفارش کی

کالجیم کا نظام ججوں کی تقرری اور تبادلوں کی سفارش کرنے میں مرکزی کردار ادا…

21 minutes ago

PM Modi Subhashit: وزیر اعظم مودی نے سنسکرت کا شلوک کیا شیئر ، بتایا چیلنجز کا سامنا کرکے کیسے حاصل ہوتی ہے کامیابی

روزمرہ زندگی میں بھی اس کی مثالیں دیکھی جا سکتی ہیں۔ چاہے ملازمت میں نئی…

49 minutes ago

Supreme Court: بلا ٹھوس وجہ استعفیٰ دینے والے ارکان اسمبلی سے ضمنی انتخاب کا خرچ وصول کرنے کا مطالبہ، سپریم کورٹ کا نوٹس

’انتخابی اخراجات کی ضمانت‘ کا نظام شروع کرنے کی ہدایت دینے کی درخواست کی ہے۔…

2 hours ago

Saudi Arabia bows to the Houthis: حوثیوں کے سامنے سعودی عرب نے گھٹنے ٹیک دیے؟ جنگ روکنے کے لیے 1 بلین ڈالر کی پیشکش

سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور تیل کی تنصیبات پر بڑھتے ہوئے حملوں کے درمیان…

2 hours ago

Prime Minister Narendra Modi: وزیر اعظم مودی اور لیکٹنسٹین کے شہزادے الوئس کی حیدرآباد ہاؤس میں ملاقات

صدر جمہوریہ دروپدی مرمو اور وزیر اعظم نریندر مودی نے ان کا گرمجوشی سے خیرمقدم…

3 hours ago