کانگریس کے رکن پارلیمنٹ سکھدیو بھگت۔
نئی دہلی: کانگریس کے رکن پارلیمنٹ سکھدیو بھگت نے بھارت-امریکہ تجارتی معاہدے کو لے کر سخت سوالات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چاہے معاملہ تجارت کا ہو یا جنگ بندی کا، بھارت سے متعلق اعلانات امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کر رہے ہیں، جو نہایت افسوسناک ہے۔
خبر رساں ایجنسی آئی اے این ایس سے گفتگو کرتے ہوئے سکھدیو بھگت نے کہا، ’’مجھے نہیں لگتا کہ اس پر زیادہ خوش ہونے کی کوئی بات ہے۔ پہلے ہمارا ٹیرف 3 سے 4 فیصد تھا اور اب اگر 18 فیصد ہونے پر خوشی منائی جا رہی ہے تو یہ حیران کن بات ہے۔”
کانگریس رکن پارلیمنٹ نے مزید کہا، ’’یہ افسوسناک ہے کہ چاہے معاملہ تجارت کا ہو یا جنگ بندی کا، بھارت سے متعلق کسی بھی فیصلے کا اعلان امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کر رہے ہیں۔ کیا بھارت کی حکومت نے انہیں اس بات کا اختیار دے دیا ہے کہ وہ تمام اعلانات کریں، یا پھر بھارت اب ایک خودمختار ملک نہیں رہا؟”
انہوں نے کہا کہ ڈونالڈ ٹرمپ اس طرح کے اعلانات کر رہے ہیں اور ہماری حکومت خوش ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق اس سے بڑی ستم ظریفی اور کچھ نہیں ہو سکتی کہ ایک خودمختار ملک سے متعلق فیصلوں کی اطلاع امریکہ کا صدر دے رہا ہو۔
تجارتی معاہدے کے بعد حکومت پر نشانہ
اس سے قبل کانگریس پارٹی نے تجارتی معاہدے کے بعد مرکزی حکومت پر حملہ بولا۔ پارٹی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں لکھا، “جنگ بندی کی طرح تجارتی معاہدے کا اعلان بھی ٹرمپ کی جانب سے کیا گیا۔ بتایا گیا کہ ’حکومت کی درخواست‘ پر یہ تجارتی معاہدہ کیا جا رہا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ بھارت امریکہ کے لیے ٹیرف اور نان ٹیرف رکاوٹوں کو صفر تک کم کرے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے امریکہ کے لیے پورا بازار کھول دیا۔ اس سے بھارتی صنعت کو زبردست نقصان ہوگا۔ یہاں کے تاجر، یہاں کے کسان—سب کا ساتھ چھوڑ دیا گیا ہے۔”
اگر ایسا ہے تو ’میک اِن انڈیا‘ کا کیا ہوگا؟
کانگریس نے سوال اٹھایا، ’’زرعی شعبے کو امریکہ کے لیے کھولنے کی بات کی جا رہی ہے، آخر کیا سودا طے ہوا ہے؟ کیا ہمارے کسانوں کے مفادات کا خیال رکھا گیا ہے یا ان کا ساتھ بھی چھوڑ دیا گیا ہے؟ ہمارے کسانوں کی حفاظت کیسے یقینی بنائی جائے گی؟ یہ بھی کہا گیا ہے کہ مودی روس سے تیل نہیں خریدیں گے اور امریکہ و وینزویلا سے تیل خریدیں گے۔ کیا تجارتی معاہدے میں مودی حکومت روس کا ساتھ چھوڑنے پر راضی ہو گئی ہے؟ اس کے علاوہ امریکہ سے زیادہ سامان خریدنے کی بات بھی کہی گئی ہے۔ اگر ایسا ہے تو ’میک اِن انڈیا‘ کا کیا ہوگا؟”
یہ بھی پڑھیں: ’’بھارت-امریکہ ٹریڈ ڈیل ون-ون نہیں…‘‘، رکن پارلیمنٹ پرینکا چترویدی نے ٹرمپ کی تجارتی ڈیل پر اٹھائے سنگین سوال
کانگریس پارٹی نے یہ بھی کہا کہ تجارتی معاہدے میں کن نکات پر بات ہوئی اور کیا طے پایا، یہ جاننا ملک کا حق ہے۔ حکومت کو اس بارے میں مکمل معلومات ملک اور پارلیمنٹ کے سامنے رکھنی چاہئیں۔
بھارت ایکسپریس۔
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بنگال نشاۃ ثانیہ کے عظیم ستون اور معروف سماجی…
وراٹ کوہلی کو نمبر 3 سے ہٹانا اگرچہ ایک بڑا فیصلہ ہوگا۔ وراٹ کوہلی نے…
آچاریہ پرمود کرشنم نے کہا کہ شری کلکی دھام کی تعمیر کے لیے انہوں نے…
یوزڑ کو ہونے والی پریشانی کم کرنے کے لیے مرکزی حکومت نے سرکاری شعبے کے…
اعداد و شمار کے مطابق 2026 کے صرف 5 ماہ میں پیدا ہونے والا کچرا…
امت شاہ نے ودیا ساگر کی تعلیمی خدمات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں…