سری ہری کوٹا (آندھرا پردیش): بھارتی خلائی تحقیقی تنظیم (اسرو) نے اتوار کے روز بھارتی بحریہ کے جی سیٹ 7 آر (CMS-03) مواصلاتی سیٹلائٹ کو کامیابی کے ساتھ لانچ کر دیا۔ یہ بھارت کا اب تک کا سب سے وزنی مواصلاتی سیٹلائٹ ہے، جسے مکمل طور پر مقامی ٹیکنالوجی سے تیار کیا گیا ہے۔ سیٹلائٹ کا وزن تقریباً 4400 کلوگرام ہے اور اسے آندھرا پردیش کے سری ہری کوٹا میں واقع ستیش دھون اسپیس سینٹر کے دوسرے لانچ پیڈ سے شام 5:26 بجے لانچ کیا گیا۔
وزیراعظم مودی کی مبارکباد
ایکس پر اپنے پیغام میں وزیر اعظم نے کہا کہ ملک کا خلائی شعبہ اب ’کمال اور جدت‘ کا مترادف بن چکا ہے۔ مودی نے لکھا ’’ہمارا اسپیس سیکٹر ہمیں مسلسل فخر کا احساس دلا رہا ہے! ISRO کو بھارت کے سب سے وزنی کمیونی کیشن سیٹلائٹ CMS-03 کی کامیاب لانچنگ پر مبارکباد۔ ہمارے خلائی سائنسدانوں کی محنت سے یہ ممکن ہوا ہے۔ یہ واقعی قابل ستائش ہے کہ بھارت کا خلائی شعبہ کمال اور اختراع (Innovation) کی پہچان بن چکا ہے۔ ان کی کامیابیاں قومی ترقی کو آگے بڑھا رہی ہیں اور لاکھوں زندگیوں کو بااختیار بنا رہی ہیں۔‘‘
بھارتی بحریہ کے لیے جدید خلائی نظام کی مضبوطی
اس سیٹلائٹ سے بھارتی بحریہ کی اسپیس بیسڈ کمیونیکیشن اور میرٹائم ڈومین اویئرنیس کی صلاحیت میں نمایاں بہتری آئے گی۔ بحریہ کے بیان کے مطابق یہ سیٹلائٹ ملک کا سب سے وزنی اور جدید ترین مواصلاتی سیٹلائٹ ہے، جس میں کئی جدید اور خود تیار کردہ پرزے شامل ہیں جو خاص طور پر بحریہ کی آپریشنل ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔
سمندری حدود میں کثیر بینڈ خدمات فراہم کرنے والا سیٹلائٹ
اسرو کے مطابق CMS-03 ایک ملٹی بینڈ کمیونیکیشن سیٹلائٹ ہے جو ہندوستانی سرزمین سمیت وسیع سمندری علاقوں میں خدمات فراہم کرے گا۔ اسے بھارت کے معروف لانچ وہیکل LVM3 کے ذریعے خلا میں بھیجا گیا، وہی راکٹ جس نے چندریان-3 مشن کے تحت بھارت کو چاند کے جنوبی قطب پر کامیابی سے اتارا تھا۔ یہ LVM3 کی پانچویں آپریشنل فلائٹ تھی۔
4400 کلو وزنی سیٹلائٹ کو مدار میں پہنچایا گیا
اسرو کے مطابق CMS-03 بھارت کی سرزمین سے Geosynchronous Transfer Orbit (GTO) میں لانچ کیا جانے والا سب سے وزنی مواصلاتی سیٹلائٹ ہے۔ LVM3-M5 مشن میں آٹھ مختلف مراحل طے کیے گئے، جن میں سیٹلائٹ کو تقریباً 179 کلومیٹر کی بلندی پر 10 کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے راکٹ سے الگ کیا گیا۔ لانچ وہیکل کی اونچائی 43.5 میٹر ہے جبکہ اس کا مجموعی وزن 642 ٹن بتایا گیا ہے۔ یہ راکٹ تین مرحلوں والے پروپلشن سسٹم کے ذریعے سیٹلائٹ کو جی ٹی او مدار میں پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی (UNGA) کے 81 ویں اجلاس کے دوران، وزیر…
گلیشنگ ضلع کے رمبی گاؤں میں دیر رات بڑا لینڈ سلائیڈ، 2 مکانات مکمل طور…
ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس نے تمام ڈسٹرکٹ مجسٹریٹس کو بیک وقت تحریری…
انتخابی کمیشن کے اندر فیصلوں سے متعلق اختلافات کی رپورٹ کے بعد دونوں الیکشن کمشنر…
ملک کے کئی حصوں میں بارش اور تیز ہواؤں نے لوگوں کی مشکلات بڑھا دی…
اپوزیشن کی جانب سے نئے نوٹس کا مسودہ تیار، قانونی ماہرین سے کرائی جا رہی…