قومی

Gadi Eisenkot invited to form a government: اسرائیل میں 19 سال کے بعد بدلے گی نیتن یاہو حکومت، گادی آئزنکوٹ کو نئی حکومت تشکیل دینے کی دعوت

تل ابیب: اسرائیل میں 19 سال بعد نئی حکومت کے قیام کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔ صدر آئزک ہرزوگ نے ہفتہ کو وزیر اعظم نیتن یاہو کے سیاسی حریف اور اعتدال پسند اتحاد کے رہنما گادی آئزنکوٹ کو حکومت بنانے کی دعوت دے دی۔ صدر نے کہا کہ آئزنکوٹ حکومت سازی کی کوشش کرسکتے ہیں۔ تاہم نئی حکومت کی حلف برداری کی تاریخ کا ابھی اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ بنجامن نیتن یاہو گزشتہ 19 برس سے اسرائیل کی سیاست میں اقتدار کا اہم مرکز رہے ہیں اور ان کی قیادت میں لیکوڈ پارٹی کی حکومت قائم تھی۔ اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے انتخابات میں کسی بھی سیاسی جماعت یا اتحاد کو واضح اکثریت حاصل نہیں ہوئی تھی۔ 120 رکنی کنیسٹ (پارلیمنٹ) میں گادی آئزنکوٹ کے اتحاد کو بھی صرف 48 نشستیں ملی تھیں، جبکہ حکومت بنانے کے لیے کم از کم 61 ارکان کی حمایت ضروری تھی۔ بعد ازاں عرب جماعتوں نے آئزنکوٹ کی حمایت کا اعلان کردیا، جس کے بعد ان کے اتحاد کی حمایت کرنے والے ارکان کی تعداد بڑھ کر 67 ہوگئی۔

سیاسی جماعتوں کے نمائندوں سے مشاورت

ایک روز قبل صدر آئزک ہرزوگ نے کہا تھا کہ انہوں نے کنیسٹ کے لیے منتخب ہونے والی سیاسی جماعتوں کے نمائندوں سے ملاقات کرکے حکومت سازی کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا ہے۔ انہوں نے ان مذاکرات کو کھلا، واضح اور عملی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے جماعتوں اور عوام کو روایتی سیاسی طریقوں سے آگے بڑھ کر متبادل راستوں پر غور کرنے کی ترغیب دینے کے لیے کئی اہم سوالات اٹھائے۔ صدر ہرزوگ نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ اتوار کو کنیسٹ کے کسی رکن کو حکومت بنانے کی ذمہ داری سونپیں گے۔ عام طور پر اسرائیل میں صدر اس منتخب رکن کو حکومت سازی کی دعوت دیتے ہیں، جسے سب سے زیادہ سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل ہو۔ ان کے مطابق، انہوں نے مختلف جماعتوں کے رہنماؤں سے براہ راست اور فوری مشاورت کے ذریعے اس معاملے کا فیصلہ کرنے کی کوشش کی، تاکہ اسرائیل کے عوام کو ایک مستحکم اور اچھی حکومت فراہم کرنے کے لیے اتفاق رائے پیدا کیا جاسکے۔

یاشر پارٹی کے سربراہ ہیں گادی آئزنکوٹ

گادی آئزنکوٹ یاشر پارٹی کے سربراہ ہیں۔ ان کی پیدائش شمالی اسرائیل کے شہر تبریاس میں ہوئی تھی۔ ان کے والدین مراکش سے ہجرت کرکے اسرائیل میں آباد ہوئے تھے۔ حالیہ انتخابات میں وہ بنجامن نیتن یاہو کے اہم سیاسی حریف کے طور پر سامنے آئے۔ آئزنکوٹ اسرائیلی فوج کے 21ویں چیف آف جنرل اسٹاف رہ چکے ہیں۔ انہوں نے 2015 سے 2019 تک اس عہدے پر خدمات انجام دیں۔ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد وہ نیتن یاہو کی ہنگامی جنگی کابینہ کا حصہ بھی رہے تھے۔ اس حملے میں ان کا چھوٹا بیٹا بھی مارا گیا تھا۔ حالیہ انتخابات میں ان کی سیاسی اور فوجی خدمات کو خاصی اہمیت دی گئی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

PM Modi praises Maharashtra CM Devendra Fadnavis: مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے کسانوں کے ساتھ منائی دیوالی ، وزیر اعظم مودی نے کی تعریف

وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے اپنی پوسٹ میں لکھا تھا کہ کسانوں کی آنکھوں سے…

25 minutes ago

Union Home Minister Amit Shah: امت شاہ، راجناتھ سنگھ سمیت کئی مرکزی وزراء نے لال کرشن اڈوانی کو سالگرہ کی مبارکباد پیش کی

مرکزی وزیر داخلہ اور امدادِ باہمی کے وزیر امت شاہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم…

1 hour ago

You lost the war and the election too: آپ جنگ بھی ہار گئے اور انتخابات بھی، ایران کے سکیورٹی چیف نے ٹرمپ کا اڑایا مذاق

محسن رضائی نے اپنی پوسٹ کے آخر میں امریکہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا، ’’اگر…

2 hours ago