معروف اسلامک اسکالر اور دہلی اقلیتی کمیشن کے سابق چیئرمین ڈاکٹر ظفر الاسلام خان نے اسلام کو بدنام کرنے والوں کو جواب دیا۔
اسلامی اسکالر، سینئرصحافی، کئی کتابوں کے مصنف اوردہلی اقلیتی کمیشن کے سابق چیئرمین ڈاکٹرظفرالاسلام خان نے دہشت گردی سے متعلق اسلام کے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی معصوم اوربے قصورانسان کا قتل کرنا ہرمذہب میں غلط ہے۔ اسلام توایک بے قصورانسان کے قتل کوانسانیت کا قتل قراردیتا ہے۔ اس لئے پہلگام دہشت گردانہ حملے کی جتنی بھی مذمت کی جائے، وہ بہت کم ہے۔ یہ بہت تکلیف دہ عمل تھا اوربہت گھناؤنا عمل تھا۔
ڈاکٹرظفرالاسلام خان نے کہا کہ اسلام کے نام پرکسی بھی دہشت گردی کونہیں جوڑا جاسکتا۔ اگرکوئی انسان غلط کرتا ہے، تواسلام اس کے لئے ہرگز ذمہ دارنہیں ہے۔ انہوں نے یہ فرسٹیڈ لوگ ہیں، جواس طرح کی حرکتیں کررہے ہیں۔ گولیاں چلاکر کوئی بھی کازحاصل نہیں کیا جاسکتا۔ یہ پوری دنیا میں غلط ہے۔ اس کا کوئی جوازنہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بے قصورکا قتل کرنا اسلام، ہندو مذہب، عیسائی اور کسی مذہب میں نہیں ہے۔ شاید یہودیت میں اس طرح کی باتیں کوجائز قرار دیا جاتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
سی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ تہواروں کے اس اہم کاروباری موسم میں ریلی…
ہند تبت سرحدی پولیس کا قیام 1962 میں ہندوستان اور چین کے درمیان جنگ کے…
دہلی-این سی آر میں بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی کے پیش نظر جمعہ کے روز دہلی…
ہندوستان-تبت سرحدی پولیس ملک کی اہم مرکزی مسلح پولیس فورسز میں سے ایک ہے۔ اس…
ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والی لیٹیشیا جیمز نے 2018 میں پہلی مرتبہ نیویارک کے…
نیوزی لینڈ اے کی جانب سے سائمن کین نے 5 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ جیک…